پرنس فلپ کی موت پر عالمی رہنماؤں کے تعزیتی پیغامات

،تصویر کا ذریعہPA Media
عالمی رہنماؤں کی طرف سے شہزادہ فلپ کی موت پر شاہی خاندان کو تعزیتی پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور یہ رہنما ڈیوک آف ایڈنبرا سے متعلق اپنی یادداشتیں شیئر کر رہے ہیں۔
جمعے کی دوپہر بکنگھم پیلس نے اعلان کیا تھا کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے شوہر پرنس فلپ 99 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔
شہزادہ چارلس نے کہا ہے کہ اُن کے والد کی زندگی ایک ’حیران کُن کامیابی‘ تھی۔
بی بی سی کے ایک پروگرام میں پرنس فلپ کی زندگی پر بات کرتے ہوئے پرنس چارلس نے کہا: ’میری والدہ (ملکہ برطانیہ) کا ساتھ دینے میں اُن کی توانائی حیران کُن تھی، اور ایسا اتنے طویل عرصے تک کرنا، اور غیر معمولی انداز میں کرنا، اتنے عرصے تک یہ کرتے رہنا۔ میرا خیال ہے کہ اُنھوں نے جو کچھ کیا ہے وہ ایک حیران کُن کامیابی ہے۔‘
شہزادی این نے کہا کہ ڈیوک ’ہر کسی سے ایک فرد کی طرح پیش آتے اور اُنھیں وہی احترام دیتے جو اُن کے نزدیک اُن کا بحیثیت ایک فرد حق تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا کہ شہزادہ فلپ نے ’برطانیہ، دولتِ مشترکہ اور دنیا بھر میں کئی نسلوں کی محبتیں حاصل کی ہیں۔‘
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں شہزادہ فلپ کی وفات پر تعزیت کی اور انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے ذہین شخصیت کھوئی ہے جن میں عوامی خدمت کرنے کا اچھوتا جذبہ موجود تھا۔
’پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے شہزادہ فلپ کو ’فوج میں ان کے شاندار کریئر‘ اور ’عوامی خدمت کے کئی اقدامات میں بڑھ چڑھ کر‘ کام کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور خاتونِ اول جِل بائیڈن نے بھی ملکہ برطانیہ، شاہی خاندان اور برطانیہ کے عوام سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ ڈیوک نے ’بخوشی خود کو برطانیہ اور دولتِ مشترکہ کے عوام اور اپنے خاندان کے لیے وقف کر دیا تھا۔‘
اُن کے علاوہ سابق امریکی صدور ڈونلڈ ٹرمپ، باراک اوبامہ اور جارج بش نے بھی تعزیتی پیغامات ارسال کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTIM GRAHAM/PA
سویڈن کے بادشاہ کارل گستاف نے کہا کہ ڈیوک 'سالہا سال سے ہمارے خاندان کے ایک زبردست دوست تھے، ایک ایسا تعلق جس کی ہم نے گہری قدر کی ہے۔'
سویڈش شاہی خاندان کی ترجمان مارگریٹا تھورگرین نے بی بی سی کو بتایا کہ بادشاہ اور ڈیوک آف ایڈنبرا نے انگلینڈ میں ایک ساتھ جہاز رانی کی تھی۔ اُن کے مطابق: 'یہ اُن کے درمیان ایک زبردست دوستی کا آغاز تھا۔'
ڈچ شاہی خاندان نے کہا کہ وہ شہزادہ فلپ کو انتہائی احترام سے یاد رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا: 'اُنھوں نے اپنی طویل زندگی کو برطانیہ کے عوام کی خدمت اور اپنی کئی ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی میں گزار دی۔'
آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے ایک ایسی نسل کو پروان چڑھایا ہے جو ہم پھر کبھی نہیں دیکھ پائیں گے۔ ملک کے سابق رہنما جولیا گلارڈ نے کہا ہے کہ ڈیوک ایک فرض شناس اور حس مزاح رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے۔
بیلجیئم کے کنگ فلپ نے ملکہ کو ایک نجی پیغام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ جب ممکن ہو گا وہ ان سے ملاقات کریں گے۔
مالٹا کے وزیر اعظم رابرٹ ابیلا نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا ہے کہ وہ پرنس فلپ کی موت پر سوگوار ہیں، جنھوں نے مالٹا کو اپنا گھر بنا رکھا تھا اور وہ اکثر یہاں واپس آتے تھے۔ ہمارے لوگ ہمیشہ ان کی یاد کو قیمتی اثاثہ سمجھیں گے۔
لتھوینیا کے صدر گِٹانس نوسیدا نے ملکہ کو اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ انتہائی افسوس کی ان گھڑیوں میرے جذبات اور دعائیں آپ اور برطانیہ کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔









