سلواڈار راموس: امریکہ میں سکول کے 19 بچوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والا حملہ آور کے بارے میں کیا معلوم ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے ایک پرائمری سکول میں منگل کے دن فائرنگ کے واقعے میں 19 بچوں سمیت 21 افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب ایک 18 سالہ مسلح لڑکا سکول کی عمارت میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
حملہ آور کی شناخت سلواڈار راموس کے نام سے ہوئی ہے جو امریکی شہری ہیں اور سین اونٹونیو سے 135 کلومیٹر دور واقع اوالڈے شہر کے رہنے والے تھے۔ یاد رہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی میں سلواڈار بھی مارے گئے تھے۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے کہا ہے کہ بظاہر سکول میں پولیس سے مقابلے کے دوران راموس کی موت ہوئی۔ گورنر کا کہنا تھا کہ حملہ آور کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ہلاک ہونے والے 19 طلبا میں دوسری، تیسری اور چوتھی جماعت کے طالبعلم شامل ہیں جن کی عمریں سات سے دس سال کے درمیان تھیں۔ اس واقعے میں سکول کے دو اساتذہ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPolicía de Texas
سلواڈار راموس نے اس جرم کا ارتکاب کیوں کیا یہ فی الحال واضح نہیں ہے تاہم پولیس کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ سلواڈار نے یہ عمل تن تنہا کیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق نوجوان سلواڈار راموس ایک پک اپ ٹرک چلاتے ہوئے آیا جو ’راب ایلیمنٹری سکول‘ سے چند گز کے فاصلے پر ایک کھائی سے ٹکرایا جس کے بعد راموس ٹرک سے اترا، سکول میں داخل ہوا اور فائرنگ کر دی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیویارک ٹائمز کے مطابق اسکول میں تقریباً 500 طلبا زیر تعلیم ہیں جن میں سے 90 فیصد لاطینی نژاد امریکی ہیں۔ اخبار نے مزید لکھا کہ سکول کے 87 فیصد طلبا کا تعلق پسماندہ خاندانوں سے ہے۔
پولیس کو اس بات کا بھی شبہ ہے کہ گھر سے نکلنے سے پہلے سلواڈار راموس نے اپنی دادی کو بھی گولی ماری، جو اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت خطرے میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جائے وقوعہ پر موت
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے بتایا ہے کہ راموس اوالڈے شہر کا رہائشی تھا اور اس نے متاثرہ پرائمری سکول کے قریب ہی واقع ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔
ٹیکساس ڈیپارٹمنٹ آف پبلک سیفٹی کے سارجنٹ ایرک ایسٹراڈا نے سی این این کو بتایا کہ بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے حملہ آور رائفل لیے سکول میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے پاس ایک ہینڈگن، اے آر 15، اور میگزین تھے۔
اگرچہ پولیس نے ابتدائی طور پر آگاہ کیا تھا کہ حملہ آور ’حراست‘ میں ہے تاہم بعدازاں میڈیا کو آگاہ کیا گیا کہ حملہ آور کی پولیس کے ساتھ مقابلے میں ہلاکت ہو چکی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اطلاع دی ہے کہ سکول میں فائرنگ کے وقت سکول کے قرب و جوار میں امریکی سرحدی گشت محکمے کا ایک اہلکار موجود تھا جو فائرنگ کی آوازیں سن کر سکول میں داخل ہوا اور اس نے بندوق بردار حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مقامی پولیس کے سربراہ پیٹ اریڈونڈو نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’حملہ آور ہلاک ہو چکا ہے اور ہم اس معاملے میں کسی دوسرے فرد یا کسی اور مشتبہ شخص کی تلاش نہیں کر رہے ہیں۔‘
مبینہ طور پر راموس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکاروں کو گولیاں لگیں تاہم حکام نے بتایا کہ ان دونوں کی حالت مستحکم ہے۔
اس معاملے کی تحقیقات سے منسلک ذرائع نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ شوٹر حال ہی میں 18 سال کا ہوا تھا اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔











