ریکارڈ نو بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی لکھپا شیرپا: ’خواتین سے کہوں گی ہار نہ مانیں‘

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
- مصنف, سوامی ناتھن ناتاراجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
کئی لوگوں کا خواب ہے کہ وہ کم از کم ایک مرتبہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر سکیں۔ تاہم لکھپا نامی ایک خاتون شرپا خود اپنے ہی نو بار اس چوٹی کو سر کرنے والے ریکارڈ کو توڑنے جا رہی ہیں اور اب وہ دسویں بار اسے سر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
لکھپا شرپا کی پیدائش ایک غار میں ہوئی تھیں اور انھوں نے کوئی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ کوہ پیما بننے سے قبل انھوں نے محض ایک سہولت کار کے طور پر کام کیا تھا۔ سنگل مدر یعنی اکیلے ہی اپنے بچوں کی پرورش کرنے والی ماں لکھپا دنیا میں کسی بھی اور خاتون سے سب زیادہ بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کر چکی ہیں۔
لکھپا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں پہاڑ سر کرنے کی تاریخ رقم کرنے کے اپنے ہدف کے بہت قریب ہوں۔ اس وقت میں دسویں بار ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی تیاری کر رہی ہوں۔‘
ان کی 15 برس کی بیٹی شنی بھی اس وقت ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ پر موجود ہیں۔ وہ بہت پرجوش ہیں اور اپنی ماں کے ہدف پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔
شنی کا کہنا ہے کہ ‘میں اپنے ماں کی طرف دیکھتی ہوں۔ انھوں نے بہت کچھ حاصل کیا ہے اگرچہ ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔‘
لیکن لکھپا کی محنت اور کامیابیوں کے باوجود ابھی تک وہ امیر نہیں ہیں اور بہت سے لوگوں کے خیال میں انھیں وہ مقام بھی نہیں دیا گیا جس کی کہ وہ مستحق ہیں۔

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
غار میں پیدائش
لکھپا نے سطح سمندر سے 4,000 میٹر سے زیادہ بلند ہمالیائی گاؤں میں اپنی زندگی کے سفر کا آغاز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘میں ایک غار میں پیدا ہوئی تھی۔ مجھے اپنی تاریخ پیدائش بھی نہیں معلوم۔‘ ایک قہقے کے ساتھ وہ کہتی ہیں کہ ‘میرے پاسپورٹ کے مطابق میں 48 برس کی ہوں۔‘
لکھپا کا تعلق شرپا نسلی گروہ سے ہے، جو خانہ بدوش تبتین ہیں۔ شرپا لوگ خطرناک بلندیوں پر رہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں تھی
لکھپا کہتی ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ مجھے گھنٹوں پیدل چلنا پڑتا تھا، کبھی کبھی اپنے بھائیوں کو سکول لے جاتی تھی، جب میں وہاں پہنچتی تھی تو مجھے واپس جانا پڑتا تھا۔ اس وقت لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت ہی نہیں تھی۔‘
مشرقی نیپال کے مکالو علاقے میں واقع اس کے گاؤں کا بنیادی انحصار زراعت پر ہے۔ اس گاؤں میں نہ کوئی بجلی تھی اور نہ سکول۔ تاہم اس گاؤں میں ایک جادوئی کیفیت ضرور موجود تھی جس نے انھیں اپنے سحر میں لیا۔

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
ان کے مطابق ‘میں ایورسٹ کے بالکل قریب پلی بڑھی ہوں۔ میں اسے اپنے گھر سے دیکھ سکتی تھی۔ ایورسٹ مجھے متاثر کرتی ہے اور جوش دلاتی ہے۔‘
سنہ 1953 میں ماؤنٹ ایورسٹ کی پہلی فتح کے بعد سے ہر سال زیادہ سے زیادہ لوگوں نے چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ لازمی طور پر شرپا گائیڈز اور پورٹرز کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
کچھ شرپاؤ کی طرح لکھپا بھی محض سہولت کار بننے سے مطئمن نہیں تھیں اور یوں وہ بھی دیگر ایسے شرپاؤں کی طرح کوہ پیما بن گئیں۔
’آپ سے کوئی شادی نہیں کرے گا‘
شرپا سے کوہ پیما بننے کا سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ لکھپا کے والدین نے بھی اس میں ان کی کوئی مدد نہیں کی۔
ان کے مطابق ‘میری ماں کہتی تھیں کہ میں کبھی شادی نہیں کر سکوں گی۔ انھوں نے مجھے خبردار کیا کہ میں بہت زیادہ مردانہ بن جاؤں گی جس میں کوئی دلچسپی نہیں لے گا۔ گاؤں والوں نے بھی مجھے بتایا کہ یہ ایک مرد کے کرنے کا کام ہے اور اگر میں نے کوشش کی تو میں مر جاؤں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نئے ریکارڈ بنانا
لکھپا نے ان خدشات کی پرواہ نہیں کی اور سنہ 2000 میں وہ ایورسٹ کی بلند ترین چوٹی تک پہنچ گئیں۔
‘جب میں پہلی بار ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنے خواب تک پہنچ گئی ہوں۔ میں نے اپنے بارے میں یہ سوچا کہ ’اب صرف ایک گھریلو خاتون نہیں بننا‘، مجھے لگا جیسے میں نے شرپا کلچر، شرپا خواتین اور نیپالی خواتین کی حیثیت کو بدل دیا ہے۔‘
‘مجھے اپنے گھر سے باہر رہنا اچھا لگتا تھا اور میں اس احساس کو تمام خواتین کے ساتھ بانٹنا چاہتی تھی۔‘
سنہ 2003 میں، وہ ایورسٹ کو تین بار سر کرنے والی پہلی خاتون بن گئی تھیں اور پھر مزید ریکارڈ بنتے گئے۔
سنہ 2003 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرتے وقت ان کے ہمراہ ان کے بھائی اور بہن بھی تھیں۔ یوں 8,000 میٹر اونچے پہاڑ پر بیک وقت پہنچنے والے تین بہن بھائی بن گئے۔ یہ ریکارڈ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج ہو گیا۔ ان کے مطابق ‘میرے تین بھائی ایورسٹ سر کر چکے ہیں۔ میری ایک بہن نے دو بار ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا۔‘
لکھپا نے امریکہ میں مقیم رومانیا کے کوہ پیما جارج ڈیجماریسکو سے شادی کی اور ان کے ساتھ پانچ بار یہ بلند ترین چوٹی سر کی۔
امریکہ میں نیا گھر
شادی کے بعد وہ امریکہ چلی گئیں لیکن سنہ 2015 میں انھیں طلاق ہو گئی۔ لکھپا اب اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ امریکی ریاست کنیٹیکٹ میں مقیم ہیں۔ ان کے سابقہ شوہر سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔
اپنی ابتدائی مہمات کے دوران وہ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر نیپالی پرچم نصب کرتی تھیں۔ اس بار ان کے ہاتھ میں امریکی پرچم ہے۔

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
ہیئرکٹ کے لیے بھی ادائیگی نہیں کر سکیں
لکھپا کی کامیابیاں میڈیا کی توجہ اور سپانسرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ کئی برسوں سے ان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا جا رہا ہے اور وہ کم سے کم اجرت پر کام کر رہی تھیں۔
‘میری ملازمتوں میں بزرگوں کا خیال رکھنا، گھر کی صفائی اور برتن دھونا شامل ہے۔ میں نے زیادہ پیسہ نہیں کمایا۔ میں کپڑے خریدنے یا بال کٹوانے کا خرچ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ مجھے صرف اپنے بچوں کی دیکھ بھال پر توجہ مرکوز کرنی ہوتی تھی اور پھر ماؤنٹ ایورسٹ پر واپس جانے ک امید بھی رہتی تھی۔‘
اس کے باوجود لکھپا کا شوق کم نہیں ہوا۔ وہ ایک گائیڈ کے طور پر دو بار یہ چوٹی سر کر چکی ہیں۔ اور بعض مواقع پر دوستوں اور خاندان والوں نے ان کی مدد کی۔
ان کے مطابق ‘یہ ایک مختلف قسم کا کھیل ہے۔ یہ میرا جنون ہے۔ تاہم اس میں شامل خطرات کے مقابلے میں یہ زیادہ منافع بخش نہیں ہے۔‘ لکھپا کا خیال ہے کہ کوہ پیمائی سے انھیں ایک طرح سے فرار کا رستہ اختیار کرنے میں مدد ملی، ’ورنہ گاؤں میں بے مزہ زندگی بسر کر رہی ہوتی۔‘
کراؤڈ فنڈنگ
ان کے مالی حالات اس وقت بہتر ہونا شروع ہو گئے جب انھوں نے اچھی انگریزی بولنا سیکھ لی۔ وہ انٹرویو دیتی تھیں اور تقریبات میں بولتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
لکھپا کو اس سمٹ کو نویں بار سر کرنے کے لیے سپانسر ملا۔ اس بار انھوں نے کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے رقم اکٹھی کی۔ لکھپا خطے سے واقف ہیں اور جانتی ہیں کہ انھیں کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں صورتحال کو دیکھ کر چوٹی پر جانے سے پہلے کئی بار اوپر اور نیچے جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
لکھپا ہمیشہ روایتی عبادت کے بعد اپنے سفر کا آغاز کرتی تھیں۔ سیفٹی ان کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
ان کے مطابق انھوں نے جب بھی ایورسٹ سر کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ اس میں کامیاب ہوئی ہیں اور انھیں کسی قسم کے حادثے کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔
جمی ہوئی لاشیں
ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کے دوران 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لکھپا اور ان کی ٹیم کو برف میں ڈھکی لاشوں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔
سنہ 2014 میں 16 شرپا گائیڈ برفانی تودے کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے تھے۔ سنہ 2015 میں ایک اور برفانی تودہ گرنے سے 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘پہاڑ موسم کے بارے میں مطلع کر دیتا ہے۔ میں خراب موسم میں میں صرف انتظار کرتی ہوں۔ ہم پہاڑ سے لڑ نہیں سکتے۔‘
جیسے جیسے وہ چوٹی کے قریب آتی ہیں، آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔
’گذشتہ 8,000 میٹر پر ایک زومبی کی طرح محسوس کر رہی تھی۔ آپ کچھ کھا نہیں سکتے اور سب کچھ منجمد ہے۔ آپ کو رات کو بھی چوٹی سر کرنے کی مہم جاری رکھنی پڑتی ہے، تاکہ آپ دن کی روشنی میں چوٹی سے اتر سکیں۔ یہ ایک خوفناک عمل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
چند منٹ چوٹی پر
6000 سے زائد کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر چکے ہیں۔ ایک انتہائی مشکل اور محنت طلب ٹریک کو سر کرنے کے بعد ایک کوہ پیما کو چوٹی پر گزارنے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔
لکھپا کہتی ہیں کہ وہ بلند ترین مقام پر صرف پانچ سے دس منٹ گزار سکتی ہیں۔
لکھپا کہتی ہیں کہ وہ سب سے پہلے تصویریں لیں گی۔ ’میں عام طور پر اپنے دوستوں، اپنے خاندان، اپنے والدین، اپنی بیٹیوں اور بہت سے دوسرے لوگوں کے بارے میں سوچتی ہوں جنھوں نے میرا ساتھ دیا۔ اس کے بعد میں چوٹی سے محفوظ طریقے سے نیچے اترنے کے بارے میں سوچتی ہوں۔‘
اس کے بدلے ان کے بچے ان کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں۔
لکھپا پہلے ہی اپنی بیٹیوں کو مکالو بیس کیمپ لے جا چکی ہیں۔ وہ خوش ہیں کہ ان کی بڑی بیٹی، سنی، کوہ پیمائی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی، شنی، ہزاروں میٹر نیچے اپنی ماں کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں کہ جب وہ واپس آئیں گی تو ان کو مبارکباد دے سکیں۔
’جب میری ماں کسی مہم پر ہوتی ہیں تو میں ان کے بارے میں بہت کچھ سوچتی ہوں گی۔ ہم وقتاً فوقتاً ایک دوسرے سے بات کر لیتے ہیں لیکن پہاڑوں میں انٹرنیٹ زیادہ قابل اعتماد نہیں رہتا۔ میں جب چاہتی ہوں تو اس وقت ان سے فون پر بات نہیں کر سکتی۔‘

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
شنی امریکہ میں پلی بڑھی ہیں اور ان کا اپنی ماں کی طرح کا ایورسٹ سے لگاؤ نہیں ہے۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ جب بھی وہ اپنے آبائی گھر جاتی ہیں تو وہ جذباتی ہو جاتی ہیں۔
شنی اپنے کریئر کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل کچھ سال مزید انتظار کرنا چاہتی ہیں۔
وہ جانتی ہیں کہ اس مہم جوئی کے کھیل میں کتنے بڑے خطرات لاحق ہیں لیکن انھیں پورا یقین ہے کہ ان کی ماں کسی بھی چیلنج پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔
اپنا کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم
اس سیزن کے بعد بھی لکھپا کا ریٹائر ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ دنیا کی دوسری بڑی چوٹی ’کے ٹو‘ سر کرنا چاہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہLhakpa Sherpa
’میں نے چیلنجز سے بھرپور زندگی گزاری ہے۔ مجھے پہاڑوں سے خوشی اور سکون ملا ہے۔ میں کبھی ہار نہیں مانوں گی۔ میں چاہتی ہوں کہ نوجوان خواتین ہمت نہ ہاریں۔‘
لکھپا اپنے بیٹے اور بیٹیوں کے ساتھ مستقبل میں ایورسٹ سر کرنے کا سوچ رہی ہیں۔ ’پہاڑ سر کرنا میرا جنون ہے اور میں یہی کرنا چاہتی ہوں۔‘








