روس یوکرین جنگ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے کوہ پیماؤں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہBBC/ANBARASAN
- مصنف, انبراسن ایتھیراجن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، بیس کیمپ ایورسٹ
آنگ سارکی شرپا کا کام دنیا کے سب سے پُرخطر کاموں میں سے ایک ہے لیکن وہ تمام خطرات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کوہ پیماؤں کے لیے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے کے لیے رسیاں اور ایلومینیم کی سیڑھیاں لگانے کا کام کرنے والے آنگ سارکی شرپا کو ’آئس فال ڈاکٹر‘ کہا جاتا ہے۔ وہ نیپال کے سب سے تجربہ کار شرپاؤں میں سے ایک ہیں۔
مسلسل اپنی جگہ بدلتی ہوئی گلیشیئر کی برف اور گہری کھائیوں سے لڑتے ہوئے، شرپا اپنے پرُخطر کام کے ساتھ ہر سال سینکڑوں کوہ پیماؤں کی ایورسٹ پر چڑھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
وہ اپریل اور مئی کے مہینوں میں بیس کیمپ پہنچ جاتے ہیں جہاں سے ایورسٹ پر چڑھنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔
حالیہ برسوں میں ایورسٹ پر چڑھنا بہت خطرناک رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں یہاں برفانی تودے گرنے کے کئی خطرناک واقعات رونما ہو چکے ہیں۔
اس کے بعد سنہ 2020 میں کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے یہاں تک پہنچنے والے کوہ پیماؤں کی تعداد کم تھی۔ اور اب روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے کوہ پیماؤں کی تعداد میں اضافے کی تمام امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC/ANBARASAN
50 سالہ آنگ سارکی شرپا ایورسٹ کے بیس کیمپ پر لگائے گئے پیلے رنگ کے خیمے کے باہر کھڑے کھومبو آئس فال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سب سے خطرناک جگہوں میں سے ایک ہے۔ برف کے درمیان بہت سی خندقیں ہیں، اگر آپ محتاط نہ رہیں تو آپ ان میں گر سکتے ہیں۔ اگر رسیوں سے بھی کوئی راستہ بنایا جائے تو وہ بھی ایک ماہ کے اندر غائب ہو سکتا ہے۔ یہ ایک خطرناک کام ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب بی بی سی کی ٹیم اس جگہ پہنچی تو چھ مقامی شرپا خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ شرپا کی ٹیم کی قیادت آنگ سارکی شرپا کرتے ہیں۔
خیمے کے باہر رسیاں اور سیڑھیاں بکھری ہوئی تھیں اور بیس کیمپ میں کوہ پیمائی کرنے والی دیگر ٹیمیں بھی اپنے خیمے لگا رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خطرناک کھائیوں والے مقامات
آئس فال ڈاکٹر یعنی شرپاؤں کی ایک ٹیم جو کیمپ ون اور کیمپ ٹو کے درمیان محفوظ راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس پر رسیاں نصب کرتے ہیں۔ اس کے بعد، دوسری ٹیمیں مزید کام کو سنبھالتی ہیں، جو کوہ پیماؤں کو ایورسٹ کی چوٹی پر لے جاتی ہیں۔
2014 میں، کھومبو آئس فال پر برفانی تودہ گرنے کے دوران 16 شرپا مارے گئے تھے۔ اس کے بعد اگلے سال نیپال میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد خوفناک برفانی تودہ گرنے سے 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس کے بعد عالمی وبا کی وجہ سے نیپال میں ایورسٹ کو سر کرنے کا ارادہ رکھنے والے کوہ پیماؤں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
رواں سال توقع کی جا رہی تھی کہ کوہ پیماؤں کی تعداد میں اضافہ ہو گا لیکن یوکرین پر روس کے حملے نے صورتحال بدل دی۔
آنگ سارکی شرپا کہتے ہیں: ’ہم نے سنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں سے آنے والی ٹیموں نے لڑائی کی وجہ سے اپنے منصوبے منسوخ کر دیے ہیں۔‘
بیس کیمپ صرف ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو 8848 میٹر بلند ماؤنٹ ایورسٹ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں لوگ سطح سمندر سے 5400 میٹر کی بلندی پر واقع بیس کیمپ پر چڑھنے کے لیے بھی پہنچتے ہیں۔
ایورسٹ کی دہلیز کہلانے والی جگہ لکلا سے بیس کیمپ تک کا سفر شروع کیا جاتا ہے۔ اور اس ٹریک کو مکمل کرنے میں دو ہفتے لگتے ہیں۔
سنہ 2020 میں کووڈ کی وبا پھیلنے کے بعد، نیپال نے سنہ 2021 میں ایورسٹ پر چڑھنے کے لیے کوہ پیماؤں کو 408 اجازت نامے جاری کیے تھے۔ جبکہ رواں سال نیپال کی وزارت سیاحت نے 19 اپریل تک صرف 287 پرمٹ ہی جاری کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین سے صرف ایک کوہ پیما
نیپال کے محکمہ سیاحت میں کوہ پیمائی ڈویژن کے ڈائریکٹر سوریہ پرساد اپادھیائے کہتے ہیں کہ ’جنگ نے روس اور یوکرین سے آنے والے کوہ پیماؤں کو متاثر کیا ہے۔ اب تک صرف ایک کوہ پیما یوکرین سے آیا ہے۔‘
اس کے ساتھ ہی 17 روسی کوہ پیماؤں کو ایورسٹ پر چڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ دیگر روسی کوہ پیماؤں نے اپنا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔ روسی کوہ پیما بھی اپنے ملک کی کرنسی روبل کی قدر میں کمی سے متاثر ہیں۔
اس کے ساتھ حملے کے بعد روس پر عائد بین الاقوامی پابندیوں نے اس کی اپنی کرنسی کا بیرون ملک استعمال مشکل بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بیس کیمپ کے راستے میں آنے والے دیہات کوہ پیماؤں کے سفر میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ دیہات بھی یوکرین کی جنگ کی وجہ سے بری طرح متاثر دکھائی دیتے ہیں۔
پھاکڈنگ گاؤں میں شرپا گیسٹ ہاؤس چلانے والے آنگ دوا شرپا کہتے ہیں کہ ’جنگ کے آغاز کے بعد سے ایندھن اور دیگر چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب ہمارے کاروبار کے لیے بہت اہم ہیں۔ اب یہ خبر آ رہی ہے کہ قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، یہ کافی پریشان کن ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
نیپال حکومت نے رواں سال اب تک چار بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے سامان لانا مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں جس طرح ایورسٹ پر چڑھنے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اس سے بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایورسٹ جیسی پہاڑی چوٹیوں تک پہنچنے کے راستوں پر بھیڑ زیادہ نہیں ہو گئی ہے؟
سنہ 2019 میں ایک چونکا دینے والی تصویر سامنے آئی جس میں سینکڑوں لوگ برف سے ڈھکے راستے پر ایک دوسرے کے بالکل قریب کھڑے نظر آئے۔ اس تصویر نے کوہ پیمائی کے دوران حفاظتی انتظامات سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے۔
اس معاملے پر حکومت نے کہا ہے کہ اس نے ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ نیپال کی وزارت سیاحت کے سیکریٹری مہیشور نیوپنے کا کہنا ہے کہ ’ہم ایورسٹ پر بھیڑ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہماری وزارت کوہ پیماؤں کو طویل مدتی اجازت نامے دے رہی ہے تاکہ یہ مہمات قواعد کے مطابق مکمل ہو سکیں۔‘
نیوپنے کہتے ہیں کہ جب تک کوہ پیمائی کی مہمات جاری رہیں گی، ہماری پانچ رکنی ٹیم بیس کیمپ میں موجود رہے گی تاکہ کوہ پیماؤں کے گروپوں کی نگرانی کی جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہDOM SHERPA/AFP
ایورسٹ پر گندگی
کوہ پیماؤں اور ٹریکنگ ہجوم کی جانب سے ایورسٹ اور بیس کیمپ پر گندگی پھیلنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ساگرماتھا نیشنل پارک کے چیف وارڈن بھومیراج اپادھیائے کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے لیے تشویشناک ہے۔ کوہ پیماؤں کی طرف سے چھوڑی گئی گندگی سے لے کر ایورسٹ سمیت دیگر چوٹیوں تک مردہ کوہ پیماؤں کی لاشیں پڑی ملی ہیں۔ نیپالی فوج انھیں نکالنے میں مصروف ہے۔ لیکن یہ ایک مشکل عمل ہے۔‘
آنگ سارکی شرپا اور ان کی ٹیم کے ارکان بیس کیمپ میں اگلے دن کی چڑھائی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایورسٹ جیسی پہاڑی چوٹیاں کام کرنے کے لیے بہت خطرناک ہیں۔ لیکن یہ جگہ انھیں اور ان جیسے تمام لوگوں کو اس علاقے میں رہنے کے لیے روزی کمانے کا ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
اس خبر کے لیے نیپال کے سریندر فیوئل نے اضافی رپورٹنگ کی ہے۔









