روس یوکرین تنازع: مغربی خفیہ ایجنسیوں نے جنگ سے متعلق معلومات عام کیوں کیں؟

Satellite image of Luninets airfield, Belarus
    • مصنف, گورڈن کوریرا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

روایتی طور پر ایک جاسوس کا کام رازوں کی نگہبانی کرنا ہوتا ہے مگر روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ کے تناظر میں مغرب کے انٹیلیجنس حکام نے ایک غیرمعمولی اقدام اٹھایا ہے۔۔۔ وہ اس جنگ کے متعلق دنیا کو وہ سب بتا دینا چاہتے ہیں جو وہ جانتے ہیں۔

Short presentational grey line

فروری میں تقریباً 12 دن تک ان انٹیلیجنس حکام کا ایک چھوٹا گروپ رات کو جلدی سو جاتا تھا۔ انھوں نے انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو وہ ایسا صبح سویرے کرے گا۔

مگر جب 24 فروری کو یہ خبر سامنے آئی کہ تو ان میں سے ایک اہلکار نے کہا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ حقیقت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’اس پر یقین کرنا مشکل تھا، یہ دراصل میرے اس صبح جاگنے اور ریڈیو آن کرنے سے پہلے ہی یہ سب ہو رہا تھا۔‘

کئی ماہ سے وہ اس معرکے لیے خبردار کر رہے تھے۔

انٹیلیجنس اہلکار کے مطابق ’اس دن کچھ لوگ پوچھ رہے تھے تم لوگ اتنا جذباتی کیوں رہے ہو؟ جبکہ کچھ کہہ رہے تھے تم زیادہ جذباتی کیوں نہیں ہو؟‘

ایک اور انٹیلیجنس اہلکار نے بتایا کہ اس وقت ان کے اندازے صحیح ثابت ہونے پر انھیں اطمینان نہیں تھا۔ مگر انھیں اس بات پر ضرور اطمینان تھا کہ انھوں نے ایک ایسی جنگ کو روکنے کی ضرور کوشش کی تھی جس کے بڑے پیمانے پر چھڑ جانے سے متعلق وہ کئی ماہ سے خبردار کر رہے تھے۔

A member of the Ukrainian State Border Guard Service on patrol near the frontier with Russia

،تصویر کا ذریعہReuters

جنگ کے آغاز اور اس کے شروع ہونے کے چند ہفتوں بعد امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس حکام نے ایک غیر معمولی مہم کے نتیجے میں اپنے کچھ انتہائی خفیہ رازوں کو عام کیا۔

کئی دہائیوں سے انٹیلیجنس عام طور پر جس حد تک ممکن ہو کم سے کم افراد کے ساتھ شیئر کرنا ہوتی تھی۔ مگر اب ایسا نہیں ہے۔ راز عام کرنے کا یہ فیصلہ پوری دنیا کو جنگ جیسی صورتحال سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس نے نہ صرف مغربی انٹیلیجنس کے کام کرنے کے طریقے میں ایک ڈرامائی تبدیلی پیدا کی، بلکہ اس کا مقصد عراق پر حملے جیسی تکلیف دہ جنگی صورتحال کا مقابلہ کرنا بھی تھا۔

روسی عزائم کی پہلے آثار ایک سال قبل ہی مل گئے تھے۔ سیٹلائٹ کی تصاویر سے حاصل ہونے والی انٹیلیجنس نے یوکرین کے قریب روسی فوجیوں کی تعیناتی میں اضافے کی جانب اشارہ کیا تھا۔ لیکن تجزیہ کاروں کو ماسکو کے حقیقی ارادوں کے بارے میں بہت کم سمجھ تھی۔

یہ صورتحال سنہ 2021 کے وسط میں بدل گئی۔ ایک مغربی انٹیلیجنس اہلکار نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’موسم گرما سے ہم نے سینیئر لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کو پورے ملک پر مکمل فوجی حملے کی منصوبہ بندی کرتے دیکھا۔‘

انٹیلیجنس معلومات جمع کرنا اور پھر اس کا تجزیہ کرنا امریکہ اور برطانیہ کی ایک مشترکہ مشق تھی۔ اس عمل میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ اسے ایک ’خاندانی‘ آپریشن کہا جا سکتا ہے۔ ابتدا میں تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال مزید واضح ہوتی گئی۔

انٹیلیجنس کی درست معلومات تو ابھی بھی پوشیدہ ہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ معلومات متعدد ذرائع سے عام ہوئی ہیں۔ مگر ان معلومات نے امریکہ اور برطانیہ کے لیے صورتحال واضح کر دی کہ روس جنگ کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو بظاہر یہ یقین تھا کہ انھیں یوکرین کو روس کے اثر و رسوخ کے دائرے میں واپس لانے کے اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لیے فوری کارروائی عمل میں لانا ہو گی۔

یوں ان کے خیال میں اس مقصد کے لیے واحد رستہ طاقت کا استعمال ہی تھا۔ اس صورتحال کا حصہ رہنے والے ایک فرد نے بتایا کہ ’پوتن نے محسوس کیا کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا امکان مسدود ہوتا جا رہا ہے۔‘

موسم خزاں تک واشنگٹن نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے جو معلومات جاسوس بتا رہے تھے اس معلومات کے ساتھ کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی اعلیٰ سطح میں لیا تھا۔

نومبر کے اوائل میں ایک اہم لمحہ آیا جب سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے اس بارے میں متنبہ کرنے کے لیے کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ کیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، ماسکو کا دورہ کیا۔

اس دورے کو بھی خفیہ نہیں رکھا گیا۔ ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ کچھ روسی حکام نے ان کے ملک کے یوکرین کے خلاف کارروائی کے ارادے سے متعلق پہلی مرتبہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر سے سنا تھا۔

اگلا مرحلہ کچھ انٹیلیجنس معلومات کو عام کرنا تھا۔

اس بحث میں شریک ایک شخص نے دوسروں کی طرح اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی اور وہ وقت یاد کیا جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ ’یہ سب جاننے کا کیا فائدہ، اگر ہم اس معلومات کے ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔‘

خفیہ مواد جاری کرنے کا سہرا واشنگٹن میں نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر ایورل ہینس، جنھوں نے نومبر میں نیٹو میں اتحادیوں کو بریف کیا اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کو جاتا ہے۔ معلومات عام کرنے سے متعلق مہارت رکھنے والے خطرات کو سمجھنے کے لیے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور وہ ہر وقت اسی کام میں مگن رہتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا عام کرنا ہے اور کسے خفیہ رکھنا ہے۔

نیکول ڈی ہائے امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انٹیلیجنس کمیونٹی نے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ کے لیے درجہ بندی کے جائزوں کو یقینی بنانے کے لیے اہلکاروں اور وسائل میں اضافہ کیا۔

اور عوام کے لیے ممکنہ ریلیز کے لیے درجہ بندی کے ریویوز میں اضافہ کیا اور اس کے قائم کردہ ڈی کلاسیفیکیشن کے عمل سے فائدہ اٹھایا، جسے ذرائع اور طریقوں کی حفاظت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ایک فائدہ یہ تھا کہ اس معاملے کی حمایت کے لیے تجارتی طور پر دستیاب سیٹلائٹ امیجری کو استعمال کیا جا سکے۔ دسمبر کے اوائل تک روس کے 175,000 مضبوط حملے کے منصوبوں کی تفصیلات واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہو چکی تھیں۔

لندن میں جی سی ایچ کیو اور ایم آئی سکس سے آنے والی انٹیلیجنس کو کچھ حلقوں کی جانب سے کسی حد تک بداعتمادی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کے اندر اور باہر ایک مشترکہ مسئلہ یہ تھا کہ لوگوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ 21ویں صدی میں یورپ میں ایک بڑی زمینی جنگ چِھڑ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

MI6 building in London

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلندن میں ایم آئی 6 کی عمارت

سال کے اختتام پر جب اس مواد کا عمومی جائزہ لیا گیا اور جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے اپنی یہ رائے دی کہ اب مداخلت کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس کے بعد ہر کسی کو یہ یقین ہونا شروع ہو گیا کہ یہ خطرات حقیقی ہیں۔

یہ عمل دو دہائیاں قبل عراق جنگ کے بعد سے بہت سخت کر دیا گیا ہے۔۔۔ اس وقت جلدی میں جنگ کے حق میں بیانیہ بنانے کے لیے معلومات عام کر دی گئی تھیں۔ سنہ 2003 میں سیاسی عمل میں مداخلت کرنے کے الزامات اور خاص طور پر عراق جنگ سے متعلق غلط معلومات کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

عراق جنگ کے خوف کے سائے نے تب سے عوام میں انٹیلیجنس کے استعمال کے بارے میں بحث کو جنم دیا ہے۔ تاہم یوکرین نے نظام میں ایسی خرابیوں کے سلسلے کو ختم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اب نیا نظام وضع کیا گیا تاکہ معلومات کی کڑی جانچ کے بعد اسے جاری کیا جا سکے۔

دیگر اتحادیوں کو بھی بریفنگ دی گئی۔ لیکن بہت سے لوگ شک میں مبتلا رہے۔ ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ چونکہ انٹیلیجنس کے ذرائع کا اشتراک نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یوں بعض اوقات اس بے اعتباری پر قابو پانا مشکل ہوتا تھا۔

کچھ یورپی شراکت داروں نے اس تجزیے کو تسلیم نہیں کیا اور روس کی طرف سے فوج کی تعیناتی کو محض خالی دعوؤں سے تعمیر کیا ہے۔

اینگلو امریکن انٹیلیجنس کے بارے میں شکوک و شبہات بھی عراق کے بڑے پیمانے پر تباہی کے لاپتہ ہتھیاروں کی ایک اور میراث تھی۔ فرانس نے حال ہی میں اپنے ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کو اس وجہ سے برطرف کر دیا کہ وہ منصوبہ بندی کے بارے میں کچھ پتا لگانے میں ناکام رہے۔

مواد کی تشہیر میں جاسوسوں کے لیے خوف یہ ہے کہ اس سے دوسری طرف کو بِھنک پڑ جاتی ہے کہ ان کے پاس کوئی لیک ہے اور پھر اس ذریعے کو بند کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ نے بلیچلے پارک کو بہت زیادہ راز میں رکھا تھا۔

عراق جنگ سے لے کر اب تک اور بھی مواقع آئے ہیں جب انٹیلیجنس کو عام کیا گیا ہے، مثال کے طور پر شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں ایسا ہوا مگر اس پیمانے پر کبھی یوکرین میں ایسا نہیں دیکھا گیا۔

ان جاری کردہ معلومات میں برطانیہ یہ بھی شیئر کر رہا ہے کہ روس یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں مرضی کی حکومت لانا چاہتا ہے۔ واشنگٹن نے ماسکو کی طرف سے جنگ کے بہانے، نام نہاد فالس فلیگ جیسے منصوبوں کا انکشاف کیا، جن میں لاشیں شامل تھیں کہ ان کے بارے میں وہ جھوٹا دعویٰ کریں گے کہ یہ یوکرینیوں کے ہاتھوں مارے گئے شہریوں کی لاشیں ہیں۔

امریکی اور برطانوی جاسوسوں کا ماننا ہے کہ اس مواد کی تشہیر نے ماسکو سے اپنے لوگوں اور دوسرے ممالک پر حملے کو دفاعی اقدام کے طور پر جواز فراہم کرنے کے طور پر پیش کرنے کی صلاحیت کو چھین لیا ہے۔

ایک جاسوس کا حملے سے پہلے کے دنوں کے بارے میں کہنا تھا کہ اس نے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا کہ انتہائی ’کلاسیفائیڈ میٹیریل‘ ایک دن اس کی میز پر ہو گا اور پھر اگلے دن عوام کو اس کی سب خبر ہو جائے گی۔

لیکن انٹیلیجنس معلومات کا اس قدر غیرمعمولی اجرا بھی جنگ کو نہیں روک سکا۔

ایسی معلومات کو عام کرنے سے بھی ماسکو کو مؤقف سے پیچھے نہیں دھکیلا جا سکا۔ یہ شاید کبھی ممکن نہ ہو لیکن حکام کا خیال ہے کہ اس نے روس کے منصوبوں کو متاثر ضرور کیا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ تھا کہ پورے مغرب میں رد عمل اس سے زیادہ اور یکساں تھا جتنا کہ دوسری صورت میں ہوسکتا تھا۔

اگر اصل جارح کی صحیح پہچان کے بارے میں شکوک شبہات پائے جاتے ہوں تو ایسے میں ایسی معلومات نے دوسرے ممالک کے لیے اس سے کہیں زیادہ سخت اقدامات اٹھانا بہت آسان بنا دیا۔

تقریروں، بیانات اور بریفنگ میں حملے کے بعد ان معلومات کو عام کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

جی سی ایچ کیو کے سربراہ نے صرف ایک ہفتہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ صدر پوتن کو ابھی تک اپنے عہدیداروں سے مکمل تصویر نہیں مل رہی ہے اور ممکنہ کیمیائی ہتھیاروں سے ’فالس فلیگ‘ کے استعمال کی وارننگ دی گئی ہے۔

اب اس طرح معلومات عام کرنے کے نظام سے ایک نئی دنیا بھی متعارف ہوئی ہے، جس میں نام نہاد اوپن سورس انٹیلیجنس، تجارتی سیٹلائٹ امیجری اور ڈیٹا جیسی چیزوں نے دعوؤں کی تصدیق یا حمایت کرنا زیادہ ممکن بنا دیا ہے اور یہ کہ معلومات کی جنگ لڑنا بشمول انٹیلیجنس کے ذریعے اہم ہو گیا ہے، جزوی طور پر یہ روسی دعوؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے۔

ایک سطح پر زیادہ تر انٹیلیجنس برموقع تھی۔ جیسا کہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ صدر زیلنسکی حکومت کو گرانے اور اس کی جگہ لینے کے مقصد سے متعدد سمتوں سے مکمل حملہ کرنا تھا۔

مغربی جاسوسوں نے بھی درست پیشگوئی کی تھی کہ ماسکو نے اس استقبال کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا۔ ایک مغربی انٹیلیجنس افسر کا کہنا ہے کہ ’انھیں حقیقی طور پر یقین تھا کہ لوگ جھنڈے لہرا کر ان کا استقبال کر رہے ہوں گے۔‘

لیکن یہ ایک مفروضہ غلط ثابت ہوا کہ ماسکو کی فوج چند ہفتوں میں یوکرین پر غالب آجائے گی۔ جبکہ یوکرین نے عسکری طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب کہ روس نے کم کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یہ ایک یاد دہانی ہے کہ انٹیلیجنس کی اپنی حدود ہوتی ہیں، خاص طور پر جنگ کی کچھ پیچیدگیوں اور لوگوں کے حوصلے اور ردعمل کی غیر یقینی صورتحال کی پیشگوئی بالکل درست نہیں کی جا سکتی۔ اپنی تمام کامیابیوں کے باوجود مغربی جاسوس تسلیم کرتے ہیں کہ انٹیلیجنس انھیں یقین سے نہیں بتا سکتی کہ آگے کیا ہو گا۔