انڈین طالبِ علم: فوجی بننے کی خواہش روس کے خلاف یوکرینی فوج میں لے گئی

سائی نکیش

،تصویر کا ذریعہSAI NIKESH

،تصویر کا کیپشنسائی نکیش نے دوبار انڈین فوج میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی

خبر ہے کہ انڈیا کی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والا ایک طالب علم روس کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے یوکرین کے نیم فوجی دستوں میں شامل ہو گیا ہے۔

کوئمبٹور ضلع کے تھوڈیالور علاقے کا یہ طالب علم انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یوکرین گیا ہوا تھا۔ سائی نکیش نے 2018 میں اپنی سکول کی تعلیم مکمل کی اور اس کے بعد دو بار انڈین فوج میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔

سائی کے رشتہ داروں کے مطابق انڈین فوج میں داخلہ نہ ملنے کے بعد اس نے امریکی فوج میں داخلے کے طریقوں پر غور کیا لیکن وہاں کچھ نہیں ہوا اس لیے خاندان نے سائی کو ایرو سپیس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے خارکیو کی نیشنل ایرو سپیس یونیورسٹی بھیج دیا۔

جب روس کا یوکرین پر حملہ شروع ہوا تو انڈین طلباء خارکیو سے نکلنے کی کوششیں کر رہے تھے لیکن گھر والوں کے بار بار کہنے کے باوجود سائی نکیش نے وہاں سے نکلنے کی کوشش نہیں کی۔

جب بی بی سی تمل نے سائی نکیش کے گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ ذہنی طور پر وہ اس وقت میڈیا سے بات کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔

سائی نکیش

،تصویر کا ذریعہSAI NIKESH/FB

،تصویر کا کیپشنسائی نکیش نے امریکی فوج میں شمولیات کی کوشش بھی کی تھی

خفیہ محکمے کے افسران نے سائی نکیش اہل خانہ سے ملاقات کی

سائی نکیش کے ایک رشتہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا- 'فوج میں شامل ہونا نکیش کا پرانا خواب تھا۔ وہ انڈیا میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے والدین نے اسے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یوکرین بھیجا تھا۔ لیکن فوج میں شامل ہونے کی اس کی خواہش برقرار رہی۔ اس نے اپنے گھر پر بتایا کہ وہ ایک گیمنگ کمپنی جوائن کر رہا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ فوج میں شمولیت کی اس کی خواہش اتنی شدید ہو گی۔'

سائی نکیش کے رشتہ دار کے مطابق کوئی نہیں جانتا کہ اس نے ایسا فیصلہ کیوں لیا۔ نکیش کے اس قدم کی اطلاع گھر والوں کو پولیس کے انٹیلی جنس محکمے سے ملی ہے۔

نکیش کے رشتہ دار نے کہا کہ اس کے بعد وزارت دفاع کے انٹیلی جنس افسران نے گھر والوں سے ملاقات کی اور ان سے پوچھ تاچھ کی ہے۔

رشتہ دار کا دعویٰ ہے کہ گھر والے اس وقت بہت زیادہ پریشان ہیں اور وہ میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے۔

انھوں نے بتایا، 'میں نے گھر والوں سے کہا کہ وہ نکیش سے بار بار رابطہ نہ کریں۔ کیونکہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ایسی صورت حال میں اسے وہاں سے کیسے نکالا جائے۔'

انھوں نے یہ بھی کہا، 'جب سے یہ خبر میڈیا میں شائع ہوئی ہے تب سے ہم نکیش سے رابطہ نہیں کر سکے ہیں۔ میں نے اسے واٹس ایپ پر وائس نوٹ بھیجا ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے اور ہم کسی بھی صورتحال کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ہم سب ہر حال میں سائی نکیش کو محفوظ طریقے سے واپس لانا چاہتے ہیں'۔

یوکرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلڑائی کا سلسلہ جاتی ہے

'لڑکا اپنی مرضی سے نیم فوجی دستوں میں شامل ہوا'

جب بی بی سی تمل نے پولیس کے خفیہ محکمے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس اتنی ہی معلومات ہیں جتنی میڈیا میں شائع ہوتی ہیں۔

خفیہ محکمے کے ایک اہلکار نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ لڑکا اپنی پسند سے نیم فوجی دستے میں شامل ہوا ہے، ہم اس سے رابطہ نہیں کر سکے وہاں کے بارے میں ہمارے پاس زیادہ معلومات نہیں ہیں لیکن ہم معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے یوکرینی عوام سے روسی فوج کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔

ان کی اپیل پر انڈین فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کرنل آر۔ ہری ہرن نے کہا ہے، 'ہم اس بات پر بحث نہیں کر سکتے کہ یہ اپیل صحیح ہے یا غلط، کیونکہ جنگ ہی غلط ہے۔ زیلنسکی کی اپیل کے بعد یوکرین کے مختلف شہروں میں لوگوں کو ہتھیار فراہم کیے گئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران روس نے بھی یہی کیا تھا'۔

حالانکہ زیلنسکی اس جنگ میں یورپ سمیت دنیا بھر کے ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں۔ وہ اِن ممالک سے ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے بھی مدد مانگ رہے ہیں۔

ہری ہرن کا کہنا ہے کہ 'خبروں کے مطابق انڈین طالب علم جارجیا سے رضاکار فوجیوں کے ایک گروپ میں شامل ہوا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ فوج میں شامل ہونے میں گہری دلچسپی رکھتا تھا اس لیے اِسے طالب علم کا ذاتی فیصلہ کہا جائے گا'۔