یوکرین بحران: روس کا بیلاروس میں فوجی مشقوں میں مزید توسیع کا اعلان، مغربی ممالک کی تنقید

،تصویر کا ذریعہEPA
روس کے صدر ولایمیر پوتن اور بیلاروس کے ان کے ہم منصب ایلگزینڈر لوکاشینکو سے مل کر اتوار کو دونوں ممالک کے درمیان جاری مشقوں کو مزید توسیع دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ دونوں ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقیں اتوار کو اختتام پذیر ہونا تھیں مگر اب ان کی توسیع سے یہ خدشات زور پکڑ گئے ہیں کہ یوکرین بحران کے تناظر میں روس نے بیلاروس میں اپنی فوجوں کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ایسا کیا ہے۔
دونوں ممالک کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں روس نے تقریباً 30 ہزار فوجی بیلاروس میں ٹھہرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس اقدام سے یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے کیونکہ بیلاروس کی یوکرین کے ساتھ ایک طویل سرحد ملتی ہے۔
مغربی ممالک نے نے روس پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ ماسکو نے یوکرین پر حملے کے لیے فوجی بھیجنے کے لیے یہ بہانہ کیا ہے۔
روس نے اپنے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔
امریکہ کے وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے ان فوجی مشقوں میں توسیع کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب دنیا ایک جنگ کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔
مشرقی یورپ میں بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینزفورڈ کے مطابق بیلاروس کے وزیر دفاع کی جانب سے یہ اعلان ایک اور واضح اشارہ ہے کہ روس مغربی ممالک سے یوکرین کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازعے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا۔
’یوکرین اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دے گا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
دوسری طرف یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہ ان کا ملک اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دے گا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مشرقی علاقوں میں روسی حمایت یافتہ باغیوں سے لڑائی میں شدت دیکھی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مغربی رہنماٰؤں سمیت دنیا بھر کو پیغام دیا ہے کہ ان کا ملک روس کی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔
واضح رہے کہ یوکرین کی فوج اور روس کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان تین دن سے جاری جھڑپوں میں یوکرین کے دو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے والا ہے لیکن روس نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ یوکرین کے مشرقی علاقوں میں بحران پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے باقاعدہ حملے کا جواز مل سکے۔
ادھر جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران یوکرین کے صدر نے کہا کہ یوکرین کے لوگ اپنی زندگی جینا چاہتے ہیں اور اس وقت وہ خوف و ہراس کا شکار نہیں ہیں۔
یوکرین کے صدر نے مغربی رہنمائوں پر الزام لگایا کہ وہ ماسکو کے ساتھ ’اپیزمنٹ کی پالیسی‘ اپنائے ہوئے ہیں یعنی وہ ماسکو کے جارحانہ رویے کے باوجود اس کے ساتھ نرم رویہ اپنائے ہوئے ہیں، اس امید میں کہ روس ان کے خدشات کے برعکس جارحیت روک دے گا۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو تحفظ کی نئی یقین دہانیاں دی جائیں۔
واضح رہے کہ یوکرین کے صدر کو امریکی حکام کی جانب سے تنبیہ کی گئی تھی کہ اس وقت ان کا ملک چھوڑنا خطرے سے خالی نہیں لیکن ان وارننگز کے باوجود انھوں نے میونخ کی سیکیورٹی کانفرنس میں حصہ لیا۔
یوکرین کے صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب مبصرین کے مطابق مشرقی یوکرین میں حکومتی افواج اور باغیوں کو تقسیم کرنے والی سرحدی لائن پر حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔
مبصرین کے مطابق صرف سینیچر کے دن ہی یوکرین سے علیحدہ ہو جانے والے ڈونیٹسک اور لوہانسک علاقوں میں 1400 دھماکے ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کے وزیر داخلہ ڈینس موناسٹرسکی کو بھی فرنٹ لائن کا دورہ کرتے ہوئے اچانک گولہ باری کے باعث محفوظ پناہ گاہ میں چھپنا پڑا۔
باغیوں کی خود ساختہ ریپبلک آف ڈونیٹسک اور لوہانسک میں تمام شہریوں کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ روس کی جانب انخلا کر جائیں جب کہ ایسے تمام افراد جو لڑ سکتے ہیں انھیں تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔
ان احکامات کے باوجود زیادہ تر شہری ان علاقوں میں رہنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔
روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے دعوی کیا ہے کہ یوکرین حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس دعوے کا وہ کوئی ثبوت نہیں دے سکے۔
روس کے میڈیا نے باغیوں کے علاقوں میں سنیچر کے روز مبینہ حملوں سے متعلق متعدد رپورٹس بھی جاری کی ہیں جن کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
روس کی جانب سے ان اطلاعات پر تفتیش کا آغاز بھی کیا گیا، جن کی یوکرین تردید کرتا ہے، کہ چند گولے روس کی سرحد کے اندر روسٹوو ریجن میں یوکرین کی سرحد سے ایک کلومیٹر اندر گر کر پھٹے۔
گولہ باری کی اطلاعات کے دوران جرمنی اور فرانس نے بھی دیگر مغربی ممالک کی طرح اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ جرمنی کی فضائی کمپنی لفتھانزا پیر کے دن سے یوکرین سے ایک ہفتے کے لیے فلائٹس معطل کر دے گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ’آنے والے دنوں‘ میں حملہ ہو سکتا ہے۔
بائیڈن نے کہا کہ وہ یہ بات امریکی انٹیلی جنس کی معلومات کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں، جس کا ماننا ہے کہ دارالحکومت کیئو کو نشانہ بنایا جائے گا۔
روس اس کی تردید کرتا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین کے الگ ہونے والے مشرقی علاقوں میں ایک بحران کی صورتحال بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے جارحانہ کارروائی شروع کرنے کا جواز مل سکے۔
امریکہ کا اندازہ ہے کہ 169000 سے 190000 روسی اہلکار یوکرین کے اندر اور اس کی سرحد کے قریبی علاقوں میں موجود ہیں، اس تعداد میں مشرقی یوکرین میں ڈونیٹسک اور لوہانسک کی خود ساختہ جمہوریہ میں روسی حمایت یافتہ جنگجو بھی شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس سے ٹیلیویژن خطاب میں صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ کے پاس ’یہ یقین کرنے کی وجہ‘ ہے کہ روسی افواج ’آنے والے ہفتے، آنے والے دنوں میں یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی اور ارادہ کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے صدر پیوتن کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’اب مجھے یقین ہے کہ انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے‘۔
اس سے قبل امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کہہ چکے ہیں کہ یوکرین پر حملے کے بارے میں وہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔
تاہم بائیڈن کا کہنا ہے، روس ’اب بھی سفارت کاری کا انتخاب کر سکتا ہے‘ اور یہ کہ ’کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے میں اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی‘۔
اس سے قبل جمعے کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک اور اشارہ تب ملا جب دو علیحدگی پسند علاقوں کے رہنماؤں نے رہائشیوں کے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین نے گولہ باری تیز کر دی ہے اور وہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
یوکرین نے بارہا کہا ہے کہ وہ کسی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا ہے، اور وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے اسے’روسی ڈس انفارمیشن رپورٹس‘ کہتے ہوئے مسترد کر دیا۔

اس خطے میں لاکھوں لوگ آباد ہیں اور اس طرح کا انخلا ایک بہت بڑا اقدام ہو گا۔ آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر انخلا کا کوئی اشارہ نہیں ملا تاہم روس کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ مقامی باشندوں کو لے کر کئی بسیں روس کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔
ڈونیسٹک پیپلز ریپبلک کے سربراہ ڈینس پوشیلین نے انخلا کا اعلان جمعے کے روز فلمائی جانے والی ایک ویڈیو میں کیا۔ تاہم بی بی سی کے میٹا ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اسے دو دن پہلے ریکارڈ کیا گیا تھا۔
کریملن کے مطابق صدر پوتن نے حکم دیا ہے کہ سرحد کے قریب پناہ گزین کیمپ قائم کیے جائیں اور علیحدگی پسند علاقوں سے آنے والے لوگوں کی ’ہنگامی‘ طور پر مدد کی جائے۔
روس سنہ 2014 سے یوکرین کے مشرقی دونباس علاقے میں مسلح بغاوت کی حمایت کر رہا ہے۔ لڑائی میں تقریباً 14000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بہت سے شہری بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والے واقعات، روس کی جانب سے ’اشتعال انگریزی پیدا کرنے کی کوششوں‘ کا حصہ ہیں تاکہ ’جارحیت‘ کا جواز پیش کیا جا سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بعد میں انخلا کے اعلان کو ’ماسکو کی چالاکی‘ قرار دیا، جس کا مقصد دنیا کی توجہ اس حقیقت سے ہٹانا ہے کہ روس یوکرین پر حملے کے لیے اپنی افواج تیار کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا کہ انخلا اس بات کی ایک مثال ہے کہ ماسکو جنگ کے لیے بہانے کے طور پر غلط معلومات استعمال کر رہا ہے۔
جمعے کی رات، یوکرین کی ملٹری انٹیلی جنس سروس نے کہا کہ اسے اطلاع ملی تھی کہ ڈونیٹسک میں فالس فلیگ آپریشن کے ارادے سے تنصیبات پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔ اس آپریشن کا مقصد یہ تھا کہ مخالف پر حملے کا الزام لگایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہTass via Getty Images
اس سے قبل علیحدگی پسند حکام نے کہا تھا کہ ڈونیٹسک میں ایک سرکاری عمارت کے قریب کھڑی جیپ کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔ امریکی اور یوکرینی حکام کا کہا ہے اس اقدام کا مقصد کشیدگی کو ہوا دینا تھا۔
روس سنہ 2014 سے یوکرین کے مشرقی دونباس علاقے میں مسلح بغاوت کی حمایت کر رہا ہے۔ لڑائی میں تقریباً 14000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بہت سے شہری بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب پوتن نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں حالات خراب ہو رہے ہیں۔
ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے ’انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر منظم خلاف ورزیوں‘ اور یوکرین میں ’روسی بولنے والی آبادی کے ساتھ امتیازی سلوک‘ کے غیر مصدقہ الزامات عائد کیے۔
انھوں نے کہا کہ وہ مغربی رہنماؤں کے ساتھ بحران پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن انھوں نے روس کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور متنبہ کیا کہ کسی بھی معاہدے میں قانونی طور یہ شامل ہونا چاہیے کہ نیٹو سکیورٹی اتحاد اپنی مشرق کی جانب توسیع کو روک دے گا۔












