شارلٹ بیلس: ’قطر میں قانون غیرشادی شدہ خاتون کو حاملہ ہونے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے میں نے اپنا حمل خفیہ رکھا‘

@charlottebellis

،تصویر کا ذریعہ@charlottebellis

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

نیوزی لینڈ کی حکومت نے شارلٹ بیلس نامی حاملہ کیوی صحافی، جنھیں طالبان نے پناہ دینے کی پیشکش کی تھی، کو ملک واپس آنے کی اجازت دے دی ہے۔

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی حاملہ صحافی کو نیوزی لینڈ میں کورونا پابندیوں کے باعث داخلہ نہ ملنے کے بعد افغانستان میں طالبان حکمرانوں نے پناہ کی پیشکش کی تھی جس کے بعد سے وہ افغانستان میں ہی مقیم ہیں مگر اب اپنے آبائی ملک واپس جا سکیں گی۔

25 ہفتوں کی حاملہ شارلٹ بیلس کا کہنا تھا کہ ’جب طالبان آپ کو ایک غیر شادی شدہ حاملہ خاتون ہوتے ہوئے محفوظ پناہ گاہ کی پیشکش کرتے ہیں، تو تب آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ کی صورتحال کتنی خراب ہے۔‘

یہ معاملہ نیوزی لینڈ میں کافی اہمیت اختیار کر گیا تھا جس کے بعد منگل کے دن نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ شارلٹ بیلس کے لیے قرنطینہ کا اہتمام کر لیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے ڈپٹی وزیر اعظم گرانٹ روبرٹسن نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ کورونا کی روک تھام کے لیے قائم قرنطینہ سنٹر میں ایک جگہ موجود ہے اور انھوں نے حاملہ صحافی سے بات بھی کی ہے۔

انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ حکومت نے اس معاملے پر توجہ صرف اس لیے دی کیونکہ سوشل میڈیا پر اس کیس کے حوالے سے ان کی حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

گذشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کی حکومت نے 35 سالہ شارلٹ کی بچی کی پیدائش کے لیے وطن واپس آنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس وقت نافذ قوانین کے مطابق ویلنگٹن قرنطینہ ہوٹلوں میں 10 دن گزارنے کے بعد ہی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔

شارلٹ نے اس بارے میں نیوزی لینڈ ہیرالڈ میں ایک تحریر بھی لکھی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں بین الاقوامی صحافتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے لیے کام کر رہی تھیں، جہاں ان کے فوٹو جرنلسٹ پارٹنر جم ہوئلیبروک بھی مقیم ہیں۔

شارلٹ کے مطابق جب وہ قطر کے شہر دوحہ میں الجزیرہ کے ہیڈ کوارٹر آئیں اس وقت تک انھیں اپنے حاملہ ہونے کا معلوم نہیں تھا۔

چونکہ قطر میں غیر شادی شدہ خاتون کو حاملہ ہونے کی اجازت نہیں ہے، اور بیلس نیوزی لینڈ واپس جانے کی تیاری کر رہی تھیں لہذا انھوں نے اپنے حمل کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم جب انھیں بتایا گیا کہ نیوزی لینڈ میں نافذ سخت کووڈ قوانین انھیں استثنیٰ کے لیے اہل قرار نہیں دیتے اور وہ اپنے ہی ملک میں داخل نہیں ہو سکتیں تو انھیں افعانستان کا خیال آیا، وہ واحد ملک جہاں رہنے کا ویزا ان کے اور جم ہوئلیبروک، دونوں کے پاس موجود تھا۔

لہذا بیلس نے طالبان کے سینیئر رہنماؤں سے ملاقات کی، انھیں اپنے اور جم ہوئلیبروک کے تعلق کے متعلق بتایا اور اُن سے پوچھا کہ ’کیا میں افعانستان میں (اپنے بچی کو) جنم دے سکتی ہوں؟ مجھے کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گا؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

جس پر طالبان نے انھیں جواب دیا ’ہم آپ کے لیے خوش ہیں، آپ آ سکتی ہیں اور آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ بس لوگوں کو یہ بتائیں کہ آپ شادی شدہ ہیں۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو ہمیں کال کریں اور بالکل فکر نہ کریں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ میری ضرورت کے وقت، نیوزی لینڈ کی حکومت نے کہا کہ آپ یہاں نہیں آ سکتیں اور ایسے وقت میں جب طالبان آپ کو ایک غیر شادی شدہ حاملہ خاتون ہوتے ہوئے محفوظ پناہ گاہ کی پیشکش کرتے ہیں، تو تب آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ کی صورتحال دراصل کتنی خراب ہے۔

شارلٹ بیلس لکھتی ہیں کہ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اگست میں، میں طالبان سے پوچھ رہی تھی کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق یقینی بنانے کے لیے کیا کریں گے اور اب میں وہی سوال اپنی ہی حکومت سے کر رہی ہوں۔

انھوں نے نیوزی لینڈ میں ایم آئی کیو اور امیگریشن حکام کو 59 دستاویزات فراہم کی تھیں جن میں ماہر امراض نسواں کے خطوط، ڈلیوری کی تاریخ، ویکسین سرٹیفیکیٹ اور دیگر طبی دستاویزات کے ساتھ ساتھ حمل کے دوران ذہنی تناؤ کے اثرات اور افغانستان میں بچے کی پیدائش کے دوران خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

وہ پوچھتی ہیں کہ ’حکومت کو مزید کیا ثبوت چاہیے تھے؟ مجھے وقت کے حساب سے انتہائی نازک حالات میں طبی علاج کی ضرورت ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

نیوزی لینڈ کے ون نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وہ حکومت سے سوال کرتی ہیں کہ ’آپ کیا چاہتے ہیں، میں کیا کروں؟ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔ بس میں حاملہ ہو گئی۔۔۔ مجھے ایک ملک سے نکالا گیا کیونکہ اگر میں وہاں رہتی تو جیل چلی جاتی۔۔۔۔ اب میرے پاس صرف افغانستان کا ویزا ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں میں افعانستان میں اپنی بچی کو جنم دوں؟‘

’آپ کیوں ان قواعد میں اتنا الجھ کر رہ گئے ہیں کہ آپ کو احساس ہی نہیں ہو رہا کہ میں نیوزی لینڈ کی شہری ہوں اور مجھے مدد کی ضرورت ہے۔‘

@clarissaward

،تصویر کا ذریعہ@clarissaward

بیلس کی جانب سے سوشل میڈیا اور اخبارات میں کہانی شئیر کیے جانے پر دنیا بھر سے خاص کر خواتین صحافیوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ان کی کہانی نے نیوزی لینڈ میں کووڈ پر قابو پانے کے لیے نافذ سخت قوانین کو ایک بار پھر سے زیرِ بحث لایا ہے۔ نیوزی لینڈ کے حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ حاملہ خواتین کے لیے ہنگامی قرنطینہ کے معیار کو از سر نو متعین کریں۔

سوشل میڈیا پر آنے والے ردِعمل کے بعد نیوزی لینڈ کے حکام نے اُن سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ اس کی مسترد کی گئی درخواست اب زیر غور ہے۔

نیوزی لینڈ میں حکومت کے کووڈ رسپانس کے وزیر کرس ہپکنز کا کہنا ہے کہ شارلٹ جیسے لوگوں کے لیے خاص حالات میں استثنیٰ کی اجازت ہے، انھوں نے عہدیداروں سے یہ چیک کرنے کو کہا ہے کہ آیا بیلس کے معاملے میں مناسب طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے، یا نہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

تاہم، ان کی کہانی سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور افغان شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

آسٹریا میں مقیم افغان صحافی ایمران فیروز نے ٹویٹ کیا ’طالبان، افعانوں کی نسبت غیر افغانوں کے ساتھ کتنا مختلف سلوک کرتے ہیں۔۔۔ یہ اس کی ایک مثال ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’افغان صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، مار پیٹ، تشدد اور قتل تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر جو لوگ افغان نہیں ہیں انھیں بہت سے مراعات حاصل ہیں اور ہر جانب سے ان کا خیرمقدم کیا جاتا ہے اور طالبان ان سے نرمی سے پیش آتے ہیں۔‘

حال ہی میں افغانستان میں ہونے والے مظاہروں میں طالبان سے خواتین کے لیے کام کرنے والی متعدد کارکنوں کی رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان خواتین کے گھر والوں اور احباب کے مطابق ان کے گھروں پر طالبان کے چھاپوں اور گرفتاریوں کے بعد ان کا کچھ اتا پتا نہیں ہے۔