دورہ نیوزی لینڈ: پاکستانی کرکٹرز کی جانب سے کووڈ پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی، چھ کرکٹرز کے ٹیسٹ مثبت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چھ ارکان کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں پر کووڈ-19 کے پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ بورڈ اس بارے میں کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دورے میں مقرر کیے گئے تمام قواعد و ضوابط نیوزی لینڈ کی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں لہذا باضابطہ بیان بھی نیوزی لینڈ کی حکومت جاری کرے گی جسے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ آگے پہنچائے گا۔
تاہم کرکٹ بورڈ افسران سے غیر رسمی گفتگو کے دوران بی بی سی اردو کو اس سلسلے میں ان حقائق کا علم ہوا ہے کہ کھلاڑیوں کی جانب سے پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی کیسے ہوئی ہے؟
معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کی جانب سے کووڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی کے دو واقعات ٹیم کے نیوزی لینڈ پہنچنے کے پہلے بارہ گھنٹے کے دوران ہی سامنے آ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پہلے واقعے میں کھلاڑیوں نے اس وقت پروٹوکول کی خلاف ورزی کی جب انھیں نیوزی لینڈ کے ہوٹل میں کھانا پیش کیا گیا تو کھانے کی ٹرے وصول کرتے وقت کئی کھلاڑیوں نے چہروں پر ماسک نہیں پہن رکھے تھے۔
دوسرا واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ کھلاڑیوں نے ہوٹل میں اپنے کمروں کے دروازے کھول کر ایک دوسرے سے گفتگو شروع کر دی جسے کیمرے نے ریکارڈ کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وسیم خان کا نیوزی لینڈ بورڈ سے رابطہ
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور نیوزی لینڈ کی حکومت کے نمائندوں نے اس بارے میں جمعرات کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق پانچ بجے باضابطہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان سے رابطہ کیا اور اس حساس معاملے پر تفصیلی بات کی۔
اس رابطے کے بعد وسیم خان کو پاکستانی کرکٹ ٹیم سے رابطہ کر کے انھیں یہ ہدایت کرنی پڑی تھی کہ وہ تمام پروٹوکولز کا خیال رکھیں کیونکہ یہ دورہ پاکستانی ٹیم کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
چھ مثبت ٹیسٹ
نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ میں موجود پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دستے کے چھ ارکان کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے پریس ریلیز میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ ان چھ ارکان میں کتنے کھلاڑی ہیں اور کوچنگ سٹاف کے کتنے لوگ شامل ہیں تاہم یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ ان چھ میں سے چار کے کیسز نئے ہیں جبکہ دو کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ ان کے ماضی قریب میں بھی ٹیسٹ مثبت ٹیسٹ آ چکے ہیں۔
چند ذرائع کا دعوی ہے کہ مثبت ٹیسٹ آنے والے تمام چھ کے چھ کھلاڑی ہیں۔
یاد رہے کہ 24 نومبر کو پاکستانی ٹیم کی نیوزی لینڈ آمد کے موقع پر یہ ٹیسٹ لیے گئے تھے اور طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق اس وقت ٹیم آئسولیشن میں ہے لیکن جن چھ کھلاڑیوں کے مثبت ٹیسٹ آئے ہیں انھیں باقی ٹیم سے الگ کر کے قرنطینہ میں منتقل کیا جائے گا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ روانگی سے قبل تمام کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کے چار مرتبہ کورونا ٹیسٹ ہوئے تھے جن کے نتائج منفی آئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیم کی ٹریننگ بھی معطل
چھ کھلاڑیوں کے مثبت ٹیسٹ کے بعد نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹریننگ نہیں کر سکے گی۔
پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ کے دورے میں تین ٹی ٹوئنٹی اور دو ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔
پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اٹھارہ دسمبر کو آکلینڈ میں کھیلا جائے گا۔
اسسٹنٹ منیجر شاہد اسلم قرنطینہ میں
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اسسٹنٹ منیجر شاہد اسلم اس وقت چودہ روز کے لیے قرنطینہ میں ہیں جس کے بعد ان کا کووڈ ٹیسٹ ہو گا جس کی رپورٹ منفی آنے کے بعد وہ ٹیم میں شمولیت اختیار کر سکیں گے۔
شاہد اسلم نے ٹیم کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ایئرلائنز کے ہیلتھ کارڈ پر یہ درج کیا تھا کہ انھیں کھانسی ہے جس پر انھیں آکلینڈ ائرپورٹ پر بقیہ ٹیم سے الگ کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم کی نیوزی لینڈ روانگی سے قبل اوپنر فخرزمان کو ٹیم سے الگ کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ ان کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا تھا لیکن ان کا بخار ختم نہیں ہو رہا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے فیصلہ کیا کہ انھیں اس دورے پر نہ بھیجا جائے۔












