قزاقستان میں حکومت مخالف مظاہروں میں کم سے کم 164 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قزاقستان میں میڈیا اداروں نے طبی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں میں اب تک کم از کم 164 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اگر اس تعداد کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ 44 اموات کی موجودہ تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔
قزاقستان کے صدارتی دفتر نے اتوار کو بتایا کہ اب تک چھ ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ’غیر ملکی شہریوں کی بھی بڑی تعداد‘ شامل ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق ایک حکومتی ٹیلی گرام چینل نے اتوار کے روز بتایا کہ ان ہنگاموں کے دوران 164 افراد کے ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 103 ملک کے سب بڑے شہر الماتی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طورپر تصدیق نہیں کی جا سکی۔
الماتی میں ملک کے سب سے زیادہ پرتشدد ہنگامے دیکھنے کو ملے۔ تاہم اتوار کے روز ہی اس حکومتی ٹیلی گرام چینل سے یہ اعداد و شمار ہٹا دیے گئے اور وزارتِ صحت کی جانب سے روسی اور قزاق میڈیا کو بتایا گیا کہ یہ معلومات غلطی سے شائع کر دی گئی تھیں۔
تاہم ان اعدادوشمار کے بارے میں سرکاری سطح پر نہ تو کوئی تردید سامنے آئی ہے اور نہ ہی نئے اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ اینتھونی بلنکن نے اتوار کے قزاقستان میں مظاہرین کے خلاف وارننگ دیے بغیر گولی چلانے کے احکامات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وسطی ایشیا ملک میں اسی پالیسی کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
انھوں نے اے بی سی سنڈے کے ٹاک شو 'دس ویک' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ایک ایسی چیز ہے جو مکمل طور پر رد کرتا ہوں، وارننگ دیے بغیر گولی چلانے کے احکامات غلط ہیں اور انھیں فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی قزاق وزیرِ خارجہ مختار تیلوبردی سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مظاہرے تیل کی قیمتوں میں اضافے سے شروع ہوئے تھے اور اب یہ ہنگامہ آرائی میں تبدیل ہو کر ملک بھر میں پھیل گئے ہیں۔
دو جنوری کو شروع ہونے والے یہ مظاہرے حکومت اور سابق صدر نور سلطان نذربائیف کے خلاف ہو رہے ہیں جو تین دہائیوں تک قزاقستان کے صدر رہے اور اُنھیں اب بھی خاصے اثر و رسوخ کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔
گذشتہ ہفتے روس اور دیگر ممالک سے فوجیوں کو امن و امان بحال کرنے کی غرض سے قزاقستان بھیجا گیا تھا۔
صدارتی بیان میں کہا گیا کہ صورتحال مستحکم ہو چکی ہے جبکہ فوجی 'کلین اپ' آپریشن کر رہے ہیں اور 'حساس تنصیبات' کی حفاظت کر رہے ہیں۔
ملک بھر میں ہنگامی صورتحال اور کرفیو نافذ ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام

قزاقستان کے بارے میں
- اس ملک کی شمالی سرحد روس اور مشرقی سرحد چین سے ملتی ہے۔
- یہ انتہائی بڑا ملک ہے اور اس کا حجم مغربی یورپ جتنا ہے۔
- یہ مسلم اکثریتی ملک ہے جو اس سے قبل سوویت یونین کا حصہ تھا۔
- یہاں روسی افراد اقلیت میں ہیں۔
- قزاقستان معدنیات کی دولت سے مالامال ہے اور تیل کے عالمی ذخائر کا تین فیصد حصہ یہاں موجود ہے جبکہ کوئلے اور گیس کے شعبے بھی مستحکم اور ترقی یافتہ ہیں۔
- یہ ملک حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے خبروں میں ہے جو اب حکومت مخالف مظاہروں میں بدل چکے ہیں۔
- مظاہروں کے بعد اعلیٰ سطح پر استعفے تو دیے گئے ہیں تاہم مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن بھی کیا گیا ہے۔


،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی کے نمائندے سٹیو روزنبرگ کہتے ہیں کہ دارالحکومت نور سلطان میں سکیورٹی سخت کر دیے جانے کے واضح اشارے موجود ہیں جبکہ صدارتی محل جانے والا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ حالیہ تشدد قزاقستان کی حکمران اشرافیہ میں طاقت کی رسہ کشی سے منسلک ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حالیہ تشدد میں اطلاعات کے مطابق 103 ہلاکتیں الماتے میں ہوئی ہیں۔
سکیورٹی فورسز کے مطابق اُنھوں نے امن و امان کی بحالی کے دوران الماتے میں ہنگامہ کرنے والوں کو ہلاک کیا۔ فورسز کے مطابق مظاہرین شہر کے پولیس تھانوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
صدر قاسم جومارت تخائیف نے کہا کہ '20 ہزار غنڈوں' نے الماتے پر حملہ کیا اور اُنھوں نے سکیورٹی فورسز کو وارننگ دیے بغیر گولی چلانے' کا حکم دیا ہے۔
سنیچر کو قزاق حکام نے کہا کہ ملک کے سابق انٹیلیجنس سربراہ کریم مسیموف کو غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم اُنھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔










