ایپل کے حصص کی قیمت تین ٹرلین ڈالر تک پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی ایپل دنیا کی پہلی کمپنی بن گئی ہے جس کے حصص کی بازار میں قدر تین ٹرلین ڈالر یا تین ہزار بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اس کمپنی کی حصص کی قدر اس کے بانی اور سابق چیف ایگزیکٹیو سٹیو جوبز کی طرف سے سنہ 2007 میں پہلے آئی فون کی نقاب کشائی کے بعد سے اب تک 5800 ہزار فیصد بڑھ چکی ہے۔
ایپل کمپنی کے بارے میں مزید پڑھیے
سوموار کو نیویارک کے حصص بازار میں ہونے والے کاروبار میں اس کی قدر میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی اور تین ٹرلین ڈالر کا سنگ میل چھونے کے بعد آئی فون کے حصص کی قیمتیں دو اعشاریہ 99 ٹرلین پر بند ہوئی۔
ایپل کمپنی کو گزشتہ سال دنیا میں پھیلنے والی عالمی وباء کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے کیونکہ لاک ڈاؤن یا کووڈ کی پابندیاں لاگو ہونے کے بعد نئے اور جدید آلات کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا۔
ویڈ بش نامی ایک کمپنی کے تجزیہ کار ڈین ایوز کا کہنا ہے کہ 'تین کھرب ڈالر تک پہنچنا ایپل کمپنی کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا اور ایک مرتبہ پھر کمپنی پر شک کرنے والوں کو اس نے غلط قرار دے دیا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مصنوعات جن میں سمارٹ فون، ٹیبلٹس اور لیپ ٹاپ کمپیوٹر شامل ہیں ان کی مانگ میں کووڈ کی وجہ سے بے پناہ اضافہ ہوا اور ایپل کے حصص کی قدر صرف سولہ ماہ میں دو کھرب ڈالر سے تین کھرن ڈالر کو چھونے لگی ہے۔
اپیل نے سنہ 2018 میں اس وقت دنیا کی پہلی کمپنی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا تھا جب اس کے حصص کی قدر سٹاک مارکیٹ میں ایک کھرب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
عالمی سطح پر کمپنی کی مجموعی سیل کا نصف فیصد حصہ آئی فون سے آتا ہے جب کہ اس کے بنائے ہوئے آئی پیڈ، میک کمپیوٹر بھی کافی مقبول ہیں۔
اس کے کاروبار کے دوسرے اجزا میں سافٹ ویئر جو ایپل سٹور کے ذریعے فروخت ہوتے ہیں، 'سٹورج سپیس' جو آئی کلاؤڈ کے ذریعے دستیاب کیا جاتا ہے اور بہت سی سروسز جن میں موسیقی، ٹی وی اور فٹنس سہولیات کے پیلٹ فارم شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل کی قدر کا بنیادی جز اس کی سہولیات یا سروسز کا کاروبار ہے جس کی ان کے مطابق قدر ڈیڑھ کھرب ڈالر بنتی ہے۔
اس سال اگست میں ایپل کے چیف ایگزیکیٹو ٹم کک کو دس سال مدت ملازمت مکمل ہونے پر پچاس لاکھ حصص کمپنی کی طرف سے دیئے گئے تھے۔
امریکہ کی سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے انھوں نے زیادہ تر حصص فروخت کر دیئے تھے جس سے ان کو پچھتر کروڑ ڈالر کی آمدن ہوئی تھی۔
یہ اس معاہدے کا حصہ تھا جس پر انھوں نے سٹیو جوبز سے یہ عہدہ لیتے ہوئے دستخط کیے تھے۔
امریکہ کی ریاست کیلفورنیا میں سنہ 1976 میں سٹیو جوبز اور ان کے کاروباری شراکت داروں سٹیو وزنک اور رونلڈ وائن نے ایپل کی بنیاد رکھی تھی۔
کمپنی کو سنہ 1980 میں سٹاک مارکیٹ پر رجسٹر کروایا گیا اور اس کے حصص کی قیمت اس وقت ایک اعشاریہ 8 ارب ڈالر متعین ہوئی تھی۔
سن 2021 نومبر میں پہلا ایپل کمپیوٹر جو ویزنک اور جوبز نے مل کر بنایا تھا اس کی چار لاکھ ڈالر میں نیلامی ہوئی تھی۔












