کووڈ: عالمی ادارۂ صحت کے مطابق نئے متاثرین کے سونامی کی وجہ اومیکرون اور ڈیلٹا، یورپ اور امریکہ میں لاکھوں نئے کیسز

،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی اقسام ڈیلٹا اور اومیکرون کے ملاپ نے نئے متاثرین کے سونامی کو بڑھاوا دیا ہے۔
تدروس ادهانوم کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب یورپی ممالک اور امریکہ میں نئے متاثرین بڑھ رہے ہیں۔
یورپی ممالک میں فرانس میں لگاتار دوسرے روز سب سے زیادہ متاثرین 208000 سامنے آئے ہیں۔ جانز ہاپکنز کے مطابق امریکہ میں گذشتہ ہفتے یومیہ اوسطاً 265427 متاثرین ریکارڈ کیے گئے۔
ڈنمارک، پرتگال، برطانیہ اور آسٹریلیا میں بھی نئے متاثرین کے اعداد و شمار کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔
پولینڈ میں بدھ کو کووڈ سے 794 اموات کی تصدیق ہوئی۔ یہ عالمی وبا کی چوتھی لہر میں کووڈ سے ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔ ان میں تین چوتھائی لوگ غیر ویکسین شدہ تھے۔
اس حوالے سے کی گئی تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ وائرس کی اومیکرون قسم ڈیلٹا سے کم خطرناک ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کا ہسپتال میں داخل ہونے کا امکان 30 سے 70 فیصد کم ہے۔ تاہم اس حوالے سے خدشات اب بھی موجود ہیں کہ اس وائرس کے انتہائی متعدی ہونے کے باعث ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ممکنہ طور پر دونوں اقسام کی بدولت نئے متاثرین بڑھ رہے ہیں۔ فرانس کے وزیر صحت نے حالیہ بیان میں کہا کہ وہ اب اومیکرون کے لیے لہر نہیں بلکہ ’سمندری لہر‘ کے الفاظ استعمال کریں گے۔
تاہم ڈاکٹر تدروس نے متنبہ کیا کہ دونوں اقسام کے ’دگنے خطرے‘ نے نئے متاثرین کی مجموعی تعداد کو بڑھایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اس سے ہیلتھ ورکرز اور ملکوں میں صحت کے نظام پر مزید بوجھ بڑھے گا جو تباہی کا دھانے پر ہیں۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت اوسطاً نو لاکھ یومیہ متاثرین رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے سی این این کو بتایا ہے کہ آبادی کے حجم اور ویکسین کی شرح کے اعتبار سے امریکہ میں اومیکرون کے متاثرین جنوری کے اواخر تک بڑھیں گے۔
امیر ممالک نے ویکسین کی تیسری خوراک کی ’بوسٹر‘ مہم شروع کر دی ہے۔ برطانیہ میں 12 سال سے زیادہ عمر کے 57 فیصد افراد کو اب تین خوراکیں دی جا چکی ہیں۔
مگر ڈاکٹر تدروس نے رپورٹرز کو بتایا کہ امیر ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر بوسٹر مہم سے ’عالمی وبا کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے‘ کیونکہ اس سے غریب اور کم ویکسین حاصل کرنے والے ممالک کے لیے طبی سامان کم پڑے گا۔ ’اس سے وائرس کو پھیلنے اور مزید اقسام بنانے کا موقع ملتا ہے۔‘
انھوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے سال کے موقع پر ان کی اس مہم میں شامل ہوں جس کے تحت سال 2022 کے وسط تک دنیا کے 70 فیصد لوگ ویکسین حاصل کر لیں گے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ قریب 100 ممالک نے اب تک اپنی آبادی کے 40 فیصد لوگوں کو ویکسین دینے کا ہدف حاصل نہیں کیا ہے۔
منگل کو جاری ہونے والی عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں کووڈ کی تمام اقسام کے نئے متاثرین 26 دسمبر سے قبل 57 فیصد بڑھے ہیں۔ جبکہ امریکہ میں یہ شرح 30 فیصد ہے۔
امریکہ، فرانس میں کورونا کے ریکارڈ یومیہ کیسز، پاکستانی حکام کی عوام سے جلد ویکسین لگوانے کی اپیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی اومیکرون قسم تیزی سے پھیل رہی ہے اور گذشتہ روز فرانس اور امریکہ میں وبا کے آغاز کے بعد سے یومیہ سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور دنیا کے بہت سے ممالک نے نئے سال کے آغاز پر کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اُدھر پاکستان میں صحت کے حکام نے مطلع کیا ہے کہ اب تک ملک میں اومیکرون کے کل 75 کیسز کی تشخیص ہو سکی ہے۔ 33 کیسز کراچی، 17 اسلام آباد اور اومیکرون وائرس کا شکار 13 افراد کی تشخیص صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہوئی ہے۔
مجموعی طور پر گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے 348 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ اسی دورانیے میں چھ اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ پاکستان کے قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے گذشتہ روز ایک پیغام میں عوام سے پہلی ویکسینیشن جلد از جلد مکمل کرنے اور ویکیسن کی بوسٹر ڈوز (خوراک) لگوانے کی اپیل کی گئی ہے۔
امریکہ اور دیگر ممالک میں صورتحال
امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) نے بتایا ہے کہ ملک میں پیر کے روز چار لاکھ چالیس ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
تاہم حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس لیے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ اُن کی رپورٹنگ میں کرسمس کے باعث تاخیر ہوئی۔
دوسری جانب فرانس میں یورپ کے اب تک سب سے زیادہ یومیہ کورونا متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔ منگل کے روز ملک میں لگ بھگ ایک لاکھ 80 ہزار افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے۔
فرانس کے صحت کے وزیر اولیویئر ویئران نے اس سے قبل متنبہ کیا تھا کہ موجودہ صورتحال اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ فرانس میں جنوری کے آغاز سے یومیہ ڈھائی لاکھ کووڈ کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔
تاہم امریکہ میں سی ڈی سی کے ترجمان نے نیوز ویب سائٹ پولیٹکو کو بتایا کہ پیر کو ملک میں سامنے آنے والے اعداد و شمار ’اندازوں سے کہیں زیادہ‘ اس لیے ہیں کیونکہ اس سے قبل کرسمس کے باعث ٹیسٹنگ مراکز کی بندش اور ٹیسٹنگ کے نتائج میں تاخیر آ رہی تھی اور نئے سال کے آغاز سے یہ اعداد وشمار معمول پر آ جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹلی، یونان، پرتگال اور انگلینڈ تمام ہی ممالک میں منگل کے روز کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اپنی ہفتہ وار کووڈ اپ ڈیٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ وائرس کی اومیکرون قسم سے جڑا خطرہ ’اب بھی بہت زیادہ ہے۔‘
منگل کے روز شائع ہونے والی اپ ڈیٹ کے مطابق، یورپ میں 26 دسمبر سے ایک ہفتہ قبل کووڈ 19 کی تمام اقسام سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 57 فیصد سے بڑھی ہے جبکہ امریکہ میں یہ تعداد 30 فیصد بڑھی ہے۔
اس حوالے سے کی گئی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرس کی اومیکرون قسم ڈیلٹا سے کم خطرناک ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کا ہسپتال میں داخل ہونے کا امکان 30 سے 70 فیصد کم ہے۔ تاہم اس حوالے سے خدشات اب بھی موجود ہیں کہ اس وائرس کے انتہائی متعدی ہونے کے باعث ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
فرانسیسی وزیرِ اعظم جین کیسٹیکس نے رواں ہفتے کے آغاز میں نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں جن میں جنوری کے آغاز سے ہفتے میں تین روز گھر سے کام کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔
ملک میں بوسٹر شاٹس بھی لگائے جا رہے ہیں اور اب تک دو کروڑ تیس لاکھ افراد کو ویکسین کی بوسٹر خوراک دی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دیگر یورپی ممالک میں بھی منگل کے روز ریکارڈ یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ اٹلی میں 78 ہزار افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی جو عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے یومیہ مریضوں کی تعداد کا ریکارڈ ہے۔ اٹلی میں گذشتہ روز 202 ہلاکتیں ہوئیں جس سے ملک میں کل اموات کی تعداد ایک لاکھ 37 ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ پرتگال میں 17 ہزار سے زیادہ جبکہ یونان میں لگ بھگ 22 ہزار کووڈ کیسز رپورٹ ہوئے۔
ادھر انگلینڈ میں حکام کے مطابق کل ایک لاکھ 17 ہزار سے زیادہ افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی۔ جہاں بڑے یورپی ممالک کے دارالحکومتوں پیرس، لندن اور برلن میں نئے سال کے جشن کے حوالے سے تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ کچھ ممالک اب بھی پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
فرانس اور انگلینڈ کی جانب سے سے لوگوں سے اپنی عقل کے مطابق فیصلے کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں نئے سال کا جشن معمول کے مطابق منانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے تاہم پوئیرٹا ڈیل سول سکوائر کے مرکزی اجتماع میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد محدود رکھی جائے گی۔
اٹلی کی جانب سے نائٹ کلبز اور کھلے آسمان تلے ہونے والے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن چار دیواری میں ہونے والے اجتماعات پر فی الحال کوئی پابندی نہیں ہے۔












