اومیکرون: انڈیا میں کووڈ کی نئی قسم کے دو کیسز کی تشخیص

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہMARIO TAMA/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشندو نوں مریض جنوبی افریقہ سے آئے تھے

انڈیا میں پہلی بار کووڈ 19 کی نئی قسم اومیکرون کے دو کیسز سامنے آئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جن دو مردوں میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ان کا تعلق کرناٹک سے ہے۔

جمعرات کو وزارت صحت کے جوائنٹ سکریٹری لو اگروال نے انڈیا میں اومیکرون انفیکشن کے دو کیسز کی تصدیق کی ہے۔

وزارت صحت کی پریس کانفرنس میں لو اگروال نے کہا کہ کل رات کرناٹک میں کورونا وائرس کے اومیکرون قسم کے انفیکشن کے دو کیسز کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ انفیکشن ایک 66 سالہ اور ایک 46 سالہ شخص میں پایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ان دو متاثرہ افراد کے رابطے میں آیا ہے انہیں ٹریس کیا جا رہا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

دونوں پانچ دن قرنطینہ میں تھے

لاو اگروال نے بتایا کہ جن دو افراد میں اومیکرون انفیکشن پایا گیا ہے وہ جنوبی افریقہ سے آئے ہیں اور ان میں معمولی علامات دیکھی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک اہلکار نے بی بی سی ہندی کے عمران قریشی کو بتایا کہ 'یہ دونوں جنوبی افریقہ سے انڈیا آئے تھے اور 27 نومبر سے قرنطینہ میں تھے'۔

اہلکار نے کہا کہ ان کے رابطوں کی ٹریسِنگ کر کے نمونوں کو تحقیقات کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور جلد ہی ان نمونوں کے نتائج ملنے کی توقع ہے۔

ادھر کرناٹک کے وزیر صحت نے بتایا ہے کہ 'دونوں کے ابتدائی ٹیسٹ کیے گئے تھے جس میں دونوں کو کورونا سے متاثر پایا گیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں پریشان ہونے کی نہیں بلکہ آگاہی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'انفیکشن کے جو مریض سامنے آئے ہیں ان میں معمولی علامتیں ہیں۔ دنیا میں اب تک اومیکرون انفیکشن کے رپورٹ ہونے والے زیادہ تر کیسز میں سنگین علامات نہیں دیکھی گئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اومیکرون انفیکشن کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ اس انفیکشن کے بارے میں معلومات ابھی جمع کی جا رہی ہیں'۔

ابھی لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں ہے

کیا ایک بار پھر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی نوبت آ سکتی ہے اس بارے میں نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جو بھی فیصلے کیے جائیں وہ سائنسی حقائق کے سامنے آنے کے بعد ہی کیے جائیں۔

انہوں نے کہا 'ہمیں نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہمارے پاس اس کے لیے ہر چیز دستیاب ہے۔ ہمیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماسک پہنیں اور کووڈ انفیکشن سے بچنے کے لیے مجوزہ اقدامات پر عمل کریں'۔

ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ 'کووڈ ویکسین کی بوسٹر خوراک پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اسے سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ویکسین کی بوسٹر خوراک کا بھی مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتائج سامنے آنے کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے'۔