ایلون مسک: ’خلا میں اربوں سیٹلائیٹ سما سکتے ہیں۔۔۔ ہم کسی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈال رہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’خلا میں ہزاروں سیٹلائٹ کی موجودگی ایسے ہی ہیں جیسے زمین پر (دوڑتی) چند ہزار گاڑیاں۔۔۔ (یعنی) کچھ بھی نہیں۔‘
برقی گاڑی ٹیسلا سے مشہور ہونے والے امریکی بزنس مین ایلون مسک اس تنقید کا جواب دے رہے تھے جس کا سامنا اُنھیں خلا میں ہونے والے ایک حالیہ حادثے کے بعد کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ چین نے شکایت کی تھی کہ اس کے خلائی سٹیشن کی سٹار لنک انٹرنیٹ سروس کے مصنوعی سیاروں (سیٹلائٹ) سے ٹکر ہوتے ہوتے رہ گئی ہے۔ ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس سٹار لنک کے نام سے سیٹلائٹ انٹر نیٹ کا ایک نیٹ ورک چلاتی ہے۔
بیجنگ کا دعویٰ ہے کہ رواں سال اس کا خلائی سٹیشن اس وقت دو مرتبہ حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچا جب سٹار لنک کی سیٹلائٹ اس سے ٹکرانے کے قریب تھی۔
’ہم کسی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈال رہے‘
چین میں سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ایلون مسک نے فائنینشل ٹائمز کو انٹریو میں اس موقف کو رد کیا کہ ان کی کمپنی کے سیٹلائیٹ خلا میں بہت زیادہ جگہ گھیرتے ہیں۔
’زمین کے قریب مدار میں تو اربوں سیٹلائیٹ سما سکتے ہیں۔ خلا تو انتہائی وسیع ہے اور سیٹلائیٹ بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔‘
ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کی کمپنی کے سیٹلائیٹ نے کسی کا راستہ روکا ہو۔ ’ہم کسی کو کچھ کرنے سے نہیں روک رہے اور نا ہی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے مذید کہا کہ خلا میں چند ہزار سیٹلائیٹ کی موجودگی کچھ بھی نہیں ہے۔ ’یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں کہ دیکھو زمین پر چند ہزار گاڑیاں ہیں۔ کچھ بھی نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ سپیس ایکس اس سے قبل 1900 مصنوعی سیارے مدار میں پہنچا چکی ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ وہ مزید ایک ہزار سیارے خلا میں چھوڑیں گے۔
چین میں ایلون مسک پر تنقید کیوں ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
خلائی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کو اس ماہ چین کی طرف سے پیش کی گئی دستاویز کے مطابق مذکورہ واقعات یکم جولائی اور 21 اکتوبر کو پیش آئے تھے۔
ایک ویب سائٹ پر شائع ہونے والی خبر کے مطابق چین نے اقوام متحدہ کو پیش کردہ دستاویزات میں کہا ہے کہ چین کے خلائی سٹیشن کو حفاظتی نقطہ نگاہ سے تصادم سے بچنے کے نظام کو متحرک کرنا پڑا۔
جن ممکنہ حادثات کے بارے میں یہ شکایت اقوام متحدہ کے خلائی ادارے میں درج کروائی گئی، ان کے بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس بارے میں بی بی سی نے سپیس ایکس سے رابطہ قائم کیا تو فوری طور پر اس کا جواب نہیں دیا گیا۔
اس شکایت کے بارے میں جب خبر سامنے آئی اور لوگوں کو معلوم ہوا تو ایلون مسک اور امریکہ میں چین کی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر شدید تنقید کی جانے لگی۔
ایک صارف نے لکھا کہ سٹار لنک کی سیٹلائٹس 'خلا میں پھیلا کوڑا کرکٹ ہیں۔'
چند دیگر صارفین کا کہنا تھا کہ مسک کی سیٹلائٹس امریکہ کے خلائی ہتھیار ہیں یا امریکی حکومت و فوج کے نئے ہتھیار ہیں۔
ایک اور پیغام میں کہا گیا کہ 'سٹار لنک کے خطرات اب آہستہ آہستہ سامنے آ رہے ہیں اور ساری انسانیت کو ان کاروباری سرگرمیوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔'
چین نے سرکاری سطح پر امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ خلائی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر کے خلابازوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'ایلون مسک خلا میں نجی انڈسٹری کا قانون بنا رہا ہے'
ایلون مسک کو صرف چین سے ہی تنقید کا سامنا نہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی کی جانب سے بھی ان پر کڑی تنقید کی گئی ہے جس کے ڈائریکٹر جنرل جوزف آرچ بیشر نے کہا ہے کہ ایکون ملسک کی کمپنی سٹار لنک کے ہزاروں سیٹلائیٹس کی وجہ سے خلا میں ان کے مقابلے پر آنے والی کمپنیوں کے پاس کم جگہ رہ جائے گی۔ لیکن ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں اور نا ہی وہ کسی کو خلا میں جانے سے روک سکتے ہیں۔
ماہرین ایلون مسک کی بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایلون مسک کے دعووں کے برخلاف خلا میں سیٹلائٹس کے درمیان فاصلہ درکار ہوتا ہے ورنہ ٹکراو کا اندیشہ موجود رہے گا۔
جوزف آرچ بیشر کہتے ہیں کہ ایلون مسک خلا میں نجی انڈسٹری کا قانون خود ہی بنا رہا ہے۔
سائنسدانوں نے بھی اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ خلا میں حادثات رونما ہو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے دنیا بھر کے ملکوں کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خلا میں موجود 30 ہزار سے زیادہ مصنوعی سیاروں اور خلا میں گردش کرنے والے مصنوعی سیاروں کے پرزوں اور ملبے کے بارے میں معلومات عام کریں۔
گذشتہ ماہ امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر چہل قدمی کا منصوبہ خلائی کچرے کے خطرے کے باعث اچانک منسوخ کر دیا تھا۔











