ٹوئٹر فالوورز کا ایلون مسک کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے ٹیسلا کے دس فیصد حصص بیچنے کا مشورہ

ایلون مسک

،تصویر کا ذریعہReuters

ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر پر کیے جانے والے ایک پول میں ووٹرز نے انھیں ٹیکس کی ادائیگی کے لیے کمپنی میں اپنے دس فیصد حصص فروخت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ایلون مسک کی جانب سے سنیچر کو شروع کیے جانے والے پول میں 35 لاکھ سے زیادہ افراد نے حصہ لیا جن میں سے تقریباً 58 فیصد نے حصص کی فروخت کے حق میں ووٹ دیا۔

مسک نے اس پول کے نتائج پر عمل درآمد کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے، جو امریکی ڈیموکریٹس کی طرف سے تجویز کردہ ’ارب پتی ٹیکس‘ کا جواب ہے۔

اتوار کے روز ختم ہونے والی اس ووٹنگ کے بعد ایلون مسک کو الیکٹرک کار کمپنی کے ممکنہ طور 21 ارب ڈالر مالیت کے حصص فروخت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ایلون مسک نے جو دنیا کے امیر ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، پول کے نتائج پر تاحال تبصرہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ وہ کب اور کیسے یہ حصص فروخت کریں گے۔

اگر وہ حصص فروخت کرتے ہیں تو انھیں بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹیو 200 ارب ڈالر سے زیادہ کے شیئرز کے مالک ہیں اور اگلے سال ان کی مالیت اور بھی بڑھ سکتی ہے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے تجویز کردہ منصوبے کے تحت، ارب پتیوں کے ’غیر حقیقی منافع‘ پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے جب ان کے حصص کی قیمت بڑھ جاتی ہے، چاہے وہ اپنا کوئی سٹاک فروخت نہ بھی کریں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اتوار کے روز ایلون مسک نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ’دیکھیں میں کہیں سے بھی کیش میں تنخواہ یا بونس نہیں لیتا۔ میرے پاس صرف سٹاک ہیں تو ذاتی طور پر میرے لیے ٹیکس ادا کرنے کا یہ ہی طریقہ ہے کہ میں اپنے سٹاک فروخت کر دوں۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’’غیر حقیقی منافع‘ کو ٹیکس سے بچنے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے، حال ہی میں بہت کچھ گیا ہے لہذا میں اپنے ٹیسلا سٹاک کا 10 فیصد فروخت کرنے کی تجویز دیتا ہوں۔‘

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ منافع پر مجوزہ ٹیکس، چاہے اثاثے فروخت کیے گئے ہوں یا نہ ہوں، امریکہ میں تقریباً 700 ارب پتیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ناقدین نے نشاندہی کی ہے کہ اثاثوں کی قدر میں ہمیشہ اضافہ نہیں ہوتا۔

ایلون مسک کے پاس ایک آپشن ہے، جس کے تحت وہ ٹیسلا کے 22.86 ملین شیئر 6.24 ڈالر فی شییر کی قیمت پر خرید سکیں جو ٹیسلا کے موجودہ شیئر کی مالیت کے مقابلےمیں بہت کم رقم ہے۔ ایلون مسک اگلے برس اگست تک اس سہولت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ایلون مسک نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ ٹیسلا کے سٹاک میں چھ ارب ڈالر فروخت کریں گے اور اس رقم کو ورلڈ فوڈ پروگرام کو عطیہ کریں گے بشرطیکہ کہ ادارہ ان معلومات کا انکشاف کرے کہ وہ اپنی رقم کیسے خرچ کرتا ہے۔