روس نے یوکرین کی سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے شرائط پیش کر دیں

یوکرین فوج

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیوکرین صدر اس مہینے کے آغاز میں روسی سرحد کے قریب اپنے فوجیوں سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔

روس نے مشرقی یورپ کے ممالک میں امریکی زیر قیادت نیٹو فوجی اتحاد کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی پڑھتی جا رہی ہے۔ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ روس اپنے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

روس اس کی تردید کرتا ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ نیٹو نہ صرف یوکرین کی بلکہ دیگر ممالک کی بھی نیٹو میں شمولیت کو مسترد کرے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

ماسکو چاہتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات کا آغاز ہو - لیکن اس کی تجاویز کو واشنگٹن میں ایک ’نان اسٹارٹر‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے ماسکو کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین پساکی نے صحافیوں کو بتایا کہ 'ہمارے یورپی اتحادیوں اور شراکت داروں کے بغیر یورپی سلامتی پر کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔'

نیٹو، جو اصل میں سابق سوویت یونین کے ممکنہ خطرات سے یورپ کے دفاع کے لیے ایک فوجی اتحاد کے طور پر قائم کیا گیا تھا، اس کی افواج بالٹک ریپبلکز اور پولینڈ میں موجود ہیں۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ روس نے امریکہ اور نیٹو کو دو معاہدوں کا مسودہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ 'روس اور اجتماعی مغرب کے درمیان تعلقات میں مکمل طور پر اعتماد کا فقدان ہے۔'

اِن تجاویز میں روس نے ریڈیکل مطالبات پیش کیے ہیں، جن کے تحت سوویت یونین کے تحلیل ہونے کے بعد نیٹو میں شامل ہونے والے ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں فوج یا ہتھیار تعینات نہ کریں جہاں انہیں روس کے لیے خطرہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بھاری بمباروں اور جنگی جہازوں کو ان کی قومی فضائی حدود یا پانی سے باہر کے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی جہاں سے وہ حملہ کر سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیٹو تین بالٹک جمہوریہ یا پولینڈ میں سے کسی میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔ اور نیٹو کو بالآخر مغربی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے یوکرین اور جارجیا کے منصوبوں کو چھوڑنا پڑے گا۔

تجزیہ: سٹیو روزنبرگ

روس کے مطالبات ناقابلِ قبول ہیں

سفارت کاری امکانات پر کام کرنے کا فن ہے۔ جی ہاں، ایسا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔

یہ تصور کرنا عملی طور پر ناممکن ہے کہ بغیر کسی خاص تبدیلی کے امریکہ اور نیٹو کے دیگر ارکان روسی سفارت کاروں کے تیار کردہ مسودے پر دستخط کریں۔

روس اس بات پر ویٹو کا مطالبہ کر رہا ہے کہ اتحاد میں کون شامل ہوگا یا نہیں ہوگا۔ اس لحاظ سے تجاویز کے روسی مسودے کوایک 'نان اسٹارٹر' کہا گیا ہے۔ نیٹو پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہے کہ ماسکو کا کوئی حق نہیں کہ وہ یہ طے کرے کہ کون اس کا رکن بنتا ہے اور کون نہیں۔

اس کے علاوہ روس کی کوشش ہے کہ وہ واپس سنہ 1997 کے زمانے میں سب کو لے جائے۔ یعنی اس تاریخ کے بعد جو بھی ممالک نیٹو اتحاد میں شامل ہوئے ان میں نیٹو افواج یا ہتھیار تعینات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ بالٹک ریاستیں جو روس کو اپنے لیے ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھتی ہیں، وہ روس کی تجاویز کے بارے میں کیسا محسوس کریں گی؟

ماسکو اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ ایسی چیزوں کا مطالبہ کر رہا ہے جو مغرب اُسے فراہم نہیں کرے گا، تو پھر ایسے مطالبات کیوں کیے گئے ہیں؟

اسے شاید ایک مذاکراتی حربہ کہا جاسکتا ہے۔ پہلے بڑے بڑے مطالبے کریں اور پھر بعد میں دیگر جگہوں پر مراعات حاصل کرنے کی امید رکھیں۔

یا ایسا بھی ہوسکتا ہے روس نے ان مطالبات کو اپنی گھریلو کھپت کے لیے پیش کیے ہوں: روسی عوام کو یہ باور کرانے کے لیے کہ روس اور مغرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ماسکو کی غلطی نہیں ہے۔

line

روس نے سنہ 2008 میں ایک مختصر جنگ کے دوران جارجیا پر حملہ کیا اور مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرنے سے پہلے سنہ 2014 میں یوکرین کے حصے کریمیا پر قبضہ کر لیا۔

یوکرین کے مشرق میں تصادم اپریل سنہ 2014 میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس میں 14,000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، یہاں سے ہلاکتوں کی اطلاع تاحال آ رہی ہے۔

تاہم یوکرین کی سرحدوں سے باہر کے علاقوں میں روسی افواج کی تعیناتی نے ایک اور روسی حملے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے جمعرات کی رات دیر گئے ایک سربراہی اجلاس میں خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کے 'بڑے پیمانے پر نتائج ہوں گے اور اس کی بھاری قیمت' ادا کرنا ہو گی۔ اجلاس میں کشیدگی میں اضافے کو کم کرنے کے لیے اسے طے کرنے کی سفارتی کوششوں پر زور دیتے ہوئے روس پر پابندیاں عائد کرنے جیسے اقدامات کی بھی بات کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کو پیرس، برلن، کِیف اور ماسکو کے درمیان چار طرفہ مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے، جسے نارمنڈی فارمیٹ کے نام دیا جاتا ہے۔ جبکہ روس واضح طور پر امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت پر توجہ مرکوز کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے خبردار کیا ہے کہ روس یوکرین کی سرحد پر'جنگ کے لیے تیار دستوں، ٹینکوں، توپ خانے، بکتر بند یونٹوں، ڈرونز اور الیکٹرانک جنگی کے نظام' کے ساتھ اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔

A Ukrainian serviceman is seen on the front line near the village of Travneve in Donetsk region, Ukraine, December 15, 2021

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس خطے میں جنگ بندی کے کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد کے واقعات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

یوکرین کے صدر وولادیمیر زیلنسکی نے بدھ کے روز کہا کہ وہ روس کی طرف سے کسی بھی فوجی کارروائی کرنے سے پہلے فوری طور پر روس پر پابندیاں عائد کرنے کو ترجیح دیں گی۔

یوکرین کی سرحدیں یورپی یونین اور روس دونوں کے ساتھ ملتی ہیں، یوکرین کے روس کے ساتھ گہرے سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔