فلائٹ وی سی 10: ’میں اس طیارہ حادثے کی عینی شاہد ہوں جس میں میری دو بہنیں ہلاک ہوئیں‘

- مصنف, سارہ میک ڈرموٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
اپریل 1972 کے اُس دن ہیریئٹ آسٹن عدیس ابابا ایئرپورٹ پر اپنے والدین کے ساتھ کھلے آسمان تلے بنے ایک چبوترے پر کھڑی تھیں۔
مسیحی تہوار ’ایسٹر‘ کی چھٹیاں ختم ہو چکی تھیں اور اُن کی دو بہنیں، 12 سالہ کیرولین اور 14 سالہ جین، ایتھوپیا سے واپس انگلینڈ جا رہی تھیں تاکہ وہاں اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
دونوں بہنیں طیارے کی سیڑھیوں پر اُوپر پہنچیں، مڑ کر اپنی بہن اور والدین کو ہاتھ ہلا کر الوداع کہا اور پھر جہاز کے اندر چلی گئیں۔
جلد ہی ان کا طیارہ ٹیک آف ہونے کے لیے رن وے پر تیزی سے دوڑ رہا تھا، پھر اچانک آسمان میں بلند ہونے کی بجائے جہاز کی بریکس کا بلند شور سنائی دیا۔
بے قابو ہو جانے والا جہاز کچھ دیر رن وے پر اِدھر اُدھر ڈولتا رہا اور پھر رن وے کے آگے موجود ایک کھائی میں گِر گیا۔
ہیریئٹ یاد کرتی ہیں کہ ’اور پھر اچانک کالے دھوئیں کا بڑا سا بادل نمودار ہوا۔‘
ہیریئٹ اپنی والدہ ایلسا کا ہاتھ پکڑے بے یقینی کے عالم میں یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں جبکہ ان کے والد بِل انھیں پیچھے چھوڑتے ہوئے جہاز کی جانب بھاگے۔

،تصویر کا ذریعہBill Ware-Austin
دوسری جانب ہزاروں میل دور برطانیہ کے شہر واروک کے ایک بورڈنگ سکول میں 12 برس کے گراہم ٹاؤنسینڈ ایسٹر کی چھٹیوں کے بعد اپنے دو چھوٹے بھائیوں کرسٹوفر اور کینیتھ کا انتظار کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عام طور پر تینوں بھائی اپنے والدین سے ساتھ عدیس ابابا میں چھٹیاں گزارتے تھے لیکن اس برس منصوبے میں تھوڑی تبدیلی آئی اور گراہم ایتھوپیا نہیں گئے۔
لہٰذا وہ اپنے بھائیوں کی واپسی اور ان سے قصے سننے کے لیے بے تاب تھے۔ جب انھیں اس حادثے کی خبر ملی تو تفصیلات واضح نہ تھیں۔ کسی پرواز کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا تھا لیکن گراہم کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کتنا بُرا ہونے والا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے ابتدائی خیالات کچھ یوں تھے کہ واہ میرے بھائی اس بارے میں مجھے ایک مزیدار قصہ سنائیں گے۔ میں تھوڑا سا حسد بھی محسوس کر رہا تھا۔‘
حالات کی سنگینی سے بے خبر گراہم نے اپنا کھیل جاری رکھا۔
اس واقعے کے پیش آنے کے تقریباً نصف صدی بعد ہیریئٹ آسٹن نے بی بی سی ریڈیو پر اُس حادثے کے بارے میں بات کی جس نے اُن کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
ہیریئٹ کی بہن کیرولین اور اُن کی دوست ڈیبی ایک دوسرے کے حفاظتی بند کھولنے اور جہاز سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھیں لیکن کیرولین نیچے کی طرف بھاگیں جہاں جہاز کی ٹنکیوں سے ایندھن بہہ رہا تھا جبکہ ڈیبی کیرولین کی مخالف سمت میں بھاگیں اور اس آگ سے بچ گئیں جس نے ان کی دوست کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔

کیرولین اس وقت زندہ تھیں جب ان کے والد نے انھیں ڈھونڈ لیا لیکن اُن کے کپڑے جل کر ختم ہو چکے تھے اور صرف جوتے آگ کی لپیٹ میں نہیں آئے تھے۔
کیرولین کو اپنے والدین اور بہن ہیریئٹ کے ساتھ ایک برطانوی فضائی کمپنی کی ایک امدادی پرواز کے ذریعے برطانیہ لے جایا گیا جہاں چار روز بعد ان کی موت ہو گئی۔
بڑی بہن جین جسم پر سیٹ بیلٹ کے دباؤ کے باعث شہ رگ پھٹنے سے فوری طور پر ہی دم توڑ گئیں تھیں۔
مزید پڑھیے
ایسٹ افریقن ایئر لائن کی اس فلائٹ وی سی 10 میں جہاز کے عملے سمیت 107 افراد سوار تھے جن میں سے 43 اس حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔
ہیریئٹ اس حادثے کے 37 برس بعد تک ایتھوپیا واپس نہیں گئیں اور پھر سنہ 2009 میں انسانی حقوق کی مشیر کے طور پر وہ اپنی ملازمت کے سلسلے میں یہاں واپس آئیں۔

،تصویر کا ذریعہBill Ware-Austin
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایک بہت متاثر کُن تجربہ تھا، انتہائی مشکل اور جذبات سے بھرپور‘ حالانکہ انھیں یہ سب چھپانا اور اپنا کام جاری رکھنا تھا۔
ہیریئٹ کو یاد ہے کہ عدیس ابابا کے ہوائی اڈے پر لینڈنگ کے دوران ان کی نظریں اس مقام کی جانب تھیں جہاں ان کی بہنوں کے جہاز کو آگ لگی تھی۔
جب وہ ہوائی اڈے پر اتریں تو ہوا میں ویسی ہی خوشبو تھی جو انھیں بچپن سے یاد تھی، لیکن ان تکلیف دہ جذبات کے علاوہ ہیریئٹ نے خود کو اپنی بہنوں کے بہت قریب پایا کیونکہ ’یہی وہ جگہ تھی جہاں ہم سب آخری بار ساتھ تھے۔‘
اس کے بعد سے ہیریئٹ کئی بار عدیس ابابا آ چکی ہیں اور ہر بار وہ کیرولین اور جین کے ساتھ اپنے نظر نہ آنے والے تعلق کو محسوس کرتی ہیں۔
اس حادثے میں مارے جانے والے 43 افراد کے لیے کوئی یادگار نہیں بنائی گئی لیکن ایک دن ایئرپورٹ پر بیٹھے رن وے کی جانب دیکھتے ہوئے ہیریئٹ کو اس خیال نے آن گھیرا کہ اس حادثے میں زندہ بچ جانے والوں اور مرنے والوں کے رشتہ داروں کا کیا حال ہو گا اور اس حادثے نے ان کی زندگیوں کو کیسے متاثر کیا ہو گا۔
’وہ کہاں ہیں؟ وہ کیسے ہیں؟ ان کی زندگیاں اب کیسی ہیں؟ ہم سنہ 1972 کے بعد سے اپنے غم کی ایک تاریک سرنگ میں رہ رہے تھے اور ایک نئی زندگی تعمیر کر رہے تھے لیکن اچانک میں نے یہ ضرورت محسوس کی کہ میں ان دوسرے لوگوں کے بارے میں جان سکوں۔‘
بی بی سی کو اپنی کہانی سناتے ہوئے ہیریئٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ شاید وہ ایسے چند افراد کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں۔
بی بی سی کے پروگرام کا ایک ٹریلر چھ اپریل 2021 کو اس وقت ریلیز ہوا جب گراہم اور ان کی اہلیہ جیلیئن امریکی ریاست سان فرانسسکو میں کووڈ ویکسین لگوانے کے لیے اپنی گاڑی پر جا رہے تھے۔
یہ سن کر تقریباً اُن کا حادثہ ہوتے ہوتے بچا۔
جیلیئن نے اسی دن ہیریئٹ کو ایک ای میل میں لکھا کہ اُن کی گاڑی موٹروے سے تقریباً پھسل ہی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGraham Townsend
دو ہفتے بعد پروگرام کے نشر ہونے تک ہیریئٹ اور گراہم کے درمیان کئی ای میلز کا تبادلہ ہوا۔ ان ای میلز میں ایتھوپیا کے بارے میں بات کی گئی جہاں ہیریئٹ کے والد نے مٹی کے تحفظ کے ایک پروگرام پر کام کیا تھا جبکہ گراہم کے والد نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ کام کیا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے سے اس حادثے کی اُن تمام تفصیلات کا بھی تبادلہ کیا جو اُنھیں یاد تھیں۔
گراہم کہتے ہیں کہ ’جب ہم نے ایک دوسرے کے حالات کے بارے میں مزید جانا تو ہمیں ایک بالکل مختلف نقطہ نظر ملا۔‘
ہیریئٹ تینوں بہنوں میں سب سے چھوٹی تھیں جبکہ گراہم تینوں بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ ہیریئٹ جائے حادثہ پر موجود تھیں جبکہ گراہم وہاں پر موجود نہیں تھے۔
اُن کے والدین سانحے سے پہلے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے لیکن اس کے بعد اُنھوں نے خطوط اور کرسمس کارڈز کا تبادلہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ اگلے 21 برس تک حادثے کی برسی کے موقع پر ایک دوسرے سے ملتے بھی رہے، گراہم کی والدہ باربرا کی وفات کے بعد بھی۔
ہیریئٹ یہ جاننا چاہتی تھیں کہ ان کی طرح گراہم نے پیچھے اکیلے رہ جانے کے دکھ کا مقابلہ کیسے کیا۔ دوسری جانب گراہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا ان کی طرح ہیریئٹ بھی ہمیشہ تین بچے پیدا کرنا چاہتی تھیں، جو اُنھوں نے کیے۔
ہیریئٹ کہتی ہیں کہ ’بہت زیادہ اداسی ہوئی لیکن کچھ اچھی یادیں اور قہقہے بھی تھے خاص طور پر اس دلچسپ تلاش کے حوالے سے۔ مجموعی طور پر یہ بہت حیران کُن تجربہ تھا۔‘

کورونا کی عالمی وبا کے باعث گراہم اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہ ہو سکے جو نومبر 2020 میں 92 برس کی عمر میں وفات پا گئے تھے لیکن اس موسم گرما میں وہ آخر کار واپس ایتھوپیا جانے میں کامیاب ہوئے۔
گراہم کہتے ہیں کہ ’میرے خاندان میں میرے علاوہ، میرے والد ہی وہ آخری شخص تھے جو میرے بھائیوں کے بارے میں جانتے تھے۔ ان کی موت کے بعد کوئی بھی ایسا نہیں تھا، جو اس بارے میں سمجھ سکتا ہو اور جس سے میں بات کر سکوں۔‘
والد کو گنوانے کے بعد گراہم کو بھی ہیریئٹ کی مانند اپنے بھائیوں کی یادداشتوں کو زندہ رکھنے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔ اپنے والد کی چھوڑی چیزوں مثلاً تعزیتی خطوط اور حادثے کی رپورٹ میں واقعے سے متعلق باتوں کو تلاش کرنا اُن کے لیے بہت اہم کام بن گیا۔
ان چیزوں میں اُن کے خاندان کی تصاویر اور ایک فلم بھی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں آہستہ آہستہ یہ قیمتی چیزیں اکٹھی کر رہا ہوں اور اس سب سے مجھے تمام واقعات کو ترتیب دینے میں مدد ملی ہے۔ بطور ایک انجینئیر مجھے ہر چیز ترتیب میں پسند ہے۔‘
ہیریئٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ کبھی بھی نہیں ملے تھے تاہم انھوں نے فوراً گراہم کو پہچان لیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ان کے والد کا چہرہ دیکھا تھا اور وہ مجھے یاد تھے۔ وہ ایک بہت محبت کرنے والے انسان تھے۔‘
انھوں نے پایا کہ وہ فوراً ہی اپنے گہرے احساسات پر بات کرنے لگے تھے۔
ہیریئٹ کا کہنا ہے کہ کسی اجنبی سے ملنے میں کچھ عجیب نہیں لگ رہا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ واقعی ایک غیر معمولی ملاقات تھی، مکمل طور پر اجنبی لوگوں کے ساتھ ایک فوری تعلق اور ان سے جڑا ہوا ماضی۔‘

،تصویر کا ذریعہGraham Townsend

حادثے کے دن گراہم کے بھائی کرسٹوفر اور کینیتھ کو بالآخر اُن کے والد نے تلاش کر لیا تھا اور اُن کی شناخت صرف اُن کی کلائیوں پر بندھی ہوئی یکساں ٹائمیکس گھڑیوں کے ذریعے ہو پائی تھی۔ وہ اس حادثے میں زندہ نہیں بچ پائے۔
بچپن میں گراہم اکثر یہ سوچتے تھے کہ کیا ہوتا اگر وہ معمول کی مانند اپنے بھائیوں کے ساتھ سفر پر جاتے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں اپنے والدین سے کہہ رہا تھا میری خواہش ہے کہ میں بھی جہاز میں موجود ہوتا، مطلب میں مددگار ہو سکتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں یہ تک سوچتا تھا کہ یہ بہتر ہوتا اگر میں بھی اُن کے ساتھ مر جاتا۔ کیونکہ پھر مجھے اب یہ اداسی اور ندامت نہ ہوتی۔‘
حادثے کی رپورٹ پڑھنے اور ہیریئٹ کے ساتھ اس معاملے پر بات کرنے نے گراہم کو ذہنی طور پر بہت تسلی پہنچائی۔
وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کو سمجھنا شروع کر دیا کہ طیارے میں لوگ جس جگہ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں، وہ زندگی اور موت کے درمیان بڑا فرق بن سکتی ہے۔ اور جیسے جیسے مجھے زیادہ سے زیادہ آگاہی ملی تو مجھے لگنے لگا کہ اگر میں ان کے ساتھ بھی ہوتا تو اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔‘

جب سے ہیریئٹ کا ریڈیو پروگرام نشر ہوا ہے تب سے اب تک 200 سے زیادہ لوگوں نے دنیا کے مختلف حصوں سے اُن سے رابطہ کیا ہے۔
کچھ اجنبی ہیں جو فقط یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انھیں اس پر افسوس ہے۔ کچھ دیگر کیرولین اور جین کے ساتھ سکول میں تھے اور انھیں کبھی بھی مکمل طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ اتنی دوستانہ، گرمجوش اور خوش مزاج لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
ان کی آوازیں اس پروگرام میں کیسٹ میں ریکارڈ شدہ پیغام کی صورت میں سُنی گئیں۔ انھوں نے کیسٹ پلیئر میں یہ پیغام ایئر پورٹ جانے سے پہلے ریکارڈ کیا تھا۔ یہ خاندان کی روایت تھی۔ ہیریئٹ اور ان کے والدین بیٹیوں کو رخصت کرنے کے بعد گھر لوٹ کر ان پیغامات کو سُنا کرتے تھے۔
جین نے کہا: ’ہیلو ممی، ڈیڈی اور ہیریئٹ، اس بہترین چھٹی کے لیے شکریہ۔ میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ جب میں کلاس میں بیٹھ کر کانپ رہی ہوں گی تو میں آپ سب کے بارے میں سوچوں گی۔ ہم آپ کو بھولتے نہیں، ہم ہمیشہ آپ کے بارے میں سوچتے ہیں۔‘
کیرولین نے کہا کہ ’اس پیار بھری چھٹی کے لیے شکریہ، میں ہر وقت آپ سب کے بارے میں سوچوں گی اس لیے زیادہ پریشان نہ ہوں۔ بائے بائے۔‘
ہیریئٹ کہتی ہیں کہ یہ سننا بہت مشکل ہے، مگر یہ بہت قیمتی ہے کہ یہ آوازیں محفوظ ہو پائی ہیں۔ ہیریئٹ کہتی ہیں کہ یہ اس بات کی حقدار ہیں کہ انھیں سنا جائے۔‘
کچھ ایسے لوگ بھی ہیریئٹ سے رابطے میں آئے جن کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی ان کی بہنوں کو نہیں بھولے، وہ باقاعدگی سے اُن کی قبروں پر جاتے، پھول رکھتے حتیٰ ٰکہ پیغام بھی لکھ کر رکھ آتے تاکہ ہیریئٹ سے رابطہ ہو سکے۔
ہیریئٹ کے والدین کو بہت جلدی میں اس بات کا فیصلہ کرنا تھا کہ لڑکیوں کو کہاں دفن کیا جائے گا،اس لیے اُنھیں یہ پچھتاوا ہوتا ہے کہ وہ اپنی بہنوں کی قبروں پر زیادہ نہیں جا سکتیں جنھیں اُن کے سکول کے پاس ہی دفن کیا گیا۔


دیگر لوگوں نے ہیرت سے ان تکلیف دہ کہانیوں کو شیئر کیا جس میں انھوں نے اپنے والد، والدہ اور دوستوں کو کھو دیا تھا۔ ایک خاتون نے کہا کہ انھوں نے ایک ہفتے پہلے جب ہیرٹ کی کہانی سنی تب سے وہ اتنا رو رہی جتنا وہ 49 برسوں میں اپنے مرے ہوئے والد کے لیے نہیں روئی تھیں۔
کسی نے کہا کہ وہ کبھی بھی اس دردناک دن رونما ہونے والے واقعے کے حوالے سے اپنے احساسات کو کبھی ویسے نہیں محسوس کیا تھا جیسے اس کے تقریباً نصف صدی بعد ہیرٹ کو ریڈیو پر اسے سنتے ہوئے کیا۔
ہیرت ان تمام پیغامات سے بہت متاثر ہوئی ہیں اور ان سے جو بھی کہانیاں شیئر کی گئیں ہیں وہ ان کے لیے شکر گزار ہیں۔
ہیرت کے مطابق ان تمام لوگوں کا ان کی بہنوں سے رابطہ رہا تھا۔
ایک شخص کی جانب سے انھیں یہ تحریر موصول ہوئی کہ کیرولین کی ادیس ابابا میں دو روز تک انھوں نے نگہداشت کی تھی، غالباً وہ آپ کی بہن تھی۔
ہیرت نے کہا کہ وہ ہر تفصیل جاننا چاہتے ہیں اور یہ سب کچھ جان کر بہت اچھا لگا کہ ان کی تیماداری ایک اتنے پرخلوص اور اچھے انسان نے کی۔
اس فضائی کمپنی راف کے فضائی عملے نے بھی ہیرٹ کے لیے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ انھیں وہ بیچارے بچے اور گوشت کے جلنے کی بو اب بھی نہیں بھولی۔
ادیس میں ایک خاتون نے برطانوی سفارتخانے میں نوکری شروع کی۔ اس حادثے کے ایک ہفتے کے بعد اس نے کہا کہ اس نے اس خاندان سے گھوڑا خریدا ہے جس کے دو بچے کریش میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ہیرت کا کہنا ہے کہ انھوں نے میرا پیارا سفید گھوڑا خریدا اور انھوں نے اس کے ساتھ بہت بہترین وقت گزارا اور یہ جاننا اچھا تھا۔

ڈیبی جو کہ کیرولین کے ساتھ جہاز میں موجود تھیں نے ان کی یاد میں ایک ای میل بھی کی ہے۔
انھوں نے لکھا کہ میں سکول گئی تو میں نے دیکھا کہ میرے دوست بھی وہی چاہتے ہیں جو میں چاہتی ہوں۔
دیگر لڑکیوں نے مجے خوش آمدید کہا۔ انھوں نے کہا کہ خراب قسمت یا کچھ، مجھے باتوں میں مشغول کر دیا۔ انھوں نے میری جلد کی پیوند کاری کے بعد ہونے والی بہتری کے حوالے سے بھی دلچسی کا اظہار کیا۔
ہیرت کبھی بھی یہ تصور کرنے سے خود کو نہیں روک سکیں کہ کیرولین اور ڈیبی ایک کے بعد ایک جہاز سے چھلانگ نہ لگاتے تو زندگی کتنی مختلف ہوتی۔

جلد ہی اس واقعے کو پچاس سال مکمل ہو جائیں گے۔ ایسے میں ہیرت اور گراہم چاہتے ہیں کہ وہ اس دن کو جب انھوں نے اپنے بہنوں اور بھائیوں کو کھو دیا اس روز کچھ یادگار کریں۔ گراہم کہتے ہیں کہ ہم نہیں چاہتے کہ وہ بھلا دیے جائیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ وہ ان کی یاد میں ایک میموریل سروس کا اہتمام کریں گے۔ انھیں امید ہے کہ ان کی بہو جو کہ ایک سنگ تراش ہیں انھیں ایک بہترین مشورہ دے سکتی ہیں کہ وہ کیسے اپنے بھائی کی قبر کے کتبے کو ٹھیک کر سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGraham Townsend
لیکن اپنے بہن بھائیوں کو یاد کرنے اور انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ہیرٹ اور گراہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو یاد کریں جنھوں نے اپنی زندگیوں کو کھو دیا اور انھیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔
گراہم کہتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی چیز کا حصہ ہیں۔
اگلے ماہ ہیرٹ ادیس جائیں گی تاکہ وہ ایک ایسے قبرستان میں جائیں گی جہاں کے بارے میں انھیں پتہ چلا ہے کہ وہاں ایسے لوگ دفن ہیں جن کی موت حادثے کی وجہ سے ہوئی۔ وہ ان قبروں کی تصویریں لیں گی اور وہاں پھول رکھیں گی جیسے دیگر لوگوں نے ان کی بہنوں کے لیے گیا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ چونکہ ان کے خاندانوں نے کبھی بھی ان سے ملاقات نہیں کی اور یہ سب سے زیادہ افسردہ اور تنہا کر دینے والی چیز ہے۔
ان کے اپنے ذہن میں بھی ہر وقت کیرولائن اور جین موجود ہوتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ میں نے کھو دینے کے احساس کو کبھی نہیں روکا اور کبھی کبھی یہ بہت شدید ہوتا ہے۔
’میں نے ان کے بارے میں دن میں فقط ایک بار نہیں کئی بار سوچتی ہوں یہ ہمیشہ وہیں ہوتے ہیں۔‘












