چیلنجر کا حادثہ: خلائی جہاز کی تباہی جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

چیلنجر کی آخری پرواز

،تصویر کا ذریعہBettmann/getty images

،تصویر کا کیپشنچیلنجر کی آخری پرواز: تباہ ہونے سے کچھ دیر پہلے کی تصویر
    • مصنف, رجنی ودیاناتھن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز واشنگٹن

خلائی جہاز چیلنجر اپنی لانچ کے صرف ایک منٹ بعد ہی تباہ ہو گیا تھا اور اس پر سوار ساتوں خلا باز ہلاک ہوگئے۔ یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

یہ سب کچھ ہونے میں صرف 73 سیکنڈ لگے تھے۔

دنیا بھر میں لاکھوں لوگ 28 جنوری 1986 کو امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے اس خلائی جہاز کی لانچ کی نشریات دیکھ رہے تھے۔

اور جیسے ہی اس پر براہ راست کامنٹری خاموش ہوئی اور آسمان پر دھوئیں کی ایک لکیر ہی رہ گئی، تو ساری دنیا کو معلوم ہو گیا کہ چیلنجر کے مشن میں کوئی بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے۔

شٹل پل بھر میں تباہ ہوگئی اور عملے کے ساتوں افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ پرواز شدید سردی کے باعث کئی روز تک ملتوی کی گئی تھی۔ بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایک راکٹ بوسٹر کا سیل خراب ڈیزائن اور شدید سردی کی وجہ سے خراب ہوگیا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ تھا جب امریکی خلا باز دورانِ پرواز ہلاک ہو گئے تھے اور یہ ملک کے لیے ایک بڑا نقصان تھا۔

مزید پڑھیے:

قومی صدمہ

امریکہ کو اس بات پر فخر تھا کہ وہ ایسی سپیس شٹلز مدار میں بھیج سکتا تھا جس میں خلاباز بھی سوار ہوںں اور 1981 سے 1986 تک وہ 20 مرتبہ کامیابی کے ساتھ کیپ کنیورل سے سپیس ٹرانسپورٹ سسٹم کو لانچ کر چکا تھا۔

یہ وہی مقام ہے جہاں سے چیلنجر کا آخری سفر شروع ہوا۔ دنیا بھر میں لوگوں نے براہ راست دیکھا کہ کس قدر تباہ کن واقعہ پیش آیا ہے۔

اس وقت 16 سولہ سالہ برائن بالارڈ لوگوں کے لیے بنائے گئے خصوصی ڈیک پر موجود تھے۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’پہلے میں نے سوچا کہ اس نے صحیح وقت پر اپنے حصے علیحدہ کیے ہیں۔ پھر مجھے دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا ہو رہا ہے۔ میں پھر بھی امید لگائے بیٹھا تھا۔ میرا خیال تھا کہ اب بھی شاید کوئی متبادل پلان ہوگا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے اس بات کا احساس ہونے میں تھوڑا وقت لگا کہ اب وہ واپس نہیں آ رہے۔‘ برائن بالارڈ اس وقت اپنے سکول کے اخبار ’دی کرمسن‘ کے لیے شٹل کے لانچ کی خبر بنانے گئے تھے۔

چیلنجر کا حادثہ

،تصویر کا ذریعہNASA/AFP via Getty Images

انھیں اس لیے بھیجا گیا تھا کیونکہ ان کے سکول کی ایک ٹیچر کرسٹا مکئولف چیلنجر پر سوار تھیں اور انھیں امید تھی کہ وہ خلا میں جانے والی پہلی ٹیچر بن جائیں گی۔

کرسٹا مکئولف نیو ہیمشائر کے کونکورڈ ہائی سکول میں پڑھاتی تھیں۔ انھیں ناسا کے ’ٹیچر ان سپیس‘ پروگرام کے تحت منتخب کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کو صدر ریگن نے 1986 میں متعارف کروایا تھا اور اس کا مقصد خلا بازی اور سائنس کی تعلیم میں لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ تھا۔

1986 میں ریاست کنیٹیکٹ کے ایک ہائی سکول میں پڑھانے والے ڈین بارسٹو اس پروگرام کے بارے بتاتے ہیں کہ ‘ہم اپنے طلبہ کو خلابازی اور سائنس کی تعلیم دینے کے بارے میں بہت خوش تھے۔ ہم یہ سوچتے تھے کہ نجانے کون سا ٹیچر اگلی بار جائے گا۔‘

خلا کی تعلیم

یہی وجہ تھی کہ بہت سے سکولوں نے چیلنجر کی روانگی کو براہِ راست دکھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ یہ نشریات سینکڑوں سکولوں میں براہِ راست نشر کی جا رہی تھیں۔

ڈین بارسٹو کہتے ہیں کہ ’ہمارا پورا سکول آڈیٹوریم میں جمع ہو کر دیکھ رہا تھا۔‘ مگر ان کے بہت سے طلبہ چیلنجر کے پھٹنے کے بعد خاموشی سے آڈیٹوریم سے اٹھ کر چلے گئے۔

دنیا بھر میں خلائی جہازوں کی زمین سے روانگی سائنس میں ایک امید کی علامت تھی، اسی لیے اس ناکامی کو قومی سطح پر ایک بڑا نقصان سمجھا گیا اور اس سے امریکہ کے خلائی پروگرام کو بھی دھچکا پہنچا۔

مگر یہ امریکی سپیس پروگرام میں پہلا سانحہ نھیں تھا۔ 1967 میں جب اپالو 1 کے کمانڈ موڈیول میں آگ لگی تھی تو اندر موجود تینوں خلا باز جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

مگر چیلنجر کے حادثے کی خاص بات یہ تھی کہ اسے براہِ راست دنیا بھر میں نشر کیا گیا تھا اور لوگوں نے ٹیلی ویژن پر اسے براہ راست تباہ ہوتے دیکھا۔

چیلنجر تباہ ہو گئی

،تصویر کا ذریعہMediaNews Group/Boston Herald via Getty Images

اہم موقعہ

سمتھسونیئن نیشنل سپیس اینڈ ایئر میوزیم سے وابستہ ویلری نیل کہتی ہیں کہ ’لوگوں کو ایسا لگا جیسے کہ وہ خود وہاں پر موجود تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’امریکیوں کو چاند پر انسان کے پہنچنے اور اپالو 13 کی واپسی کے بعد کامیابی کی عادت سی ہو چکی تھی اور ان کے خیال میں ہی نہیں تھا کہ ہمارے خلائی منصوبوں میں کوئی ناکامی بھی ہو سکتی ہے۔‘

‘’ناکامی کے احساس اس وجہ سے بھی بڑھ گیا تھا کہ ایک عام امریکی شہری، جسے اپنا خواب پورا کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، وہ اپنا خواب پورا نہ کر سکیں۔‘

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کہیں سپیس پروگرام کا ورثہ مکمل طور پر تباہ نہ ہو جائے، ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے ’ چیلنجر سینٹر فار سپیس سائنس ایجوکیشن‘ کے نام سے ایک تعلیمی مرکز قائم کیا جس کا مقصد خلائی سفر کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

مگر جن بچوں نے چیلنجر کا حادثہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، یہ ان کی زندگی کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ مارک ایڈلمین اس وقت سات سال کے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے کلاس روم میں داخل ہونا یاد ہے اور مجھے یاد ہے کہ ہر کوئی چِلا رہا تھا کہ شٹل پھٹ گئی ہے، شٹل پھٹ گئی ہے۔‘

اور ان کے سکول کے لیے یہ واقعہ مزید اہمیت کا حامل تھا کیونکہ ان کے سکول کی ایک ٹیچر نے بھی اس پروگرام میں شمولیت کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔

مارک کہتے ہیں کہ ’بہت سے بچوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا جب ان کی زندگی پر کسی اہم واقعے کا اثر پڑا تھا۔ مجھے لگا کہ یہ میری ٹیچر بھی ہو سکتی تھیں۔‘

مارک کے خیال میں اس واقعے نے امریکیوں کو متحد کر دیا تھا۔ وہ اسے 9/11 کی طرح کا حادثہ تصور کرتے ہیں۔

اس قومی صدمے کے نتیجیے میں صدر ریگن نے اسی شام اپنا سالانہ خطاب بھی ملتوی کر دیا اور انھوں نے خصوصی طور پر ان بچوں کا بھی ذکر کیا جو اس سے متاثر ہوئے تھے۔

انھوں نے بعد میں اپنے حطاب میں کہا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کے لوگ کس قدر تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ دریافت اور تحقیق کے عمل کا حصہ ہے۔ یہ خطرات کا سامنا کرتے ہوئے انسانیت کی ترقی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مستقبل ڈرپوک لوگوں کا نہیں، مستقبل بہادر لوگوں کا ہے۔‘

٭٭یہ مضمون پہلی مرتبہ بی بی سی ورلڈ کی ویب سائٹ پر 28 جنوری 2011 کو شائع کیا گیا تھا۔