اپالو 11 مشن کی وہ چار باتیں جو آپ نہیں جانتے

مائیکل کولنز

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشناپالو 11 کے خلاباز مائیکل کولنز جون 1969 میں لانچ سے ایک ماہ قبل سمیولیٹر میں پریکٹس کر رہے ہیں۔

انسان کو چاند تک لے جانے والے اپالو پروگرام کو اب 50 سال گزر چکے ہیں مگر یہ اب بھی انسان کی سب سے بڑی ٹیکنالوجیکل کامیابی ہے۔

16 جولائی 1969 میں خلاباز نیل آرمسٹرانگ، بز آلڈرِن اور مائیکل کولنز کو سیٹرن فائیو راکٹ کے اوپر اپالو خلائی جہاز میں بٹھا کر صرف 11 منٹ کے اندر مدار میں پہنچا دیا گیا۔

چار دن بعد نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرن چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے۔

اپالو 11 مشن کے بارے میں مزید پڑھیے

ایک نئی تاریخ رقم کرنے والے اس مشن کے بارے میں چار ایسے حقائق پر مبنی یہ تصویری گائیڈ دیکھیے جن کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔

1: سیٹرن فائیو اب تک کا سب سے بڑا اور سب سے طاقتور راکٹ ہے

100 میٹر (363 فٹ) سے زیادہ لمبا سیٹرن فائیو راکٹ لانچ پر فی سیکنڈ تقریباً 20 ٹن ایندھن خرچ کرتا تھا۔ اس کا ایندھن ہی اس کے کُل وزن کا 85 فیصد تھا۔

چاند

اپالو 8 کے خلاباز فرینک بورمن نے 2011 میں کہا تھا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ ہم سبھی کو اس بات پر حیرت ہوئی تھی کہ یہ کس قدر طاقتور تھا۔'

خلاباز چارلی ڈیوک کے مطابق وہ مرحلہ جب پرواز کے دوران راکٹ کے حصے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں بالکل کسی 'ٹرین کی ٹکر' جیسا محسوس ہوتا تھا۔

سیٹرن فائیو کا وزن 2800 ٹن تھا جبکہ اس نے لانچ کے وقت 3 کروڑ 45 لاکھ نیوٹن (77 لاکھ پاؤنڈ) کی قوت پیدا کی۔

یہ 130 ٹن وزن کو زمین کے مدار میں لے جانے اور 43 ٹن وزن کو چاند تک لے جانے کے لیے کافی ہے۔ یہ لندن کی تقریباً چار بسوں کے وزن کے برابر ہے۔

سیٹرن فائیو

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنناسا کے انجینیئر سیٹرن فائیو پر کام کر رہا ہے۔

2: اپالو کسی بڑی گاڑی کے ہی سائز کا تھا

آرمسٹرانگ، آلڈرن اور کولنز نے چاند تک کا تقریباً 10 لاکھ میل کا فاصلہ اور واپسی کا سفر آٹھ دن میں ایک بڑی گاڑی جتنے خلائی جہاز کے اندر کیا۔

لانچ اور لینڈنگ کے وقت کمانڈ ماڈیول میں، جو کہ زیادہ سے زیادہ صرف 12.8 فٹ چوڑا تھا، بینچ جیسے 'صوفوں' پر خلابازوں کو باندھ دیا جاتا تھا۔

تنگ جگہوں سے خوف کھانے والے لوگوں کے لیے یہ کوئی موزوں جگہ نہیں تھی۔

Apollo 17

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناپالو 17 کے لونر ماڈیول سے کمانڈ اور سروس ماڈیول کی تصویر۔

کمانڈ ماڈیول کے پیچھے سروس ماڈیول ہوا کرتا جس میں ایندھن کا ٹینک اور انجن ہوتے۔

لونر ماڈیول وہ حصہ ہوتا جس نے چاند پر اترنا تھا اور اسے کمانڈ اور سروس ماڈیولز کے پیچھے ایک کمپارٹمنٹ میں رکھا جاتا۔

زمین سے نکلنے کے بعد اپالو پرواز کے درمیان ہی مڑ کر کمانڈ ماڈیول کے پیچھے موجود جگہ میں موجود لونر ماڈیول کے ساتھ جڑ گیا، اور ایک مرتبہ پھر مڑ کر چاند کی جانب گامزن ہوگیا۔

بز آلڈرن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخلا باز بز آلڈرن چاند پر

3: افریقی نژاد خواتین امریکی ماہرینِ ریاضی نے چاند تک کے سفر کا حساب لگانے میں مدد دی

ڈیجیٹل دور سے قبل ناسا نے 'انسانی کمپیوٹرز' کے طور پر کئی خواتین ریاضی دانوں کو بھرتی کر رکھا تھا جن میں سے اکثریت افریقی نژاد امریکی خواتین کی تھی۔

خلائی پروگرام کی کامیابی میں انتہائی اہم کردار ان خواتین کی جانب سے ڈیٹا پراسیس کرنے اور پیچیدہ حسابات حل کرنے کا تھا۔

جب پہلی مرتبہ کمپیوٹرز کی آمد ہوئی تو ناسا کے کئی ابتدائی پروگرامرز اور کوڈرز یہ خواتین تھیں۔

2016 میں ریلیز ہونے والی فلم ہِڈن فگرز نے ریاضی کی ان ماہرین کی کہانی پیش کی اور یوں پہلی مرتبہ عوام کا ان 'پوشیدہ شخصیات' سے تعارف ہوا۔

کیتھرین جانسن

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنکیتھرین جانسن نے 33 سال تک ناسا کے ساتھ کام کیا۔ ان کی یہ تصویر 1962 میں لی گئی۔

خاص طور پر ایک خاتون کیتھرین جانسن نے پہلے امریکی خلا بازوں ایلن شیفرڈ اور جان گلین، اور بعد میں چاند جانے والے اپالو کے لونر ماڈیول اور کمانڈ ماڈیول کے راستوں کے حساب لگانے پر شہرت پائی۔

اپالو 11 کی فلائٹ کا راستہ اس خلائی جہاز کو لانچ کے صرف 11 منٹ کے اندر زمین کے مدار میں لے گیا۔

صرف دو گھنٹے بعد زمین کے گرد اپنی دوسری گردش کے دوران راکٹ کی تیسری اسٹیج فائر کی گئی تاکہ اپالو کو چاند کی طرف دھکیلا جا سکے۔

اس سے اپالو نے زمین سے چاند اور چاند سے زمین واپسی تک کا ایسا راستہ اختیار کیا جیسے عموماً 8 کے ہندسے کی صورت میں دکھایا جاتا ہے۔

چاند

اس راستے نے چاند کی کششِ ثقل کا استعمال کرتے ہوئے خلائی جہاز کو مزید ایندھن کی ضرورت کے بغیر زمین کی جانب دھکیل دینا تھا۔

مگر جب اپالو 11 اپنی منزل کے قریب پہنچا تو خلا بازوں نے بریک لگاتے ہوئے اسے چاند کے مدار میں داخل کر لیا جہاں سے آرمسٹرانگ اور آلڈرن چاند کی سطح پر اتر گئے۔

4: کوئی نہیں جانتا کہ اپالو 11 کا لونر ماڈیول اس وقت کہاں ہے

اب تک خلا میں 10 لونر ماڈیول بھیجے جا چکے ہیں جن میں سے چھ نے انسانوں کو چاند پر اتارا ہے۔

اپالو 11

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشناپالو 11 کا لونر ماڈیول ایگل چاند پر اترنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ایک مرتبہ استعمال ہونے کے بعد کیپسول الگ کر دیے جاتے اور یا تو چاند کی سطح سے ٹکرا کر تباہ ہو جاتے، زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل جاتے، یا کم از کم ایک واقعے میں یوں ہوا کہ وہ سورج کے مدار میں داخل ہوگیا۔

مگر ہر کیس میں ان کی بالکل درست لوکیشن جاننا ممکن نہیں ہوسکا ہے۔

پہلے دو لونر ماڈیول آزمائشی فلائٹس میں استعمال ہوئے تھے اور زمین کی فضا میں جل کر تباہ ہوگئے۔

اپالو 10 کا لونر ماڈیول جو چاند تک گیا مگر لینڈنگ نہیں کی، اسے جب الگ کر دیا گیا تو وہ سورج کے مدار میں چلا گیا۔

ماہرینِ فلکیات نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ انھیں 98 فیصد یقین ہے کہ انھوں نے دور جا چکے سنوپی نامی کیپسول کو آخری مرتبہ دیکھے جانے کے 50 سال بعد اس کی لوکیشن دریافت کر لی ہے۔

لونر ماڈیول

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنلونر ماڈیول چاند پر

اپالو 13 میں ایک دھماکے کے بعد جب اس کے مشن کو درمیان میں روکنا پڑا تو اس کے لونر ماڈیول نے امدادی کشتی جیسا اہم کردار ادا کیا۔

زیادہ تر لونر ماڈیولز جب خلا بازوں کو چاند کی سطح سے کمانڈ ماڈیول تک پہنچا دیتے تو انھیں چاند کی سطح سے ٹکرانے کے لیے واپس بھیج دیا جاتا۔

زیادہ تر کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کس جگہ ٹکرائے مگر کوئی بھی اپالو 11 کے ماڈیول ایگل یا اپالو 16 کے ماڈیول اورائن کے بارے میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں۔

۔