کراچی فضائی حادثہ: فضائی حادثے کی تحقیقات میں کن چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا

پاکستان

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, نوشاد انجم
    • عہدہ, کمرشل پائلٹ اور ایوی ایشن سائیکالوجسٹ

سنہ 1903 میں رائٹ برادرز کی پہلی پرواز اور پہلے فضائی حادثے میں صرف 12 سیکنڈز کا فرق تھا۔ فضائی پرواز اور اس سے جڑے حادثات کا یہ چولی دامن کا ساتھ رفتہ رفتہ ختم ہوتا چلا گیا۔ آج کے جہاز تکنیکی اعتبار سے اتنے معتبر ہیں کہ دنیائے ہوا بازی میں صرف انسان ہی سب سے کمزور کڑی سمجھی جاتی ہے۔

جہاں جہازوں نے بے انتہا ترقی کی وہاں ان انسانوں پر جو ان جہازوں کو بناتے اور اڑاتے ہیں پر اتنی محنت نہیں کی گئی۔ اور اگر کی بھی گئی تو اس کو اپنانے میں ہر قوم کا مزاج مختلف رہا۔ کچھ قومیں اس کی مدد حاصل نہ کر سکیں یا اس کو اہمیت نہ دے سکیں۔

کراچی میں جمعے کو ہونے والا پی آئی اے کا فضائی حادثہ اس وقت ابتدائی تحقیقاتی عمل سے گزر رہا ہے۔ اس تحقیقاتی عمل سے ہمارے لیے کچھ عوامل جاننا شاید اس لیے ضروری ہیں تاکہ دوبارہ کبھی ایسا نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیے

حادثہ

،تصویر کا ذریعہEPA

کسی بھی حادثے کی تحقیق عمومی طور پر اور ایسے فضائی حادثے کی تحقیقات خصوصی طور پر اکثر ایک موڑ پر آ کر رک جاتی ہیں۔ ماہرین یہ تو معلوم کر لیتے ہیں کہ ’کیا‘ ہوا تھا مگر 'کیوں' ہوا تھا اس کے جواب کے بغیر کوئی بھی تحقیق مکمل نہیں ہو سکتی۔

ہوا بازی میں ہر عمل ریکارڈ ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز کے انجن سٹارٹ ہونے سے لے کر جہاز کے منزل پر پہنچ کر پارک ہونے تک تمام ڈیٹا نہ صرف محفوظ کیا جاتا ہے بلکہ بیشتر اوقات اس کو فضائی پرواز کے دوران براہ راست کسی موبائل سگنل کے ذریعے کنٹرول سینٹر تک بھیجا بھی جا رہا ہوتا ہے۔

اسی طرح ہوائی جہاز کے پائلٹوں کی گفتگو اور اس کا ہر ایک عمل بھی ریکارڈ ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی پائلٹ دوران پرواز منظور شدہ پیمانوں سے روگردانی کرتا ہے تو وہ بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور ہوائی کمپنی میں فلائٹ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے پاس محفوظ ہوتا ہے۔

اس ڈیپارٹمنٹ کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی غلطی یا روگردانی کو فوراً اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کر دیں تاکہ پائلٹ کی اس غلطی یا غلط عادت کو فوری طور پر صحیح کیا جا سکے۔ یہ کام ہوائی کمپنیوں میں سیفٹی سٹیننڈرڈز اور ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مل کر انجام دیتے ہیں۔ جس کو کلی طور پر فلائٹ آپریشن ڈیپارٹمنٹ دیکھتا ہے۔

ایسا ہی انتہائی حساس نظام انجنیئرنگ اور دوسرے ڈیپارٹمنٹس میں بھی رائج ہوتا ہے۔ اکثر کسی حادثے کی تحقیقات میں غلطی یا کوتاہی کا مرتکب کسی ایک یا دو پائلٹوں یا انجینیئر کو ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

یہ ایک انتہائی خطرناک طریقہ کار ہے کیونکہ اس پائلٹ کی ہر فلائٹ ریکارڈ ہوتی ہے مگر جن لوگوں کا کام ان روگردانیوں کا حساب رکھ کر فوری تدارک کرنا ہوتا ہے جب وہ اپنا کام سر انجام نہیں دیتے تو ایک دن وہ غلطی کسی بڑے حادثے کا سبب بنتی ہے۔

طیارہ

،تصویر کا ذریعہAFP

فضائی نفسیات کے ماہرین یہ مانتے ہیں کہ لوگ جب کسی غلطی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوتے ہیں تو وہ ایسی غلطی پہلی بار نہیں کر رہے ہوتے۔ خاص طور پر وہ غلطیاں جو جان بوجھ کر یا خراب فضائی ڈسپلن کی وجہ سے کی جاتیں ہیں۔

اور کیا وجہ ہے کہ حادثات کی تحقیاقت عوام تک نہیں پہنچتیں؟

کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ان تحقیقات میں ان سرکردہ سپروائزر کا نام بھی آتا ہے جو ’بنیادی‘ طور پر کسی ایک انسان کی غلطی کے پیچھے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں؟ کیا ہمارا عدالتی نظام ایسی غفلت کے مرتکب افراد کو کٹہرے میں لا کر انصاف اور سیفٹی کی ضمانت بن سکتا ہے؟

حالیہ واقعے میں ابھی اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ یہ ایک تکنیکی مسئلہ تھا، پائلٹ کی غلطی یا پھر کچھ اور، البتہ ایک بات جو دنیائے ہوا بازی میں مسلم حقیقت سمجھی جاتی ہے اس کا تعین شاید بہت ضروری ہو، وہ یہ کہ ایسا نہ ہو کہ ایک یا دو افراد کو مورد الزام ٹھہرا دیا جائے اور اصل افراد جو سیفٹی اینڈ ٹریننگ سٹینڈرڈز اور فلائٹ آپریشنز کے سربراہ ہیں ان سے پچھلا ریکارڈ طلب ہی نہ کیا جائے۔

یہ ریکارڈ صرف ایک فلائٹ یا ایک پائلٹ کا نہ ہو بلکہ ایک ادارے کے طور پر مختلف لوگوں اور فلائٹس کا ڈیٹا نکال کر یہ دیکھا جائے کہ پی آئی اے کا ’سیفٹی کلچر‘ کیسا ہے۔ پی آئی اے کی ترقی یا تنزلی کا یہی سیفٹی کلچر اصل غماز ہے۔

حادثہ

،تصویر کا ذریعہAFP

پوری دنیا میں مختلف فضائی کمپنیاں ڈسپلن یا غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے پائلٹ کی غلطی پر ’زیرو ٹالرینس‘ یعنی غلطی پر عدم برداشت کی پالیسی کی قائل ہیں۔ ائیر بس اور بوئنگ جیسی کمپنیاں ایسی غلطی کرنے والے پائلٹ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سول ایوی ایشن کا کردار ایسے تمام ڈیٹا کو بہت باریک بینی سے دیکھنا ہوتا ہے۔

امید ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات میں صرف کچھ اشخاص پر جو شاید اپنا دفاع بھی نہ کر سکیں، ذمہ داری ڈال کر فائل کو بند نہیں کیا جائے گا۔

پی آئی اے کی تاریخ ایک ایسی ایئرلائن کی تاریخ ہے جو اپنے عروج کے دور میں ایک کامیاب ترین کمپنی سمجھی جاتی تھی اور ایمریٹس جیسی ائیر لائن کی بنیاد پی آئی اے کی مدد سے رکھی گئی تھی۔

اب پی آئی اے کے مستقبل کا دارومدار منصفانہ نظام ترقی، ٹریننگ اور سیفٹی کلچر پر ہوگا۔

نوشاد انجم ایک کمرشل پائلٹ، ایوی ایشن سائیکالوجسٹ اور ہیومن فیکٹرز اِن فلائٹ سیفٹی کے سپیشلسٹ ہیں۔