کراچی طیارہ حادثہ: ’بہو کی لاش سلامت تھی صرف سر پر چوٹ لگی تھی‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کامران خان کی شادی کو ابھی دو ماہ ہوئے تھے۔ ان کی بیوی لاہور میں اپنے والدین سے ملاقات کرنے گئیں تھیں کہ اسی دوران ملک گیر لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا اور وہ مزید دو ماہ وہاں رکنے پر مجبور ہوگئیں۔ پی آئی اے نے جیسے ہی پروازیں بحال کیں تو ان کے سسر عرفان نے ٹکٹ بک کرائی، شوہر اپنی دلہن کو لینے ایئرپورٹ پہنچا لیکن طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔
کامران اور اس کا والد عرفان ایدھی سرد خانے کے باہر غمزدہ حالت میں موجود تھے۔ عرفان نے بتایا کہ ان کی بہو کی لاش سلامت تھی صرف سر پر چوٹ لگی تھی اس لیے شناخت میں مشکلات نہیں ہوئیں۔
عرفان کے بیٹے چوبیس پچیس سال کے نوجوان ہیں اور طالب علم ہیں، وہ کبھی سرد خانے کے اندر جاتے کبھی باہر آکر آہیں بھرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پی آئی اے حکام کبھی کہتے ہیں کہ گیئر میں خرابی تھی کبھی کیا کہتے ہیں لاک ڈاون میں جب سب کچھ بند تھا تو اس وقت وہ کیا کر رہے تھے جہازوں کی دیکھ بھال کیوں نہیں کی تھی۔‘
یہ بھی پڑھیے
سندھ کے محکمہ صحت کے مطابق اس حادثے میں 97 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 23 کی شناخت ہوگئی ہے اور 19 میتیں ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں، دیگر لاشیں فلاحی اداروں ایدھی اور چھیپا کے سرد خانوں میں موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاہد احمد کی والدہ بھی اس جہاز میں سوار تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاون سے قبل وہ اپنی بیٹیوں سے ملنے لاہور گئی تھیں لاک ڈاون ہوگیا تو وہاں رک گئیں، جیسے پروازیں بحال ہوئیں تو یہ روانہ ہوئیں۔
’ہمیں فون آیا کہ ٹی وی پر سلائیڈ چل رہی ہے کہ جہاز کا حادثہ ہوگیا ہے ہمیں کیا پتہ تھا کہ یہ ہماری والدہ کا جہاز نکلے گا، ہم ماڈل کالونی گئے وہاں بھی نہیں ملیں پھر جناح ہسپتال جاکر ان کی لاش ملی وہ بھی بھاگ دوڑ کے بعد رات کے نو بجے حوالے کی گئی۔‘
’ان سے سحری کے وقت بات ہوئی تھی، اس کے بعد صبح ساڑھے دس بجے رابطہ ہوا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے خدا سے رابطہ کرلیا، وہ بار بار واپس آنے کے لیے کہتی تھیں اب بہت دور چلی گئیں۔‘

عید کے بعد نوشاد احمد کی شادی تھی۔ ان کے بھائی دلشاد اس میں شرکت اور عید کے لیے کراچی آرہے تھے کہ طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ نوشاد کے مطابق ان کی فیملی میں چار سال کا بیٹا، دو ماہ کی بیٹی اور بیوی بذریعہ سڑک کراچی آگئے تھے اور وہ چھٹی لے کر آرہے تھے۔
’ہم نے شناخت ان کے جسم سے کرلی تھی۔ ظاہر ہے بھائی ہے، خون تو خون ہے پہچان لیتے ہیں۔ان کے ہاتھ میں گھڑی تھی اور انگلی میں ایک چھلا پہن رکھا تھا۔‘
اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے کئی لوگ سرد خانوں کے چکر لگاتے رہے، کئی لاشیں گٹھڑیوں کی صورت میں بھی موجود تھیں۔ کراچی یونیورسٹی کے ڈاکٹر پنجوانی مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ سینٹر میں قائم فارنسنک لیبارٹری میں لواحقین کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جارہے تھے، عمارت میں کنٹینر نما دفتر تھا جبکہ باہر تنبو لگایا گیا تھا۔
پاکستان فوج کے ایک میجر اور ایک لیفٹیننٹ کی بھی شناخت نہیں ہوسکی ہے جو اس طیارے میں سوار تھے۔ کچھ افسران نے لیبارٹری حکام کو گزارش کی کہ ان افسران کے والدین موجود ہیں، ان کے ڈی این اے کے ٹیسٹ کرکے شناخت کی جائے کیونکہ کمانڈر صاحب چاہتے ہیں کہ کل تک تدفین ہوجائے۔
لیبارٹری سٹاف نے انہیں ڈائریکٹر سے ملاقات کے لیے بھیجا، جس کا کہنا تھا کہ تمام ہلاک ہونے والوں کے ٹیسٹ کیے جائیں گے کسی ایک کا ممکن نہیں ہے۔

طیارے میں ہلاک ہونے والوں کی بحریہ ٹاؤن، ناظم آباد، گلبہار اور کھڈا مارکیٹ لیاری سمیت مختلف علاقوں میں نمازِ جنازہ ادا کی گئیں ہیں۔ گلبہار میں وقاص طارق اور ان کی بیگم ندا وقاص کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد پاپوشن قبرستان میں تدفین کی گئی۔
وقاص کے کزن امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ ان کے دو بچے سات سالہ عالیان اور گیارہ سالہ عائمہ جو ان کے ساتھ جہاز میں سوار تھے کی، اُن کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ انھوں نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا کہ ’بچی کی ہفتے کو روزہ کشائی تھی جس کا انتظام کیا گیا تھا۔‘
وقاص کی بیگم ندا وقاص ہنڈا اٹلس کے ہیومن ریسورس شعبے میں ملازمت کرتی تھیں اور ان کا حال ہی میں کراچی سے لاہور تبادلہ کیا گیا جبکہ وقاص سپیئر پارٹس کا کاروبار کیا کرتے تھے، وہ عید منانے کراچی آرہے تھے۔
حادثے کی جگہ ریسکیو آپریشن صبح سویرے بند کردیا گیا تھا جس کے بعد ملبے کو ہٹانے کا آغاز کیا گیا۔ پی آئی اے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فلائیٹ ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر حادثے کی جگہ سے مل چکا ہے۔ وفاقی وزیر چوہدری سرور اور گورنر سندھ عمران اسماعیل سنیچر کو جائے وقوع پر پہنچے تھے۔ چوہدری سرور نے واضح کیا کہ حادثے کی رپورٹ منظرِ رام پر لائی جائے گی، اس سے پہلے جو ہوا اس پر وہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔
متاثرہ علاقے سے لوگ اپنے رشتے داروں اور دیگر مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ ایک مکین جو اپنے چار بچوں کے ساتھ کہیں جا رہے تھے نے بتایا کہ بجلی منقطع ہے اس لیے وہ یہاں رہے نہیں سکتے۔
نعمان شامی کا مکان بھی متاثرہ علاقے میں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا مکان نمبر آر 117 ہے اور طیارے نے 114 نمبر مکان سے ٹکرانا شروع کیا، اس کی بائیں طرف زیادہ متاثر ہوئی ہے لیکن مکانات دوسری جانب بھی متاثر ہوئے ہیں۔
مکان نمبر 118 میں جہاز کا ایک پر ابھی بھی پھنسا ہوا ہے لیکن مکین خیریت سے ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ نچلی منزل میں تھے۔ ’پائلٹ نے یہ بڑا کام کیا کہ جہاز کو گلی کے درمیان میں اتار دیا ورنہ اور بھی نقصان ہوسکتا تھا، لوگوں کی جان بچی ہے لیکن املاک کا بہت نقصان ہوا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ حکام تخمینہ لگانے آئے تھے کہ کس نوعیت کا نقصان ہوا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے یہ پیشکش نہیں کی گئی کہ کسی دوسری جگہ پر منتقل کرلیتے ہیں۔












