کراچی طیارہ حادثہ: فیصل ایدھی کا لواحقین کی جانب سے لاشیں زبردستی لے جانے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAFP
ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں پی آئی اے کے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین ان کے مردہ خانوں سے کسی قانونی اجازت نامے کے بغیر وہ لاشیں اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل ایدھی نے مؤقف اپنایا ہے کہ (ہلاک شدگان کے) ورثا ہنگامہ آرائی اور زبردستی کرتے ہیں، اور اپنے طور پر بغیر کسی اتھارٹی لیٹر کے اندازے پر لاش لے جاتے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایدھی اور چھیپا کے سرد خانوں سے 36 لاشیں بغیر سائنسی بنیادوں پر شناخت کے زبردستی اپنے ساتھ لے جائی جا چکی ہیں۔
سندھ حکومت نے اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ بی بی سی فیصل ایدھی کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
فیصل ایدھی نے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ کچھ لوگوں نے اس عمل کی ابتدا کی تھی جس کے بعد دیگر ورثا نے بھی یہ ہی طرز عمل اپنایا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس سیکیورٹی بھی موجود نہیں تھی، اور متعلقہ حکام سے رابطے کے بعد کچھ قدر سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصل ایدھی نے حکومت سے رابطہ نہیں کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ فیصل ایدھی سے رابطہ کریں گے اور وہ جو سیکیورٹی چاہیں گے انھیں فراہم کردی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس حادثے میں 97 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ محکمہ صحت سندھ کے مطابق اب تک 34 افراد کی لاشوں کی شناخت کی جا چکی ہے اور اِن تمام لاشوں کو لواحقین کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

’اس طرح لاشیں لے جانے سے مشکلات ہوں گی‘
ڈی این اے ٹیسٹ کی شناخت کے لیے نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے ڈاکٹر ہمایوں تیمور کو بھیجا ہے جو اس سے قبل چترال حادثے کے ڈی این اے لے کر جنید جمشید کی لاش کی شناخت کرچکے ہیں۔
ڈاکٹر ہمایوں تمیور نے بتایا کہ وہ گذشتہ روز آئے تھے اور اتوار کی دوپہر کو انھیں اجازت ملی ہے وہ دانتوں سے 21 سیمپل لے چکے ہیں، اس طرح لاشیں لے جانے سے یہ ڈی این اے ٹیسٹ میں دشواری ہوگی ہوسکتا کہ پھر قبر کشائی کی جائے۔
واضح رہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ میں پہلے ہلاک ہونے والوں اور اس کے بعد ان کے قریبی رشتے داروں کے ڈی این اے لیے جاتے ہیں دونوں کی میچنگ ہوتی ہے جس کے بعد شناخت کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس کام کو ایک ماہ میں مکمل کرنے کے لیے ماہرین کو 24 گھنٹے کام کرنا پڑے گا۔
’ڈی این اے ٹیسٹ میں ایک ماہ لگ سکتا ہے‘
کراچی یونیورسٹی کے پنجوانی مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر اور پاکستان کے کئی اعلیٰ ترین سول ایوارڈ یافتہ سائنسدان پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ میں ایک مہینے کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
سندھ کی فورینزک لیبارٹری اسی تحقیقی مرکز میں قائم ہے۔ یہ سینٹر کئی عمارتوں پر مشتمل ہے، جس کی ایک عمارت میں کنٹینر نما دفتر میں طیارہ حادثے کا شکار ہونے والوں کے لواحقین کے ڈی این اے حاصل کیے گئے۔
پروفیسر محمد اقبال چوہدری نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج میں ایک ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے، جو ایک عالمی معیار ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’لاشیں ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوئیں بلکہ سالم حالت میں ہیں لیکن بہت بری طرح جھلسی ہوئی ہیں۔ ان کے دانتوں اور ہڈیوں سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے جائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے کے ٹیسٹ سیمپل لیے جائیں گے پھر جو قریبی رشتے دار ہیں جیسے والد، والدہ، بہن، بھائی، بیٹا یا بیٹی، ان کے ڈی این اے کا نمونہ لیا جائے گا، پھر ان کی پروفائل بنے گی۔ جب یہ مرحلہ پورا ہوجائے گا تو پھر ڈی این اے کی میچنگ کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پروفیسر محمد اقبال چوہدری کی ٹیم میں 20 کے قریب ماہرینِ حیاتیات اور جینیاتی ماہرین شامل ہیں، جو تین شفٹوں میں چوبیس گھنٹے کام کریں گے۔
پروفیسر چوہدری کے مطابق ڈی این اے ایک حساس معاملہ ہے، جو ہلاک ہوئے ہیں ان کے ڈی این اے ایک الگ لیبارٹری میں ہوں گے جبکہ ان کے رشتے داروں کے ڈی ای این اے الگ لیبارٹری میں ہوں گے اور دونوں لیبارٹریوں کے ملازمین آپس میں دوران کام میل ملاقات نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان ڈی این اے پر اثر ہوسکتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ لیبارٹریاں بھی خاص انداز سے تیار کی جاتی ہیں ان میں منفی پریشر ہوتا ہے اور ہوا بھی ایک ہی رخ میں چلتی ہے۔
’لواحقین، متاثرین کے لیے امداد کا اعلان‘
اس سے قبل سنیچر کو کراچی میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حکومت نے ابتدائی طور پر ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے لیے دس دس لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اصل رقم جو انشورنس کی ہے وہ 50 لاکھ روپے کے لگ بھگ بنتی ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ اس کو بھی جلد ازجلد متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا جائے۔‘
وفاقی وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ اس حادثے کے باعث جن گھروں کا نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ حکومت کرے گی اور اپنی حیثیت کے مطابق انھیں مدد فراہم کی جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے کہا کہ ’ہم ابھی جائے حادثے کا دورہ کر کے آئے ہیں وہاں بہت سے مکانات اور لوگوں کی املاک مثلًآ گاڑیوں وغیرہ کو نقصان پہنچا ہے، اس سلسلے میں ابتدائی جائزے کا حکم دے دیا ہے اور دیکھا جائے گا کہ ہر گھر کی مرمت اور بحالی پر جتنا خرچہ ہوگا وہ حکومت برداشت کرے گی۔‘
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ 'ان گھروں کو مکمل بحال کر کے باسیوں کے حوالے کیا جائے گا اور اسی طرح جن لوگوں کی گاڑیاں جلی ہیں ان کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔'
اس موقع پر پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک نے بتایا کہ 96 مسافروں کے ڈی این اے کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور اس کے لیے لاہور سے خصوصی ٹیم کو بلوا کر کراچی یونیورسٹی میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ ڈی این اے میچ کرکے شناخت کی جاسکے۔
ارشد ملک نے کہا کہ 100 فیصد لواحقین سے رابطہ ہوچکا ہے جیسے ہی ڈی این اے میچ کرنے کا عمل مکمل ہوگا ہم میتیں حوالے کرنے کا عمل شروع کر دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت پاکستان نے حادثے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور میرا تحقیقات سے صرف اتنا تعلق ہے کہ جو معلومات، دستاویز طلب کی جائیں وہ انھیں دینے کا پابند ہوں، اس کے علاوہ میرا تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔'
جبکہ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 'ہم میں سے ہر کوئی ماہر ہے، یہ قومی حادثہ، سانحہ ہے اور بہت بڑا واقعہ ہے، اس پر رائے ضرور دینی چاہیے لیکن جو رائے دینی ہے وہ انکوائری کمیٹی کے سامنے دی جائے۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
حادثے کی تحقیقات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم کی منظوری کے بعد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اس میں پاک فضائیہ کے 4 انتہائی تجربہ کار افسران موجود ہیں۔'
سول ایوی ایشن حکام کے مطابق طیارے کا بلیک باکس مل چکا ہے جس کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے بھیجا جائے گا اور رپورٹ آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
کراچی کی ماڈل کالونی میں واقع جناح گارڈن میں پیش آنے والے اس طیارہ حادثے پر انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کی جانب سے اظہارِ افسوس کیا گیا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مشکل وقت میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حادثہ کب پیش آیا؟
جمعہ 22 مئی کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر 25 منٹ پر لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا طیارہ ایئربس اے 320 ہوائی اڈے کے قریب ماڈل کالونی کے قریب واقع جناح گارڈن نامی آبادی پرگر کر تباہ ہو گیا۔
اس طیارے میں عملے کے آٹھ اراکین سمیت 99 افراد سوار تھے۔
سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کے مطابق طیارہ محو پرواز تھا اور فائنل لینڈنگ کے لیے پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو اپروچ کیا اور آگاہ کیا کہ طیارہ لینڈنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ایئر پورٹ پر آ کر طیارے نے 'گو اراؤنڈ' یعنی چکر کاٹنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے۔ یہ تفصیلات بلیک باکس کی جانچ پڑتال پر ہی پتا چلیں گی۔
فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ اور جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے ایک فیصل ایدھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے کو رن وے سے دو سے ڈھائی سو میٹر کے فاصلے پر حادثہ پیش آیا، جہاں یہ ایک گھر کی تیسری منزل پر بنی پانی کی ایک ٹنکی سے ٹکرایا اور 20 فٹ چوڑی گلی میں گھس گیا۔
اب تک کتنی میتوں کی شناخت ہو سکی ہے؟
سندھ حکومت کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا کے مطابق کراچی طیارے حادثہ کے بعد 97 مسافروں لاشیں ملیں ہیں اور ان میں 68 مرد، 26 عورتیں اور 3 بچے شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ چھ زخمیوں میں سے دو زندہ بچ جانے والے مسافر جبکہ چار رہائشی زیر علاج ہیں۔
اتوار کے روز تک 34 لاشوں کی شناخت ہوچکی تھی۔
اب تک شناخت ہونے والی میتوں میں سے ایک طیارے کے پائلٹ سجاد گل کی میت بھی ہے۔
اس کے علاوہ فوج میں حال ہی میں بھرتی ہونے والے لیفٹیننٹ بالاچ خان کی میت کی بھی شناخت ہوئی تھی جس کے بعد ان کی میت ان کے اہلخانہ کے سپرد کر دی گئی تھی۔
ان کے علاوہ میجر شہریار کی اہلیہ ماہم اور بیٹی الیسا شہریار کی میت کی شناخت بھی کی جا چکی ہے۔
بچنے والے خوش نصیب کون ہیں؟
گذشتہ روز طیارہ حادثے میں جہاں 97 ہلاکتیں ہوئیں وہیں دو مسافر زندہ بھی بچ گئے تھے۔
سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے ایک ٹویٹ میں دونوں افراد کی شناخت محمد زبیر اور ظفر مسعود کے نام سے کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ یہ دونوں مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے لیکن ابھی زخمی ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور فی الحال یہ دو مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور صوبائی وزیر تعلیم سینیٹر سعید غنی نے کراچی طیارہ حادثے میں بچ جانے والے ایک مسافر کے ہمراہ اپنی تصویر بھی شیئر کی۔
نجی ٹیلیویژن چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ محمد زبیر سیالکوٹ سے کراچی عید منانے آ رہے تھے اور محمد زبیر کا 30 فیصد جسم جل چکا ہے مگر وہ ہوش میں ہیں۔
حادثے میں بچ جانے والے دوسرے مسافر ظفر مسعود تھے جو دی بینک آف پنجاب کے موجودہ صدر ہیں۔
ظفر مسعود کو جائے حادثہ سے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
طیارے کی مے ڈے کال کی آڈیو میں کیا سنا جا سکتا ہے؟
مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ایک آڈیو کلپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کی ہے۔
اس کال میں پائلٹ کو مے ڈے کال دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
کلپ کے شروع میں بظاہر پائلٹ کی آواز آتی ہے کہ ان کے جہاز کے تمام انجن ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد ٹاور ان سے معلوم کرتا ہے کہ آیا وہ بیلی لینڈنگ کرنے والے ہیں، اور پھر انھیں بتاتا ہے کہ ان کے لیے دونوں رن وے دستیاب ہیں۔
اس کے کچھ لمحوں بعد جہاز کا پائلٹ 'مے ڈے' کال دیتا ہے، جس کے بعد خاموشی ہو جاتی ہے۔

حادثے کی تحقیقات کب تک مکمل ہوں گی؟
وفاقی حکومت نے کراچی میں پی آئی اے کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی'ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹیگیشن بورڈ' کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کریں گے۔
اس کے دیگر ارکان میں ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، گروپ کیپٹن توقیر اور ناصر مجید شامل ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کر کے 'جلد از جلد' اپنی رپورٹ جمع کروائے، تاہم کمیٹی کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ایک ماہ کے اندر اندر پیش کی جائے۔
سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کے مطابق طیارے کے ساتھ کیا ہوا یہ تفصیلات بلیک باکس کی جانچ پڑتال پر ہی معلوم ہو سکیں گی۔
انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ آیا طیارے کو کوئی تکنیکی مسئلہ ہوا یا کوئی پرندہ جہاز سے ٹکرایا یہ تب ہی پتا چل سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حادثے کے شکار طیارے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
کراچی میں آج حادثے کا شکار ہونے والی ایئر بس اے 320 جہاز کو سنہ 2014 میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سول ایوی ایشن کے 'ایئر وردینیس ڈیپارٹمنٹ' نے اس دورانیے میں جہاز کی چھ مرتبہ جانچ پڑتال کی۔
جہاز کی آخری انسپیکشن گذشتہ برس چھ نومبر کو ہوئی تھی۔ چھ نومبر کو ہونے والی انسپیکشن رواں برس پانچ نومبر تک مؤثر تھی۔
پی ائی اے ک چیف انجینیئر کراچی ایئرپورٹ نے اس طیارے کو رواں برس 28 اپریل کو مینٹیننس اینڈ ریویو سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔ یہ سرٹیفیکیٹ رواں سال 25 نومبر تک مؤثر تھا۔














