ایکواڈور کی جیل میں غنڈہ راج: جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان بدترین لڑائی میں 116 قیدی ہلاک

police are in control of the prison

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگھوڑوں پر سوار پولیس اہلکار مذکورہ جیل کے ارد گرد نگرانی کر رہے ہیں

ایکواڈور کے ایک ساحلی شہر کی جیل میں قیدیوں کے دو گروہوں کے درمیان لڑائی میں کم از کم 116 افراد ہلاک ہونے کے بعد 400 پولیس اہلکاروں نے جیل کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

گویاکِل شہر کی مرکزی جیل میں قیدیوں کے درمیان خوفناک لڑائی کا آغاز منگل کو ہوا تھا جس کے بعد بدھ کو حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے جیل کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

لیکن جمعرات کی صبح جیل کے پڑوس میں رہنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ اب بھی جیل کے اندر سے دھماکوں اور گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ اس کے بعد پولیس حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ’نظم و نسق قائم رکھنے کے لیے‘ چار سو پولیس اہلکاروں کو جیل کے اندر بھیجا جا رہا ہے۔

اس دوران محمکۂ پولیس نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو بھی لگائی ہے جس میں پولیس والوں کو جیل کی بڑی عمارت میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

خونریز لڑائی شروع کیسے ہوئی؟

قیدیوں کے درمیان یہ لڑائی منگل کو اس وقت شروع ہوئی جب ایک گروہ کے لوگ ایک تنگ سوراخ سے گزر کر جیل کے اس حصے میں پہنچ گئے جہاں ان کے ایک مخالف گروہ سے تعلق رکھنے والے مجرموں کو رکھا گیا تھا۔ وہاں پہنچ کر پہلے گروہ نے دوسرے پر دھاوا بول دیا اور کم از کم چھ افراد کی گردنیں اڑا دیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے مخالف گروہ پر گولے پھینکے اور کچھ کو گولی مار دی۔

پولیس اس جھڑپ سے جیل کے چھ خانساموں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو سکی اور اس دوران صرف دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

لیٹورل جیل ایکواڈور

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنلیٹورل جیل میں لڑائی کے دوران کئی قیدیوں کو چھت پر دیکھا گیا

ایکواڈور کے محکمۂ جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر بولیور گارزن کا کہنا تھا کہ پولیس جب منگل کی سہ پہر جیل میں داخل ہوئی تو انھیں وہاں 24 لاشیں ملیں۔

منگل کی رات ایک مرتبہ پھر جیل میں فائرنگ شروع ہو گئی جو بدھ کی صبح تک جاری رہی۔

ڈائریکٹر کے مطابق بدھ کو پولیس نے ایک ایک کر کے جیل کے تمام حصوں کا جائزہ لیا تو وہاں انھیں بے شمار مزید لاشیں ملیں جس کی بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 116 تک پہنچ گئی۔

اس کے بعد جمعرات کی صبح جب معلوم ہوا کہ ابھی تک جیل کے اندر سے گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں تو مزید چار سو پولیس اہلکاروں کو وہاں بھیج دیا گیا۔

جیل کے باہر پریشان رشتہ دار اپنے پیاروں کے متعلق کسی خبر کے انتظار میں ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیل کے باہر پریشان رشتہ دار اپنے پیاروں کے متعلق کسی خبر کے انتظار میں ہیں

کون کس سے لڑ رہا ہے؟

اس لڑائی میں سو سے زیادہ قیدی ہلاک ہو چکے ہیں اور محض دو پولیس والے زخمی ہوئے ہیں، جس سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جیل توڑنے کی کوئی کوشش نہیں تھی بلکہ لڑائی قیدیوں کے درمیان ہوئی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عین ممکن ہے کہ قیدیوں کے درمیان اس خوفناک لڑائی کا حکم انھیں جیل کے باہر سے دیا گیا ہو جو طاقت کی اس جنگ کی عکاسی کرتا ہے جو میکسیکو کے مختلف منشیات سمگلروں کے درمیان جاری ہے اور اب اس کا دائرہ ایکواڈور تک پھیل چکا ہے۔

An inmate is seen at a prison in Guayaquil, Ecuador, on September 29, 2021, after a riot occurred.

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنقیدیوں کے میکسیکو کے مختلف بدنام زمانہ جرائم پیشہ گروہوں سے رابطے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں

اس جیل میں موجود کچھ قیدیوں کا تعلق ایکواڈور کے منشیات فروش گروہ ’لوس کرونیروز‘ سے ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ میکسیکو کے منشیات کا دھندہ کرنے والے طاقتور گینگ ’سینلووا‘ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن میکسیکو سے ہی تعلق رکھنے والا جرائم ہپیشہ افراد کا دوسرا گینگ، ’جیلسکو نیو جنیریشن کارٹل‘ اس کوشش میں ہے کہ ایکواڈور کے گروہوں کے ساتھ مل کر منشیات کی سمگلنگ کے اس راستے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لے جہاں سے منشیات ایکواڈور کے راستے وسطی امریکہ کے ممالک تک پہنچائی جاتی ہیں۔

جس قسم کی کٹی پھٹی لاشیں اس حالیہ لڑائی کے نتیجے میں نظر آئی ہیں ایکواڈور کی جیلوں میں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ میکسیکو کے جرائم پیشہ گروہوں کی لڑائی میں اس قسم کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ یہ گینگ اکثر مختلف گروہوں کے افراد کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہے ہیں جس کا مقصد دوسرے گروہوں میں خوف ہراس پھیلانا ہوتا ہے۔

صورت حال اس قدر خراب کیسے ہوئی؟

حالیہ لڑائی ایکواڈور کی جیلوں کی تاریخ کی بدترین لڑائی ہے، تاہم گزشتہ ایک برس میں قیدیوں کے درمیان کئی مسلح تصادم ہو چکے ہیں۔

اس سال فروری میں ملک کی چار مختلف جیلوں میں بیک وقت لڑائی کے دوران 79 قیدی مارے گئے تھے اور اس وقت بھی اس ساحلی شہر کی جیل میں لوگ مارے گئے تھے۔

جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر گارزن کے مطابق اس کی ایک وجہ جیلوں میں قیدیوں کے پاس اسلحے کی بہتات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ گروہ بڑی مقدار میں جیلوں کے اندر اسلحہ پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن جب بھی پولیس تلاشی لیتی ہے تو اس کے ہاتھ بہت تھوڑا اسلحہ آتا ہے۔

’ہم جو اسلحہ تلاش کر پاتے ہیں اس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے کیونکہ باقی اسلحہ اتنی صفائی سے جیلوں میں چھپا دیا جاتا ہے کہ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔‘

ماضی میں ایکواڈور کے صدر لاسو ملک کی جیلوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کا ذمہ دار گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو قرار دے چکے ہیں۔ اس برس جولائی میں انہوں نے کہا تھا کہ ایکواڈور کی جیلوں میں گنجائش سے 30 فیصد زیادہ لوگ قید ہیں۔

اس وقت انھوں نے اعلان کیا تھا کہ جیلوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت ایسے مجرموں کی جلد رہائی کے عمل کو تیز کرے گی جو اپنی قید کی مدت پوری کر چکے ہیں یا چھوٹے جرائم میں قید ہیں۔

بدھ کو صدر نے جیلوں میں ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا تھا جس کے تحت محمکہ کے افسران کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ قیدیوں کے کچھ حقوق معطل کر سکتے ہیں اور جیلوں کی صورت حال پر دوبارہ قابو پانے کے لیے فوج بھی طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ صدر نے اضافی رقم کا بھی اعلان کیا تاکہ جیلوں میں مزید کیمرے لگائے جا سکیں۔

انسانی المیہ

relatives wait for info

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکئی قیدیوں کی عزیر رشتہ دار جیل کے باہر کھڑے اپنے خاندان کے افراد کے بارے میں پوچھ رہے ہیں

حالیہ لڑائی میں کون کون مارا گیا، اس حوالے سے مصدقہ اطلاعات کی کمی ہے کیونکہ کچھ افراد کو اس بری طرح مارا گیا ہے کہ لاشوں کی شناخت میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کے کچھ عزیزوں کا کہنا تھا کہ انھیں جیل کے اندر سے تصویریں اور ویڈیوز بھیجی گئی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ آیا ان کے خاندان کا کوئی فرد بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے یا نہیں۔