ہالی وڈ میں دکھائی جانے والی ڈکیتیوں کی طرز پر برازیلی شہروں میں ہونے والے حملے خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں

The charred remains of a truck at the gates of the state military police headquarters in Criciuma

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننورا بتاتی ہیں کہ جب وہ اور ان کے بیٹے واپس گھر کے مرکزی کمرے میں آئے تو ان کے اے سی میں گولیاں لگی ہوئی تھیں۔.

نورا اپنے بیٹے کو کہنے والی تھیں کہ وہ ٹی وی کی آواز کم کرے کیونکہ اس کی ایکشن ویڈیو گیم کا شور بہت زیادہ تھا۔

تاہم دو بچوں کی اس ماں کو احساس ہوا کہ جو گولیوں کی آوازیں انھیں آ رہی تھیں وہ ان کے بیٹے کی ویڈیو گیم سے نہیں بلکہ گھر کے باہر اصل گولیاں چلنے کی تھیں۔

نورا (فرضی نام) اور ان کی فیملی جو دیکھ رہے تھے وہ برازیل کے اس جنوبی شہر کریکیومہ میں ایک بینک پر ڈاکہ تھا۔ یہ کارروائی 30 نومبر کو رات بجے کے قریب کی گئی۔

اگلے دو گھنٹوں میں 40 افراد نے تقریباً دو لاکھ کی آبادی والے اس شہر کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ گینگ بھاری اسلحے سے لیس تھا۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک جگہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک حملہ آور کے پاس ایک ایسا راکٹ لانچر ہے جو کہ طیاروں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گینگ نے انتہائی پیچیدہ حربے استعمال کرتے ہوئے سٹی سینٹر میں مختلف بینکوں اور اے ٹی ایم مقامات کو نشانہ بنایا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

حملہ آوروں نے کونسل ورکرز کو یرغمال بھی بنا لیا اور انھیں انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کیا۔ مقامی پولیس کے صدر دفتر پر بھی حملہ کیا گیا۔ انھوں نے گاڑیوں کو آگ لگا دی اور اطلاعات کے مطابق دھماکے بھی کیے گئے۔

گلیوں میں بکھرے نوٹ

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے چار رہائشیوں کو حراست میں لیا جنھوں نے حملے کے بعد وہ پیسے اکھٹے کیے جو سڑک پر بکھرے پڑے تھے اور گینگ والے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ یہ رقم بھی ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے زیادہ تھی۔ برازیلی صحافی رینن برائٹس نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں لوگوں کو سڑک پر اڑتے پیسے جمع کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس کے ترجمان کرنل ماسلو پونتز نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’کیونکہ یہ کارروائی ایک رہائشی علاقے میں ہو رہی تھی ہمارے احکامات صرف اس علاقے کو گھیرے میں لینے کے تھے۔ حملہ آور بھاری اور دھماکہ خیز ہتھیاروں کے ساتھ لیس تھے۔ ہم کارروائی کی شدت اس لیے نہیں بڑھائی تاکہ جانیں بچ سکیں۔'

کچھ رہائشیوں نے سوشل میڈیا پر چھتوں پر بیٹھے نشانہ بازوں کی تصاویر بھی شیئر کیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

نورا نے بی بی سی کو بتایا کہ شوٹنگ چلے جا رہی تھی۔ ہم ایک باتھ روم میں چھپے ہوئے تھے۔ ہمیں گلی سے یہ آواز بھی آ رہی تھی کہ حملہ آور لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ وہ کھڑکیوں سے دور رہیں۔'

’وہ ہمیں تعاون کے لیے کہتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ یہ سب جلد ختم ہو جائے گا۔ تاہم انھوں نے لوگوں کو کہا کہ اس واقعے کی فلم بندی نہ کریں۔'

نورا بتاتی ہیں کہ جب وہ اور ان کے بیٹے واپس گھر کے مرکزی کمرے میں آئے تو ان کے اے سی میں گولیاں لگی ہوئی تھیں۔

A spent high-calibre bullet in a woman's hand

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Mauricio C

،تصویر کا کیپشنیہ حملہ آور بھاری اسلحے سے لیس ہوتے ہیں

دوبارہ حملہ

مگر اس واقعے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر بالکل ایسا ہی حملہ ہزاروں کلومیٹر دور کامیتا کے شہر میں ہوا۔ ابھی تک کوئی ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ ان دونوں حملوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ایسے حملے برازیل میں کوئی نئی بات ہیں۔ 2019 میں صرف ریاست ساؤ پالو میں 21 بینکوں میں ڈاکے ڈالے گئے۔ 2020 کے ابتدائی نصف میں ایسی 14 وارداتیں ہوئیں۔

تاہم یہ ’میگا حملہ‘، یعنی اتنے بڑے پیمانے پر حملے، برازیل کے پانچوں صوبوں میں دیکھے گئے ہیں اور عموماً متوسط یا چھوٹے شہر ان کا نشانہ بنتے ہیں۔

ان حملوں کو ماہرین نے نئی ’کانگاکو‘ کہنا شروع کر دیا ہے جو کہ 19ویں اور 20ویں صدی میں برازیل میں لوٹ مار کے سلسلے کا نام ہے۔

برازیل میں سکیورٹی ماہر گواریسی مگناردی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ آور چھوٹے شہروں کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کہ یہاں پر داخلے اور نکلنے کے راستے کم ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں کی پولیس فورس بھی کم ہوتی ہے۔

یہ گینگ اتنا اسلحہ لے کر آتے ہیں کہ مقامی پولیس کا مقابلہ کر لیں اور ملک میں پبلک سکیورٹی پالیسی میں جو جو کمیاں ہیں ان کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

Reproduction from CCTV camera shows police officers in the city of Botucatu in a gunfight with bank robbers earlier this year

،تصویر کا ذریعہBBC Brasil

،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ گینگ نے انتہائی پیچیدہ حربے استعمال کرتے ہوئے سٹی سینٹر میں مختلف بینکوں اور اے ٹی ایم مقامات کو نشانہ بنایا

یونیورسٹی آف ساؤ پالو کے پروفیسر گیبریئل فلٹران کہتے ہیں کہ برازیل نے کئی برسوں تک اس فلسفے پر کام کیا کہ پولیس کو منظر عام پر نظر آنا چاہیے اور گرفتاریوں پر توجہ دی۔ برازیل میں قیدیوں کی تعداد دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں کافی زیادہ ہے۔ مگر گیبریئل کا خیال ہے کہ جیلوں میں زیادہ سے زیادہ افراد کے ہونے کی وجہ سے جرائم پیشہ گینگز بننے میں مدد ملی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’چھوٹے بڑے دونوں قسم کے جرائم کا مقابلہ قید کی سزاؤں سے کیا گیا۔ بہت سے لوگ نوجوانی میں جیل گئے تھے اور جیلیں جرائم کی یونیورسٹیاں بن گئیں۔'

وہ بتاتے ہیں کہ ان جرائم پیشہ گروہوں نے غیر قانونی ہتھیاروں اور منشیات کے کاروبار سنبھال لیے اور پھر انھوں نے اپنے وسائل اور معلومات اکھٹی کر کے ان جیسے حملوں کو ممکن بنایا۔

’انھیں معلوم ہے کہ سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔'

گیبریئل فلٹران پبلک پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جرائم میں اضافے کے باوجود حکومتی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

’ان کا خیال ہے کہ یہ راستہ کام کرے گا۔ پولیس کے لیے اور پیسے، اور لوگوں کو دبانے کے لیے مزید پیسے۔' ان کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی غیر سود مند ہوگا۔

سیارہ وفاقی یونیورسٹی کی پروفیسر جونیا پرلا اکیونو کہتی ہیں کہ ان گینگز کے پاس ایک اور بڑا زبردست ہتھیار ہے اور وہ ہے لوگوں میں خوف و ہراس۔ ان کا کہنا ہے کہ تشدد اور حملے کا مقصد ایک نفسیاتی اور ظاہری اثر پیدا کرنا ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’روایتی ڈاکوؤں میں آپ کو پولیس سے لڑنے کی یہ کوشش نہیں نظر آتی۔ یہ گینگ لوگوں کو یرغمال بناتے ہیں اور جن شہروں میں حملے کرتے ہیں وہاں نظام کو درہم برہم کر کے جاتے ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کی وجہ سے پولیس کی جانب سے شدید ردعمل آ سکتا ہے۔

’پولیس اہلکار اپنی بے عزتی محسوس کرتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ ان کی مردانگی کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ لڑنا چاہتے ہیں۔‘

مگر مسئلہ یہ ہے کہ لڑائی میں راہ گیروں کو خطرہ ہوگا۔ دسمبر 2018 میں ایک واقعے میں فائرنگ کے تبادلے میں 6 یرغمال مارے گئے تھے۔

Prisoners in a penitentiary in northern Brazil

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس انداز کے بڑے حملے، برازیل کے پانچوں صوبوں میں دیکھے گئے ہیں اور عموماً متوسط یا چھوٹے شہر ان کا نشانہ بنتے ہیں

تو ماہرین کا کیا خیال ہے کہ ان حملوں سے کیسے نمٹا جائے؟

گیبریئل کہتے ہیں کہ سکیورٹی کے حوالے سے پبلک پالیسی تبدیل کی جائے اور ہتھیاروں کی بلیک مارکیٹ پر قابو پایا جائے۔ ان کے خیال میں پولیس کو اپنے انٹیلیجنس آپریشنز میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک چھوٹے قصبے میں 40 افراد کے ساتھ حملہ کرنے میں کافی منصوبہ بندی شامل ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان میں ملوث لوگ زیادہ نہیں ہیں اور ان میں سے زیادہ تر قانونی نظام میں سے گزر چکے ہیں۔

جونیا پرلا اکیونو کہتی ہیں کہ کیش کے بغیر چلنے والے معاشرے ایسے حملوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

’جب ہم دیکھیں گے کہ اتنا کیش کسی ایک جگہ پڑا ہے تو لوگ خود ہی اس کی طرف مائل ہوں گے۔ ہمیں اسی لیے الیکٹرنک ادائیگیوں کے نظام کی جانب بڑھنا چاہیے۔'

ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ اس سب میں بے بسی کا احساس سب سے بدترین چیز ہے۔

’میرے بچے مجھے کہتے ہیں کہ شاید کسی میدانِ جنگ میں رہنا ایسا ہوتا ہوگا‘۔