دنیا ایران کے خطرے کو پہچانے: اسرائیلی وزیراعظم نیفتالی بینیٹ

Naftali Bennett holds a cabinet meeting in Jerusalem

،تصویر کا ذریعہReuters

اسرائیل کے وزیراعظم نیفتالی بینیٹ نے امریکہ اور اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خطرے کے بارے میں ’جاگ جائیں‘۔ انھوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا ہے جب ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو دوبارہ لاگو کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

نو منتخب اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ نے کہا ہے کہ ایران کی ‘قاتلوں کی حکومت‘ جوہری ہتھیار بنانا چاہتی ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو دوبارہ لاگو کرنے کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی ہے تاہم ابھی کچھ معاملات پر اتفاقِ رائے ہونا باقی۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا۔

اسرائیل اس معاہدے کی ہمیشہ سے مخالفت کرتا رہا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کے انتخاب پر عالمی برادری کو گہری تشویش ہونی چاہیے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان لیئر حیت کا کہنا تھا کہ ابراہیم رئیسی ایران کے اب تک کے سب سے زیادہ بنیاد پرست صدر ہیں۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ نئے رہنما ایران کی جوہری سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔

سنیچر کو ابراہیم رئیسی کو ایران کے صدارتی انتخابات کا فاتح قرار دیا گیا، کہا جا رہا ہے کہ یہ انتخابی دوڑ انھیں برتری دلانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔

Ebrahim Raisi

،تصویر کا ذریعہReuters

سنہ 2015 میں ایران اور مغربی ممالک کے مابین جوہری معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد ایران پر سخت پابندیاں ختم کردی گئیں۔ تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے سے امریکہ کو یہ کہتے ہوئے نکال لیا تھا کہ ایران جان بوجھ کر معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور ایک بار پھر ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

نئے امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت اب دوبارہ اس معاہدے میں شامل ہونے کا راستہ تلاش کر رہی ہے۔

پابندیاں سخت ہونے کے بعد ایران نے بھی اپنے جوہری پروگرام کو تیز کردیا۔ ایران اس وقت اعلیٰ ترین سطح پر یورینیم کی افزودگی کررہا ہے۔ تاہم ابھی تک ایران نے جوہری بم بنانے کی صلاحیت حاصل نہیں کی ہے۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے تاہم اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے نہیں ہے اور اس کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے لیکن کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔

جس دن رئیسی ایران کے صدر بنے، اسی دن ویانا میں ایران کے جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز ایران اور دنیا کے چھ طاقتور ممالک کے نمائندوں کے درمیان، ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک بار پھر بات چیت ہو گی۔

اس مسئلے پر ایران اور امریکہ کے مابین یہ چھٹا مذاکرہ ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، مذاکرات میں شامل قائدین کا کہنا ہے کہ کچھ معاملات پر تعطل ابھی باقی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رئیسی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بالواسطہ بات چیت جاری رہے گی۔

voters

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ابراہیم رئیسی کون ہیں؟

ابراہیم رئیسی 60 برس کے ہیں اور وہ اپنے کرئیر میں زیادہ وقت پراسیکوٹر کے طور پر فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔ انھیں 2019 میں عدلیہ کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ سنہ 2017 میں وہ صدر حسن روحانی سے بڑے مارجن سے ہار گئے تھے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق ابراہیم رئیسی نے مارچ 2016 میں ایران کے سب سے امیر اور اہم ترین مذہبی ادارے امام رضا فاؤنڈیشن۔۔۔آستان قدس رضوی۔۔۔ کا انتظام سنبھال لیا۔ یہ ادارہ مشہد میں امام رضا کے مزار کی نگرانی کرتا ہے۔

یہ عہدہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس ادارے کا بجٹ اربوں ڈالر کے برابر ہے اور یہ فاؤنڈیشن ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں اور تیل و گیس کمپنیوں اور کارخانوں میں آدھی اراضی کی مالک ہے۔

ایران میں متعدد لوگوں کے خیال میں اس منصب پر ان کی تقرری کا مطلب یہ ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای انھیں آئندہ انتخابات میں کامیاب کرانے کے بھی خواہشمند تھے۔

ابراہیم رئیسی اپنے آپ کو بدعنوانی کے خاتمے اور معاشی مسائل کے حل کے لیے بہترین انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم متعدد ایرانی اور انسانی حقوق کے علمبردار ان کے 1980 کی دہائی میں سیاسی قیدیوں کے بڑے پیمانے پر قتل میں کردار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

ایران نے کبھی بڑے پیمانے پر قتل کو تسلیم نہیں کیا ہے اور ابراہیم رئیسی نے بھی کبھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر کچھ نہیں کہا۔