ایران صدارتی انتخاب 2021: ایران کا انوکھا سیاسی نظام کیسے چلتا ہے اور یہاں کس ادارے کے پاس کتنے اختیارات ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کے شہری آج ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں ہونے والی پولنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ موجودہ صدر حسن روحانی کے جانشین بننے کے لیے چار امیدوار میدان میں اُترے ہیں جن میں سے تین امیدواروں کو ’سخت گیر خیالات‘ کا حامی قرار دیا جاتا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق عدلیہ کے موجودہ سربراہ اور قدامت پسند شیعہ رہنما ابراہیم رئیسی کی فتح کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان جائزوں کے مطابق ایران کے مرکزی بینک کے سابق گورنر اور اعتدال پسند رہنما عبدالناصر ہیماتی اُن کے سب سے بڑے حریف ہیں۔
ایرانی سیاسی نظام کے بعض ناقدین اور اصلاح پسندوں نے اس انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اُن کا مؤقف ہے کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خواہشمند کئی امیدواروں پر پابندی کے بعد ابراہیم رئیسی کے لیے جیت کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
ایران میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کی صبح اپنا ووٹ ڈالا اور لوگوں کو بھی ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ہر ووٹ اپنی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ آؤ، ووٹ ڈالو اور اپنا صدر چُن لو۔ یہ ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے۔‘
تین سال قبل امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدہ معطل کیے جانے کے بعد ایران پر تجارتی پابندیاں عائد ہوئی تھیں جس سے یہاں کے شہریوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
اعتدال پسند ایرانی صدر حسن روحانی دوبارہ صدارت کے لیے امیدوار نہیں بن سکتے کیونکہ وہ دو مرتبہ چار، چار سال کی مدت کے لیے صدر منتخب ہو چکے ہیں اور کسی ایک شخص کے لگاتار تیسری مرتبہ صدر بننے پر پابندی ہے۔
ایران میں صدارتی انتخاب کے امیدوار کون ہیں، یہ ہم آپ کو آگے چل کر بتائیں گے مگر پہلے آپ کے لیے یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ ایران کا سیاسی نظام دیگر ممالک کے سیاسی نظاموں سے کتنا مختلف ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے۔

ایران کا سیاسی نظام اور کس کے پاس کتنی طاقت؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کا سیاسی نظام کسی کے لیے پیچیدہ ہے تو کسی کے لیے غیر معمولی۔ اس میں جدید دینی طرز حکومت کو جہموریت کے ساتھ ایک منفرد انداز میں ملایا گیا ہے۔
ایران میں صدر اور پارلیمان کو تو لوگ ہی منتخب کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ غیر منتخب شدہ اداروں کا ایک نیٹ ورک قائم ہے جس کی سربراہی رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔
سپریم لیڈر (رہبر اعلیٰ)

،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY
ایران کے سیاسی نظام میں سب سے طاقتور عہدہ رہبر اعلیٰ یا سپریم لیڈر کا ہے اور اس عہدے پر آج تک صرف دو لوگ ہی آ سکے ہیں۔
پہلی بار یہ عہدہ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی کو ملا تھا اور ان کے بعد اس پر موجودہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای آئے تھے۔
ایرانی حکمران رضا شاہ پہلوی کی حکومت گِرانے کے بعد خمینی نے اس عہدے کو ایرانی سیاسی ڈھانچے میں سب سے اہم منصب بنایا تھا۔
سپریم لیڈر ایرانی دفاعی فورسز کا کمانڈر اِن چیف بھی ہوتے ہیں اور ملک میں سکیورٹی کے معاملات پر نگرانی رکھتے ہیں۔ وہ عدلیہ کے سربراہ، اثر و رسوخ رکھنے والی نگہبان شوریٰ کے نصف ممبران، نماز جمعہ کے امام اور سرکاری ٹی وی و ریڈیو نیٹ ورکس کے سربراہان کو تعینات کرتے ہیں۔
اس رہبر اعلیٰ کے کنٹرول میں ایسے اربوں ڈالرز کے خیراتی ادارے بھی ہوتے ہیں جو ایرانی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
سنہ 1989 میں خمینی کی موت کے بعد علی خامنہ ای سپریم لیڈر بنے تھے۔ گذشتہ عرصے میں انھوں نے اپنی پوزیشن اور طاقت کو مستحکم کیا ہے اور حکمرانی کے اس نظام کو درپیش چیلنچز کو دبا کر رکھا ہے۔
صدر

،تصویر کا ذریعہEPA
ایران میں ایک صدر کو چار سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے، اور کوئی بھی شخص مسلسل ادوار کے بعد تیسری بار صدر نہیں بن سکتا۔
آئین میں اس عہدے کو ملک میں دوسرا سب سے بڑا عہدہ قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر ایگزیکٹیو (امور کی انجام دہی کے ذمہ داران) کا سربراہ ہوتا ہے۔ صدر کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں آئین کی عملداری یقینی بنائی جائے۔
مقامی پالیسی اور خارجی اُمور پر صدر کا اثر و رسوخ ہوتا ہے لیکن تمام ریاستی معاملات پر سپریم لیڈر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔
رواں ماہ ایران کے شہری موجودہ صدر حسن روحانی کا جانشین منتخب کریں گے۔ گذشتہ دو صدارتی انتخابات میں روحانی نے بڑے مارجن سے فتح حاصل کی تھی۔ انھوں نے پہلے راؤنڈ میں ہی 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جس سے مزید کسی مقابلے کی ضرورت نہیں پڑی۔
تمام صدارتی امیدواروں کو نگہبان شوریٰ سے منظوری درکار ہوتی ہے۔ یہ عالم دین اور قانونی ماہرین پر مبنی ایک ادارہ ہے جس میں 12 ممبران ہوتے ہیں۔
سنہ 2021 میں ہونے والے ایرانی صدارتی انتخاب کے لیے 590 افراد نے امیدوار بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر صرف سات افراد کے کاغذات نامزدگی کو منظور کیا گیا۔ خواتین کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں ملی۔
پارلیمان

،تصویر کا ذریعہEPA
ایرانی پارلیمان یا مجلس میں 290 اراکین ہوتے ہیں۔ ان ممبران کو عام انتخابات کے ذریعے ہر چار سال بعد منتخب کیا جاتا ہے۔
پارلیمان نئے قوانین متعارف کروا سکتی ہے، سالانہ بجٹ کو مسترد کر سکتی ہے اور حکومتی وزرا یا صدر کو طلب کرنے کے علاوہ اس کے مواخذے کا حق رکھتی ہے۔ تاہم پارلیمان سے منظور شدہ تمام قوانین کو نگہبان شوریٰ سے حتمی منظوری حاصل کرنا ہوتی ہے۔
سنہ 2020 کے پارلیمانی انتخابات میں سخت گیر رہنماؤں نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان سے قبل نگہبان شوریٰ نے سات ہزار سے زیادہ ممکنہ امیدواروں کو نااہل قرار دیا تھا جن میں بعض رہنما اعتدال اور اصلاح پسند بھی تھے۔
نگہبان شوری

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا ادارہ نگہبان شوریٰ (گارڈئین کونسل) ہے۔ اس کے پاس پارلیمان سے منظور شدہ قوانین کو مسترد کرنے کا حق ہے۔ یہ پارلیمان، صدارت اور مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات کے لیے لوگوں کو امیدوار بننے سے روک سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس میں سپریم لیڈر کے تعینات کردہ چھ عالم دین جبکہ عدلیہ کی جانب سے نامزد اور پارلیمان کی جانب سے منظور کردہ چھ قاضی ہوتے ہیں۔ ممبران کو مرحلہ وار چھ سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے اور ہر تین سال بعد آدھے ممبران تبدیل کیے جاتے ہیں۔
اس کونسل میں اس وقت سخت گیر رہنماؤں کی اکثریت ہے اور ان کے سربراہ آیت اللہ احمد جنتی ہیں۔
مجلس خبرگان رہبری

،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY
اس مجلس میں 88 عالم دین ہوتے ہیں اور یہ رہبر اعلیٰ کو تعینات کرنے یا اس کی کارکردگی کی نگرانی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ اگر یہ مجلس محسوس کرے کہ سپریم لیڈر اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں تو اس کے پاس انھیں ہٹانے کا بھی حق ہے۔
اگرچہ ایسا کبھی دیکھا نہیں گیا کہ اس مجلس نے سپریم لیڈر کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہو تاہم یہ مجلس اس لیے اہم ہے کیونکہ موجودہ 82 سالہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
اگر سپریم لیڈر کی وفات ہوتی ہے یا وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں رہتے تو ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے یہ مجلس ایک خفیہ رائے شماری کرے گی اور سادہ اکثریت کی بنا پر نئے رہبر اعلیٰ کا فیصلہ کرے گی۔
مجلس کے اراکین کے براہ راست انتخابات ہر آٹھ سال بعد ہوتے ہیں۔ آخری بار یہ انتخابات 2016 میں ہوئے جس میں اعتدال اور اصلاح پسند رہنماؤں نے قریب 60 فیصد سیٹیں جیتیں۔ گذشتہ مجلس میں ان کی تعداد 25 فیصد سے کم تھی۔
اس کے موجودہ سربراہ آیت اللہ احمد جنتی ہیں جو شوریٰ نگہبان کے بھی سربراہ ہیں۔
مجمع تشخیص مصلحت نظام
یہ کونسل سپریم لیڈر کی مشاورت کرتی ہے۔ اور پارلیمان اور شوریٰ نگہبان کے درمیان قانون سازی میں اختلاف کی صورت میں قانونی حل تلاش کرتی ہے۔
سپریم لیڈر اس کے 45 اراکین کو تعینات کرتے ہیں۔ یہ تمام افراد معروف مذہبی، سماجی اور سیاسی رہنما ہیں۔ ان کے موجودہ سربراہ آیت اللہ صادق آملی لاریجانی ہیں جو عدلیہ کے سابق سربراہ ہیں اور انھیں سخت گیر رہنما قرار دیا جاتا ہے۔
عدلیہ کے سربراہ

،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کے چیف جسٹس کو سپریم لیڈر تعینات کرتے ہیں اور وہ انھیں کو جوابدہ ہیں۔ ان کی ذمہ داری اپنی عدالتوں اور ججوں کے ذریعے ملک میں اسلامی و قانونی قوانین کا نفاذ ہے۔
موجودہ چیف جسٹس ابراہیم رئیسی ہیں، جو صدارتی امیدوار بھی ہیں۔
سکیورٹی اور انٹیلیجنس سروسز کے ساتھ مل کر عدلیہ اختلاف کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ مختلف لوگوں کو قومی سلامتی سے متعلق غیر منصفانہ مقدمات کا سامنا رہتا ہے اور ان مقدمات کی سماعت یہی ججز کرتے ہیں۔
الیکٹوریٹ

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران کی آٹھ کروڑ 30 لاکھ کی آبادی میں قریب پانچ کروڑ 80 لاکھ لوگوں کی عمر 18 سال سے زیادہ ہے اور وہ ووٹنگ میں حصہ لینے کا حق رکھتے ہیں۔
الیکٹوریٹ کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مبنی ہے کیونکہ ملک میں قریب نصف آبادی 30 سال سے کم عمر افراد کی ہے۔
سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں 2020 کے پارلیمانی انتخابات کے علاوہ تمام الیکشنز میں ووٹر ٹرن آؤٹ مسلسل 50 فیصد سے زیادہ رہا ہے۔ سنہ 2020 میں اس کی وجہ لوگوں کی مذہبی رہنماؤں کی اسٹیبلشمنٹ پر بڑھتا عدم اعتماد اور معیشت کے حالات کو سمجھا جاتا ہے۔
مسلح افواج

،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY
ایران کی مسلح افواج میں سپاه پاسداران انقلاب اسلامی اور عام فوج شامل ہیں۔
پاسداران انقلاب کو اسلامی نظام کے تحفظ اور فوج میں جوابی توازن برقرار رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایران میں معاشی و سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور اس کے سپریم لیڈر سے قریبی تعلقات ہوتے ہیں۔
پاسداران انقلاب کی اپنی بری، فضافی اور بحری افواج ہیں اور یہ ایران کے سٹریٹیجک ہتھیاروں کی نگرانی کرتے ہیں۔
فوج کے سینیئر کمانڈرز کو سپریم لیڈر تعینات کرتے ہیں جو اس کے کمانڈر اِن چیف بھی ہیں۔ یہ کمانڈر صرف انھیں جوابدہ ہیں۔
کابینہ

،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY
کابینہ کے ممبران یا وزرا کی کونسل کو صدر چنتے ہیں۔ انھیں پارلیمان کی منظوری حاصل کرنا ہوتی ہے اور پارلیمان وزرا کے خلاف مواخدہ بھی منظور کر سکتا ہے۔
کابینہ کی سربراہی صدر یا کابینہ کے امور کے ذمہ دار نائب صدر کرتے ہیں۔

ایران کے صدارتی انتخاب میں سب سے مضبوط امیدوار کون؟
ایران کے صدارتی انتخاب میں چار بڑے امیدوار ہیں:
اسٹیبلیشمنٹ کے پسندیدہ: ابراہیم رئیسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چند سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ابراہیم رئیسی کے لیے منصب صدارت تک جانے کا راستہ صاف کیا گیا ہے۔
رئیسی ایرانی عدلیہ کے سربراہ ہیں اور سخت گیر نظریات کے حامی ہیں۔ اس کے بارے میں غالب قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی بلکہ ممکنہ طور پر ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے متوقع جانشین ہو سکتے ہیں۔
اُن کے ساتھ اس صدارتی انتخاب کی دوڑ میں کوئی دوسرا ایسا امیدوار نہیں جس کا اتنا اثر و رسوخ اور ایرانی معاشرے میں عزت ہو۔
انھوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز ملک میں معاشی مشکلات کے باعث پیدا ہونے والی ’مایوسی اور ناامیدی‘ سے نمٹنے کے وعدوں کے ساتھ کیا۔

،تصویر کا ذریعہInstagram/Raisi_org
ابراہیم رئیسی کو ایران کے قدامت پسند حلقوں میں وسیع حمایت حاصل ہے اور توقع ہے کہ دوسرے بڑے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی نامنظور ہونے کے بعد ان کی منصب صدارت تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ایران میں سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ابراہیم رئیسی نے عدلیہ کے شعبے کا انتخاب کیا تھا اور اپنے کریئر کے دوران وہ زیادہ تر وقت پراسیکیوٹر کے عہدے پر تعینات رہے تاہم اس دوران ان کے حوالے سے متعدد تنازعات بھی کھڑے ہوتے رہے۔
انھوں نے سنہ 1988 میں تہران کے اسلامی انقلاب کی عدالت کے ڈپٹی پراسیکیوٹر کے فرائض سرانجام دیے اور وہ سیاسی قیدیوں کو بڑے پیمانے پر پھانسی دینے والے ایک خصوصی کمیشن کا حصہ تھے۔
وہ مشہد میں شیعوں کے آٹھویں امام، امام رضا کے روضے آستانۂ قدسِ رضاوی کے نگران بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ماہرین کی اس طاقتور اسمبلی کے بھی رکن ہیں جو سپریم لیڈر کی تقرری اور انھیں ہٹانے کی ذمہ دار ہے۔

فوجی شخص: محسن رضائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
66 برس کے محسن رضائی سنہ 1981 میں پاسدران انقلاب کے کمانڈر مقرر ہوئے تھے اور 1980-88 کی ایران، عراق جنگ کے دوران انھوں نے پاسدران انقلاب سکیورٹی فورسز کی سربراہی کی۔
وہ تین بار صدر کی حیثیت میں الیکشن میں کھڑے ہو چکے ہیں اور وہ کبھی عوامی عہدے پر فائز نہیں ہوئے جبکہ سنہ 2000 میں وہ پارلیمنٹ میں منتخب ہونے کی کوشش میں بھی ناکام رہے تھے۔
انھیں ’بار بار الیکشن لڑنے والے امیدوار‘ کے طور پر بھی پکارا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بہت سے لوگ ایران عراق جنگ کے دوران ان کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کے یہ فیصلے بہت سے فوجیوں کی ہلاکت اور طویل جنگ کی وجہ بنے تاہم محسن رضائی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
انھوں نے تہران یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

اولڈ گارڈ کا حصہ: سعید جلیلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعید جلیلی سنہ 2007-2013 کے دوران ایران کے چیف جوہری مذاکرات کار کی حیثیت سے مشہور ہوئے اور احمدی نژاد کے دور صدارت میں وہ نائب وزیر خارجہ بھی رہے۔
چونکہ انھیں براہ راست سپریم لیڈر خامنہ ای نے ہر اس عہدے پر فائز کیا جس پر وہ ابھی کام کر رہے ہیں تو نوجوان قدامت پسندوں میں انھیں ’پرانے محافظ‘ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سعید جلیلی کو ان کی ’فکری آزادی اور کرپشن میں کمی‘ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
وہ ایکسپیڈینسی کونسل (Expediency Council) کے ممبر کی حیثیت سے بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جو کسی بھی تنازعے میں پارلیمان اور گارڈین کونسل کے مابین ثالثی کراتا ہے۔
وہ ماضی میں بھی صدارتی دوڑ میں حصہ لے چکے ہیں اور سنہ 2013 کے صدارتی انتخاب کے نتائج میں وہ تیسرے نمبر پر تھے۔

واحد اصلاح پسند: محسن مہرالی زادہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محسن مہرالی زادہ اس الیکشن میں کھڑے ہونے والے واحد اصلاح پسند امیدوار ہیں تاہم وہ ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے یہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔
ان کا نام ریفارمز فرنٹ کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔ ریفارمز فرنٹ، ریفارم کی حامی 27 سیاسی جماعتوں اور گروپوں کا اتحاد ہے، جس کے نو امیدواروں کو گارڈین کونسل نے نا اہل کردیا تھا۔
یہ واضح نہیں یہ کہ مسٹر مہرالی زادہ کو اس انتخاب کے لیے دوسرے اصلاح پسندوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں پسند کیا گیا تھا۔
آیت اللہ خامنہ ای کی مداخلت کے بعد سنہ 2005 کے صدارتی انتخاب میں محسن مہرالی زادہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی لیکن پھر سنہ 2016 کے پارلیمانی انتخابات میں کھڑے ہونے پر بھی ان پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

ٹیکنوکریٹ: عبدالناصر ہیماتی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محسن مہرالی زادے کے علاوہ عبدالناصر ہیماتی وہ واحد غیر قدامت پسند امیدوار ہیں جو اس بار صدارت کے امیدوار ہیں۔
وہ ایک اعتدال پسند ٹیکنوکریٹ ہیں جو سنہ 2018 سے ایران کے مرکزی بینک کے گورنر کی حیثیت سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
صدر احمدی نژاد اور صدر روحانی کے دور حکومت میں نمایاں عہدوں پر ان کی تقرری کو ایران کے سیاسی دھڑوں کے مخالف ونگز کے ساتھ کام کرنے کی قابلیت کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔
انھیں ایران کی کرنسی کی قدر میں شدید کمی، ایران کے بینکنگ سیکٹر پر امریکی پابندیوں، جس میں مرکزی بینک پر پابندیاں بھی شامل تھیں، غیر مستحکم سٹاک ایکسچینج اور ایران کی منافع بخش کریپٹوکرنسی مارکیٹ سمیت کئی چیلینجز کا سامنا کرنا پڑا۔
عبدالناصر ہیماتی نے تہران یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور وہ وہاں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت میں پڑھاتے بھی ہیں۔










