اب اور کتنا چلیں گے؟: چین میں ہاتھیوں کا جھنڈ تھک ہار کر سو گیا

،تصویر کا ذریعہchina central television
چین میں ہاتھیوں کے ایک گشت کرتے جھنڈ کو جس نے پورے چین میں شہرت حاصل کر لی ہے ایک جنگل میں سوتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
یہ ہاتھی ژیانگ کے قصبے کے قریب سوتے ہوئے دیکھے گئے کیونکہ اس علاقے میں تیز بارشیں ہوئی تھیں اور ان بارشوں کی وجہ سے ان کے سفر کرنے کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔
یہ ہاتھی گذشتہ 15 ماہ سے سفر کر رہے ہیں اور اپنے مخصوص علاقے سے 500 کلومیٹر کا سفر طے کر چکے ہیں۔
چین کے حکام ان ہاتھیوں کے سفر پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جو بہت سے جنگلات، کھیتوں،شہروں اور دیہاتوں سے گزرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این نے اطلاع دی ہے کہ حکومت نے ان ہاتھیوں پر نظر رکھنے کے لیے 14 ڈرون اور 500 افراد تعینات کیے ہیں تاکہ ان ہاتھوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔
ان ہاتھیوں کو جنوب مغرب کی طرف جانے دینے کے لیے سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہcentral china television
ماضی میں ان ہاتھیوں کا رخ موڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن لگتا ہے کہ اب یہ ہاتھی واپس اپنے علاقے کی جانب رخ کر رہے ہیں جو کہ چین کے جنوب مغربی یونان صوبےمیں مینگیانگزی کے نیچر ریزور میں قائم ہے۔
اس جھنڈ میں بچوں سمیت 15 ہاتھی ہیں۔ یونان صوبے کے آگ بجھانے والے ادارے کے اہلکاروں کے مطابق ایک نر ہاتھی جھنڈ سے الگ ہو کر چار کلو میٹر دور موجود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
ان جانوروں نے لاکھوں ڈالر کی مالیت کی کھڑی فصلیں اپنی خوراک بنا لی ہیں۔ اُنھوں نے اپنے راستے میں عمارتوں کو نقصان بھی پہنچایا اور کئی جگہوں پر گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں میں اپنی سونڈیں ڈالیں۔ جن شہروں اور دیہاتوں سے یہ ہاتھی گزرے ہیں ان میں کنمنگ کا شہر بھی شامل ہے جہاں کئی کروڑ افراد آباد ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان ہاتھیوں نے اپنے علاقے کو چھوڑ کر سفر کیوں اختیار کیا ہے اور اس معاملے میں پوری دنیا نے دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی ناتجربہ کار ہاتھی اس پورے جھنڈ کو لے کر نکل پڑا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہاتھی اب نیا علاقہ ڈھونڈ رہے ہیں۔
ایشیا میں ہاتھی ناپید ہو رہے ہیں اور ان کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ چین میں 300 کے قریب جنگلی ہاتھی ہیں جن کی اکثریت یونان کے صوبے میں ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے اس سے پہلے ہاتھیوں نے کبھی اتنا طویل سفر طے نہیں کیا ہے۔










