سیکس کے لیے رضامندی ریکارڈ کرنے والی ایپ تجویز کرنے پر آسٹریلوی پولیس کمشنر پر کڑی تنقید

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا کے ایک پولیس کمشنر پر سخت تنقید کی جا رہی ہے جنھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ جنسی تعلقات کی باہمی اجازت کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک موبائل ایپ متعارف کروائی جائے۔
جمعرات کے روز نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے کمشنر مک فلر نے یہ خیال پیش کیا تھا کہ ایک ایپ بنائی جائے جس میں لوگ ایک دوسری سے سیکس کے اپنی باہمی رضامندی رکارڈ کروا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی کی رضامندی یا ’ہاں‘ کو ریکارڈ کے طور پر رکھا جا سکتا ہے۔
تاہم بہت سے لوگوں سے اس تجویز کو قلیل مدتی سوچ پر مبنی قرار دیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کا ممکنہ طور پر غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ یہ ایپ ریاستی نگرانی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ چند ہفتوں میں آسٹریلیا میں جنسی ہراسانی اور تشدد کے معاملے پر خوب بحث ہو رہی ہے اور پیر کے روز ہزاروں افراد نے اس حوالے سے منعقد ہونے والے مظاہروں میں بھی شرکت کی ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کا کہنا ہے کہ اس ایپ کو متعارف کروانے کی تجویز کا مقصد یہ تھا کہ واضح رضامندی حاصل کرنے کے عمل کو عام کیا جاسکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا تھا کہ جنسی تشدد کے کیسز میں عدالت کے سامنے واضح رضامندی ثابت کرنے کی ضرورت ایک مستقل مسئلہ ہے اور اس ایپ کی مدد سے متاثرین کے لیے بہتر قانونی نتائج حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجویز نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت کو پیش کی گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ سال جنسی تشدد کے 15 ہزار کیسز میں سے صرف 10 فیصد میں فردِ جرم عائد کی جا سکی۔
تاہم خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس ایپ کے استعمال میں بہت سے عملی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق رضا مندی کا ریکارڈ اس وقت غیر موثر ہو جاتا ہے اگر کوئی اپنا ذہن بدل لے یا رضامندی منسوخ کر دے یا جعلی ریکارڈ پیش کیا جائے۔
نیو ساؤتھ ویلز میں گھریلو تشدد کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے ویمنز سیفٹی کا کہنا ہے کہ ‘مجرم اپنے کسی متاثرہ شخص کو ایپ میں رضا مندی ظاہر کرنے پر مجبور بھی کر سکتا ہے۔‘
خواتین قانون سازوں کا کہنا تھا کہ یہ ایپ جنسی تشدد کے حوالے سے آگاہی بڑھانے اور قانون سازی کے مقابلے میں ناکاقی کوشش ہے۔
گرینز پارٹی کی قانون دان جینی لونگ نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’ہمیں رضا مندی کے قوانین کی اصلاح کرنی ہے۔ ہمیں مردوں کا یہ خیال دور کرنا ہوگا کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ ہمیں ایپ کی ضرورت نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
حال ہی میں اسی طرز کی ایک ایپ ڈنمارک کی ایک نجی کمپنی نے متعارف کروائی تھی تاہم ملک میں پریس اور عوام کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی گئی۔
حالیہ دنوں میں آسٹریلیا میں جنسی ہراسانی کے متعدد الزامات منظر عام پر آئے ہیں جن کا مرکز آسٹریلوی پارلیمان اور سکولز اور دفاتر ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز میں سکول کی لڑکیوں کی جانب سے ایک مہم بھی چلائی جا رہی ہے جس میں جنسی رضا مندی کے حوالے سے نصاب میں جدت لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ہزاروں لڑکیوں نے اپنے سکول کے دنوں میں جنسی ہراسانی کے واقعات کی تفصیلات بتائی ہیں، جن میں کئی کا کہنا ہے کہ انھیں یہ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ جو ان کے ساتھ ہوا، کیا وہ ریپ کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔










