سیکس ایجوکیشن: آپ کی جنسی زندگی کو بہتر بنانے کا وعدہ کرنے والی چند ایپس

’فرلی‘ نامی ایک ایپ کی بنیاد بلی کوئنلین اور ڈاکٹر اینا ہشلک نے رکھی

،تصویر کا ذریعہFERLY

،تصویر کا کیپشن’فرلی‘ نامی ایک ایپ کی بنیاد بلی کوئنلین اور ڈاکٹر اینا ہشلک نے رکھی
    • مصنف, سوزین بیرنی
    • عہدہ, ٹیکنالوجی، بزنس رپورٹر

نوٹ: اس تحریر میں سیکس اور جنسی تعلقات سے متعلق مسائل کا ذکر کیا گیا ہے

جب 27 سالہ سچن راؤل کی اپنے ساتھی سے تین سال قبل علیحدگی ہوئی تو انھیں ایک ایسے جنسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا جس سے انھیں خاصی ’پریشانی‘ ہوئی۔

ان کے مطابق ’یہ میرے لیے انتہائی مایوس کُن تھا کہ مجھے میرے جسم پر اختیار نہیں ہے۔ میں چاہتا تھا کہ میرا جسم ایک مخصوص طریقے سے پرفارم کرے، لیکن ایسا بہت مشکل تھا۔‘

راؤل نے اس حوالے سے تھیراپی کے ذریعے مدد بھی حاصل کی لیکن انھیں ایک سیشن کے لیے 100 پاؤنڈ ادا کرنے پڑے، جو ان کی جیب پر بہت بھاری تھے۔

تاہم اس مسئلے نے ان کے اندر کے کاروباری شخص کو تھیراپی کو قابلِ رسائی بنانے پر مائل کیا اور انھوں نے ڈاکٹر کیتھرین ہیرٹلین کے ساتھ مل کر ’بلو ہارٹ‘ نامی مفت ایپ کی بنیاد رکھ دی۔ اس ایپ کے ذریعے جنسی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد اور جوڑوں کو تھیراپی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

اس ایپ میں ٹیکسٹ اور آڈیو پیغامات کی مدد سے دیے جانے والے سیشنز بھی موجود ہیں، جن میں اپنے جسم کے ساتھ ایک مثبت رشتہ استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

راؤل جو لندن میں مقیم ہیں بتاتے ہیں کہ ’ہم جنسی مسائل کے ساتھ جڑے منفی معاشرتی رویے کا خاتمہ چاہتے ہیں اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ فراہم کر رہے ہیں جہاں انھیں اپنے مسائل کا حل نکالنے کا موقع مل رہا تھا۔‘

’تین سال قبل میں بلوہارٹ جیسی ایپ کے بارے میں سوچ ہی سکتا تھا۔ اُس وقت میں کسی بھی ایسی جگہ کو آزمانے کے لیے تیار تھا۔‘

عضو تناسل سے منسلک مسائل ہوں یا تولیدی صلاحیت میں کمی، اکثر افراد اپنی جنسی کارکردگی سے ناخوش ہوتے ہیں۔ سنہ 2017 میں ریلیٹ نامی ادارے کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں 34 فیصد ادھیڑ عمر افراد اپنی جنسی زندگی سے خوش نہیں تھے، جبکہ 32 فیصد کو جنسی مسائل لاحق تھے۔

مردوں میں ’ایریکٹائل ڈسفنکشن‘ یا ایستادگی کی قوت سے محرومی ایک بڑا مسئلہ ہے، تحقیق کے مطابق سنہ 2025 تک برطانیہ میں 32 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ مرد ایستادگی کی قوت سے محروم ہو جائیں گے۔

اگرچہ انٹرنیٹ پر ذہنی صحت اور ورزش سے متعلق ایپس کی فراوانی تو ضرور دیکھنے کو ملتی ہے لیکن متعدد افراد کے اپنی جنسی زندگی سے ناخوش ہونے کے باوجود جنسی صحت کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

لور

،تصویر کا ذریعہLOVER

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر برٹنی بلیئر جنھوں نے ’لور‘ نامی ایپ کی بنیاد رکھی

گذشتہ برس نفسیاتی امراض کی ماہر برٹنی بلیئر نے جنسی صحت سے متعلق ’لور‘ نامی ایپ کی بنیاد بھی رکھی۔ اس ایپ سے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سائنس کے ذریعے جنسی مسائل کا حل ڈھونڈتی ہے جس سے جنسی لذت میں اضافہ ہوتا ہے اور بیڈروم میں کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

یہ ایپ تمام ایسے مسائل سے نمٹتی ہے اور ان کے بارے میں ورزش بھی بتاتی ہے جیسے آرگیزم یعنی ہیجان شہوت سے متعلق ورزش، مائنڈفلنیس اور آڈیو اور ویڈیو مواد کے ذریعے کچھ کھیل بھی۔

اس ایپ میں ایک پروگرام صرف حالت استادگی کو بہتر بنانے سے متعلق ہوتا ہے جس میں 23 روز میں مختلف ورزشوں اور تکنیک کے ذریعے اس میں بہتری لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کمپنی کو معلوم ہوا کہ ان 600 افراد جنھوں نے اس آزمائش میں حصہ لیا ان میں سے 62 فیصد نے استادگی میں بہتری کی خبر دی۔ سین فرانسسکو میں اپنے کلینک کے ذریعے ڈاکٹر بلیئر اپنے مریضوں کے جنسی مسائل جیسے ہیجان شہوت تک نہ پہنچ پانا، سیکس کے دوران تکلیف محسوس کرنا، استادگی سے محرومی اور جنسی کمزوری جیسے مسائل کا علاج کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’تھیراپی کے ذریعے لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ جنسی صحت بہت اہم ہے اور میں نے اپنے کام کےذریعے رشتوں اور زندگیوں کو تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ اب ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیجیٹل فورم پر بھی یہ کام کر رہے ہیں۔‘

ٹیکنالوجی کی مدد سے اب ان کی پہنچ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ہے۔ ’ہمارا وسیع تر منصوبہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کی جنسی زندگیوں کو بہتر بنا کر ان کی مدد کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ سیکس ان کی زندگی کا حصہ رہے۔ سیکس سے دوری بھی جوڑوں کے مابین علیحدگی کی بڑی وجہ ہوتی ہے۔‘

لور ایک فری ایپ ہے لیکن اس کے لیے آپ ایک مخصوص ماہانہ یا سالانہ سبسکرپشن بھی ادا کر سکتے ہیں جس سے آپ کو اضافی اور پریمیئم مواد ملتا ہے۔

سچن راؤل

،تصویر کا ذریعہSAM STRICKLAND

،تصویر کا کیپشنسچن راؤل

گذشتہ برس اسی سلسلے میں ’فرلی‘ نامی ایک ایپ کی بنیاد بلی کوئنلین اور ڈاکٹر اینا ہشلک نے رکھی جس میں آڈیو کے ذریعے مائنڈفل سیکس کرنے سے متعلق مدد دی جاتی ہے۔ ایپ میں شہوت انگیز آڈیو کہانیوں، ورزش اور انفرادی پروگرامز کے ذریعے خواتین کو لذت حاصل کرنے اور جنسی مسئال کا حل تلاش کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔

کوئنلین کے مطابق اس ایپ کے بانی چاہتے تھے کہ وہ ایک ایسے موضوع کے بارے میں ایپ بنائیں جن میں ایک ’معاشرتی اعتبار سے متنازع مسئلے‘ کا حل نکالا جائے۔ ’یہ سیکس ٹوائز کے استعمال کی بات نہیں ہے۔ بلکہ جنسی صحت میں بہتری کی بات ہے۔ جنسی صحت انسان کی صحت کا ایک اہم ستون ہے جسے تب تک نظرانداز کیا جاتا ہے جب تک مسئلہ بڑھ نہ جائے۔‘

اس ایپ میں صارفین کو مختلف سیکس پروگرامز سے گزارا جاتا ہے جن میں اپنے جسم سے متعلق سوچ اور خود اعتمادی، تولیدی صلاحیت میں کمی اور ہیجان شہوت سے معذوری کے بارے میں بات کی جاتی ہے۔

کوئنلین بتاتی ہیں کہ ’ہم ایک ایسی سائیکو تھیراپی استعمال کرتے ہیں جس میں لوگوں کو اپنے خیالات اور جذبات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے تاکہ وہ تکلیف سے نجات حاصل کر سکیں۔ اکثر جنسی مسائل اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی جسمانی رکاوٹ موجود ہوتی ہے۔ آپ فارم کے ذریعے ہی سب کچھ نہیں کر سکتے، اس کے لیے آپ کو متعدد چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔‘

لور کی طرح ’فرلی‘ بھی مفت ہے لیکن پریمیئم مواد کے لیے سبسکرائب کرنا ہوتا ہے۔

ایڈنبرا میں مقیم ایک صارف کے مطابق انھیں اس ایپ کے بارے میں اُن کی بہن نے بتایا۔ ’نوعمری میں مجھے جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور میرا خواتین کی جنسی لذت سے متعلق کوئی خاص اچھا تجربہ نہیں رہا۔ مجھے یہ متعدد وجوہات کی بنا پر خاصا پریشان کن اور تھکا دینے والا عمل لگتا تھا۔‘

بلو ہارٹ

،تصویر کا ذریعہBLUEHEART

انھوں نے اس ایپ کا بھی استعمال کیا اور ساتھ ہی تھیراپی بھی کروائی۔

’تھیراپی کے دوران میں جھجھک محسوس کرتی تھی لیکن ایپ کے ذریعے مجھے ایک ایسی جگہ مل گئی جہاں میں اپنے بارے سوچ بھی سکتی تھی۔ اس کے باعث مجھے متعدد جذبات کے بارے میں علم ہوا اور یہ میری تندرستی کے لیے بھی انتہائی اہم تھا۔ اس کے ذریعے مجھے اس حوالے سے بہتر محسوس ہوا کہ اپنے ساتھی سے کیا مطالبہ کر سکتی ہوں۔ اس سے مجھے مزید اعتماد حاصل ہوا۔‘

متعدد ذہنی مسائل اور ورزش سے متعلق ایپس کی طرح ان سٹارٹ اپس کی جانب سے بھی لاک ڈاؤن کے دوران صارفین میں اضافے کی خبر دی گئی۔ کوئنلین نے کہا کہ ’اس سے پتا چلتا ہے کہ لوگوں نے اپنی صحت کے حوالے سے اس دوران سوچا اور یہ سمجھا کہ ہماری جنسی صحت بھی اہم ہے۔‘

بلوہارٹ کے سچن راؤل بھی کووڈ 19 کے اس مثبت اثر سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’لاک ڈاؤن کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئی اور لوگ اپنی ذہنی صحت کا بہتر انداز میں خیال رکھنے لگے۔‘

سلوا نیوس ایک سائیکوسیکشوئل اور سائیکو تھیراپسٹ پیں اور وہ جوڑوں کی تھیراپی بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے حق میں ہیں اور وہ اس طرح کی ایپس کے متعدد فوائد بھی ہیں خاص طور پر ان کے لیے جو تھیراپی کے لیے پیسے خرچ نہیں کر سکتے۔ تاہم وہ لوگوں سے ان ایپس کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے تحقیق کرنے کا بھی کہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ پلیٹ فارمز دوسروں سے بہتر ہوتے ہیں۔ صرف گوگل پر جا کر ہی اس بارے میں تحقیق نہ کریں۔ بہتر یہ ہے کہ آپ کو اس بارے میں کوئی دوسرا شخص بھی بتائے۔ آپ کو ایسی ایپس بھی ملیں گی جو ابھی مارکیٹ میں آئی ہیں اور یہ خراب سروس آفر کرتی ہیں۔ ان ایپس کے پیچھے موجود لوگوں کے نام اور ان کے تجربے کے بارے میں تحقیق کریں۔ یہ ایسے لوگ ہونے چاہییں جو سیکسولوجی (جنسیات) کے ماہر ہوں اور انھوں نے ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہو۔‘

سوال یہ ہے کہ کیا اس سیکٹر میں ٹیکنالوجی کی آمد سے یہ ایپس بطور سیکس تھیراپسٹ انسانوں کا متبادل ثابت ہو سکیں گی؟

راؤل کے مطابق ’ابھی اس شعبے میں دونوں کی جگہ موجود ہے۔ لوگوں کی مختلف ترجیحات ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ بہت شرمیلے ہوتے ہیں اور وہ اس بارے کسی شخص سے بات نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ ہر کسی میں سیکس تھیراپی کے لیے پیسے بھرنے کی سکت نہیں ہوتی۔‘

لور ایپ کی شریک بانی ڈاکٹر برٹنی بلیئر کا مزید کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی اپنے آفس میں مریضوں کے ساتھ کام کرنے کی جگہ ہمیشہ سے رہے گی۔ ’ہم ایسی ایپ نہیں بنا سکتے جس کے ذریعے دفتر میں بات کرنے کے مترادف ہو۔ ہم ایسا نہیں چاہ رہے۔‘

’لوگ نیند اور ذہنی صحت کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن کوئی سیکس کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ تقریباً 20 فیصد لوگ جنھیں جنسی مسائل کا سامنا ہے انھیں واقعی سیکس تھیراپسٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر ہم ایپس کے ذریعے 80 فیصد کی مدد کر سکتے ہیں تو ہم ضرور کریں گے۔‘