کیا ایلون مسک کی ’سٹار شِپ‘ خلائی سفر میں ’انقلاب‘ برپا کر سکتی ہے؟

Starship prototype in Boca Chica

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسپیس ایکس امریکی ریاست ٹیکساس میں اپنے سٹارشپ کا پرٹوٹائپ تیار کرتا رہا ہے
    • مصنف, پال رنکان
    • عہدہ, سائنس ایڈیٹر بی بی سی نیوز ویب سائٹ

ایلون مسک بہت جلد ایک ایسے طیارے کا پروٹوٹائپ متعارف کروانے جا رہے ہیں جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ خلائی سفر کی شکل بدل کر رکھ دے گا۔

'سٹار شِپ‘ نامی یہ ایک ایسا خلائی طیارہ ہوگا جسے دوبارہ استعمال کیا جا سکے گا اور یہ 100 افراد کو سرخ سیارے یعنی مریخ تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔

ایلون مسک کی خلائی سفر کی نجی کمپنی سپیس ایکس کا مقصد ہی زندگی کو دیگر سیاروں پر آباد کرنا ہے۔

اس کی ایک وجہ زمین کے وجود کو درپیش خطرات ہیں جیسے کہ کسی ایسے ایسٹیرائیڈ کی زمین سے ٹکر جس سے انسانی نسل ختم ہو جائے۔ ایسی صورت میں دیگر سیاروں پر انسانی بستیاں انسانی نسل کی بقا میں کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔

سنہ 2016 میں میکسیکو میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ایلون مسک نے اس بارے میں اپنی سوچ کی وضاحت یوں کی: ’تاریخ دو میں سے ایک سمت میں جانے والی ہے۔ ایک راستہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ کے لیے زمین پر ہی رہیں اور ایسی صورت میں یقیناً کبھی نہ کبھی ایسا کوئی واقعہ رونما ہو گا جس سے انسانی نسل ناپید ہو جائے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے مزید کہا کہ ’یا پھر ہم خلائی سفر کرنے والی ایک ایسی تہذیب بن جائیں جو کئی سیاروں پر اپنا گھر بنا سکے، مجھے امید ہے کہ آپ بھی اس بات سے متفق ہوں گے کہ صحیح راستہ یہی ہے۔‘

ایلون مسک نے کئی بار مریخ پر شہر آباد کرنے کے اپنے خواب کا ذکر کیا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ ان آبادیوں کے پائیدار اور خود کفیل ہونے کے لیے انسانوں کا بڑی تعداد میں وہاں ہونا لازمی ہے۔

Starship at stage separation

،تصویر کا ذریعہSpaceX

،تصویر کا کیپشنسپر ہیوی سے علیحدہ ہونے کے بعد سٹارشپ کی ایک شکل

اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ایک ایسا طیارہ درکار ہے جو یہ کام کر سکے۔ سٹارشِپ ایک راکٹ اور خلائی طیارے کا امتزاج ہے جو ایک وقت میں سو سے زیادہ افراد کو مریخ تک پہنچا سکے گا۔

اس کا نظام ایسے بنایا گیا ہے کہ اسے پوری طرح سے دوبارہ استعمال کیا جا سکے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو اس کے مرکزی جزو ہیں وہ سمندر میں یا خلا میں ضائع نہیں ہونے دیے جاتے جیسا کہ کچھ دیگر لانچ سسٹمز کے ساتھ ہوتا ہے۔

انھیں خلا سے واپس بر آمد کیا جاتا ہے یعنی انھیں ایک بار استعمال کے بعد مرمت کر کے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے پروجیکٹ پر آنے والا خرچہ کم ہو جائے گا۔

سٹارشِپ: ایک جائزہ

اس کے راکٹ والے حصے کا نام ’سپر ہیوی‘ ہے جبکہ اس کے خلائی گاڑی والے حصے کو سٹارشِپ کا نام دیا گیا ہے۔ سب ملا کر یہ 120 میٹر اونچا ہے اور اسے مجموعی طور پر بھی سٹارشِپ ہی بلایا جاتا ہے۔

چلیں پہلے خلائی گاڑی یا طیارے کی بات کرتے ہیں۔

سٹین لیس سٹیل سے بنے اس طیارے کے نوزکون یا نوکیلے منہ اور لینڈنگ فنز یا پنکھوں کو دیکھیں تو سائنس فِکشن کے سنہرے دور کے راکٹ شِپس ذہن میں آتے ہیں۔

50 میٹر لمبے اس کرافٹ میں، جسے ’اپر سٹیج‘ بھی کہا جاتا ہے، آگے کی طرف ایک بہت بڑا ڈبا ہے جو بہت بڑے کارگو یا انسانوں کو خلا کی گہرائیوں تک پہنچا سکے گا۔

طیارے کے درمیانی حصے میں ایندھن والے ٹینک ہیں۔

ان کے ذریعے مائع میتھین اور آکسیجن کو طیارے کے پچھلے حصے میں موجود چھ ریپٹر انجنز تک پہنچایا جاتا ہے۔

دراصل میتھین ایندھن ہے اور آکسیجن آکسیڈائیزر کا کام کرتا ہے، یعنی وہ عنصر جو ایندھن کو جلانے میں مدد کرے۔

اس مجموعے کو میتھالوکس کہا جاتا ہے۔

یہ راکٹ انجن کے لیے ایندھن کا ایک غیر متوقع انتخاب ہے لیکن میتھین کافی طاقتور ایندھن ہے۔ اس کا انتخاب مریخ کے لیے ایلون مسک کے ارادوں کی نظر میں اور بھی دانشمندانہ ہو جاتا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ میتھین کو ’ساباٹئیر‘ نامی ایک کیمیائی عمل کے ذریعے مریخ کی سطح کے نیچے موجود پانی اور وہاں کی ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ذریعے بنایا جا سکے گا۔

سپیس ایکس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ایک نہایت ہی مؤثر ریپٹر انجن بنانے میں صرف کیا ہے۔ اس میں ایندھن مرحلہ وار طریقے سے استعمال ہوتا ہے اور انجن کا ڈیزائن ایسا ہے کہ کم سے کم ایندھن ضائع ہو۔

Mars settlement

،تصویر کا ذریعہSpaceX

،تصویر کا کیپشنایلن مسلک مریخ پر شہر بسانے کی بات کرتے رہے ہیں

مریخ سے واپسی کے سفر کے لیے مریخ پر ہی دستیاب وسائل کے استعمال سے اس پر آنے والا خرچہ کافی کم ہو سکتا، جس سے اس طرح کے سفر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

آئیں اب راکٹ کی طرف واپس چلیں۔

70 میٹر لمبا ’سپر ہیوی‘ 3,400 ٹن برفیلے میتھالوکس سے بھرا ہوگا۔ اس پر تقریباً 28 (یہ تعداد کئی بار بدل چکی ہے) ریپٹر انجن نصب ہوں گے، جن کے ذریعے ایک کروڑ 60 لاکھ پاؤنڈ وزن کے برابر ’تھرسٹ‘ حاصل کی جا سکے گی۔

یہ کم سے کم 100 ٹن وزن اور ممکنہ طور پر ڈیڑھ سو ٹن، کو زمین کے نچلے مدار تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یعنی ’سپر ہیوی‘ اس دیو ہیکل ’سیٹرن وی لانچر‘ سے کہیں زیادہ طاقتور ہو گا جس کا استعمال 1960 اور 1970 کی دہائی میں چاند پر جانے والے اپالو مشنز کے لیے کیا گیا تھا۔

لانچ اور ایندھن

لانچ پیڈ سے پرواز بھرتے ہی سٹارشپ سسٹم اپنے طے شدہ مدار کی طرف جھکنے لگے گا۔

جب اپر سٹیج خلا میں پہنچنے کے بعد سٹارشپ سے علیحدہ ہو جائے گا تو سوپر ہیوی پلٹ کر دوبارہ زمین کی طرف گرنے لگے گا۔ زمین کی طرف گرتے ہوئے سوپر ہیوی کے سٹیل سے بنے ’گرڈ فنز‘ یا پنکھ بوسٹر کے اطراف سے باہر آئیں گے، جو دیکھنے میں کچھ کچھ آلو کے وافلز جیسے لگتے ہیں۔

ان کی مدد سے راکٹ کو لانچ پیڈ کی طرف واپس لایا جائے گا تاکہ اسے دوبارہ استعمال جا سکے۔

اس سے پہلے سپیس ایکس کا منصوبہ یہ تھا کہ سپر ہیوی کے ریپٹر انجنز کے ذریعے اسے سٹیل کی بنی چھ ٹانگوں پر لینڈ کرایا جائے گا۔

سپیس ایکس ایسا ہی کچھ اپنے فیلکن 9 راکیٹس کے ساتھ کرتا ہے، جنھیں لانچ کے بعد لینڈنگ پیڈز اور ڈرون شپس پر بحفاظت اتارا جاتا ہے۔

تاہم ایلون مسک نے حال ہی میں ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ سوچ اب بدل گئی ہے۔

سپیکس ایکس کا منصوبہ اب یہ ہے کہ وہ گرتے ہوئے بوسٹر کو لانچ ٹاور پر نصب ایک بازو سے پکڑے گا۔

یہ ’کیچ میکانزم‘ کام کیسے کرے گا یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

Raptor engines

،تصویر کا ذریعہSpaceX

،تصویر کا کیپشنسٹارشپ میں ریپٹر انجن استعمال کیے جائیں گے

سنہ 2017 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایلون مسک نے بتایا کہ ’اگر آپ سٹارشپ کو مدار تک پہنچائیں اور اس میں دوبارہ ایندھن نہ بھریں، تو یہ بہت اچھا ہے۔

آپ 150 ٹن تک کے وزن کو زمین کے نچلے مدار تک پہنچا سکتے ہیں لیکن آپ اس سے آگے اور کہیں نہیں جا سکتے۔

اگر آپ ایندھن سے بھرے ٹینکر اوپر بھیج دیں اور مدار میں دوبارہ ایندھن بھریں تو آپ 150 ٹن کو مریخ تک پہنچا سکتے ہیں۔

ایسا کرنے کے لیے خلائی طیارہ ایک پہلے سے مدار میں موجود دوسرے سٹار شپ کے ساتھ جڑ کر ایک ایندھن کے ڈپو کا کردار ادا کرے گا۔

سٹارشپ کو کس چیز کے لیے استعمال کیا جائے گا؟

مریخ تک کے سفر جس میں نو ماہ تک لگ سکتے ہیں اور وہاں سے واپسی کے لیے، اس سفر کے لیے ایلون مسک اپر سٹیج کے قریب 40 کیبنز نصب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایلون مسک نے کہا ہے کہ ’اگر آپ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان میں بھرنا چاہیں تو ایک کیبن میں پانچ سے چھ افراد کو بٹھایا جا سکتا ہے لیکن میرے خیال میں یہ ہوگا کہ ایک کیبن میں دو یا تین لوگ ہوں گے یعنی ایک فلائیٹ میں تقریبا ایک سو افراد۔۔‘

اس میں مشترکہ حصے بھی ہوں گے، سامان رکھنے کی جگہ، اور شمسی طوفانوں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ حصہ بھی۔

سٹارشپ ممکنہ طور پر ناسا کے آرٹمس پروگرام میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے، جس کا مقصد چاند پر دیر پا انسانی موجودگی کو ممکن بنانا ہے۔

سنہ 2020 میں ناسا نے سپیس ایکس کو سٹارشپ کے لیے 135 ملین ڈالر دیے تاکہ اسے چاند پر عملہ پہنچانے کے لیے تیار کیا جا سکے۔

سٹارشپ کا ایک ورژن ایسا بھی ہے جس میں عملے کی ضرورت نہیں۔

اس طیارے کا مرکزی حصہ ایک مگرمچھ کے منہ کی طرح کھلتا ہے۔ اس کا استعمال مصنوعی سیاروں کو لانچ کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

سپیس ایکس کا کہنا ہے کہ 150 ٹن تک کا وزن اٹھانے کی صلاحیت کا مطلب ہے کہ اسے کئی طرح کے نئے روبوٹک سائنس مشنز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ جیمز ویب آبزرویٹری سے بڑی ٹیلی سکوپس کے لیے۔

اس کا استعمال نہایت تیز رفتار زمینی سفر کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب سٹارشپ لوگوں کو نظام شمسی کے دیگر سیاروں تک بھی پہنچا سکے گا۔ لیکن اس میں ابھی خاصا وقت ہے۔

Rockets line-ups

سٹارشپ پرواز کب بھرے گا؟

پچھلے کچھ سالوں میں سپیس ایکس نے امریکی ریاست ٹیکساس میں کئی پروٹوٹائپ ٹیسٹ کیے ہیں۔

ان میں سے پہلا ’سٹار ہاپر‘ نامی ایک 39 میٹر لمبا ’ٹیسٹ آرٹیکل‘ تھا جو دیکھنے میں پانی کے ٹاور جیسا لگتا تھا۔ تب سے سپیس ایکس کے پروٹوٹائپس کافی پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

دسمبر 2020 میں سپیس ایکس نے ایس این 8 (سٹارشپ نمبر 8) نامی ٹیسٹ آرٹیکل لانچ کیا ۔

یہ نوکیلے منہ اور پنکھوں والا پہلا پروٹوٹائپ تھا۔

زمین سے 12.5 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچنے کے بعد ایس این 8 پیٹ کے بل زمین پر واپس آ گرا، جس سے سپیس ایکس کو سٹارشپ کی واپسی کے بارے میں قیمتی ڈیٹا حاصل ہوا۔

باقی سب کچھ بالکل حسب توقع تھا لیکن طیارہ لینڈنگ پیڈ کی طرف ضرورت سے ذرا زیادہ رفتار سے پہنچا جس کی وجہ سے وہ پھٹ کر تباہ ہو گیا۔

سپیس ایکس اب ایس این 9 کو لانچ پیڈ تک پہنچا چکا ہے اور اس بار لینڈنگ کو صحیح کرنا چاہتا ہے۔

اکتوبر 2020 میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ سپیس ایکس کا مقصد 2024 میں بنا عملے کے سٹارشپ کو مریخ کے سفر کے لیے لانچ کرنا ہے۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ایلون مسک کئی بار وقت کا غلط اندازہ لگا لیتے ہیں لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے بھی جانے جانتے ہیں، بھلے ہی وہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔