آسٹریلیا: ماہی گیروں نے مگرمچھوں سے بھری دلدل سے برہنہ شخص کو بچا لیا

شمالی آسٹریلیا میں مگرمچھوں سے بھری دلدل سے دو ماہی گیروں نے ایک برہنہ شخص کو بچایا ہے۔

یہ شخص پولیس سے مفرور تھا۔

اتوار کو ڈارون نامی شہر کے قریب ’ایسٹ پوائنٹ‘ کے علاقے میں کیو جوائنر اور کیم فاؤسٹ نامی ماہی گیروں نے اتفاق سے اس شخص کو دیکھ لیا۔

دونوں دوست جب اس علاقے میں کیکڑے پکڑنے کے لیے جال لگا رہے تھے تو انھوں نے اس شخص کو مدد کے لیے چیختے ہوئے سنا۔ وہ شخص مینگرووز کے درخت کی شاخوں سے لپٹا ہوا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جب وہ دونوں اس شخص کے پاس پہنچے تو وہ ان سے پانی مانگ رہا تھا اور اس نے بتایا کہ وہ وہاں چار دنوں سے پھنسا ہوا ہے اور گھونگھے کھا کر زندہ ہے۔

آسٹریلوی ٹی وی نیٹ ورک 9 نیوز نے بتایا کہ 40 سالہ شخص مبینہ طور پر مسلح ڈکیتی کے کیس میں ضمانت کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

فاؤسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہم نے پہلے تو اس پر یقین نہیں کیا۔ پھر ہم نے محسوس کیا کہ وہ بری حالت میں ہے تو یہ اچھا ہوگا کہ ہم اس کی مدد کر دیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

فاؤسٹ نے بتایا کہ اس شخص نے انھیں بتایا کہ وہ نئے سال کے موقع پر ایک کنسرٹ میں گیا تھا اور انھوں نے مزید کہا کہ 'ہم نے سوچا کہ اس رات اس نے خوب پارٹی کی ہوگی۔'

ان دونوں ماہی گیروں نے اس شخص کو اپنی کشتی میں بٹھا لیا جبکہ فاؤسٹ نے اسے اپنے شارٹس دیے تاکہ وہ اپنے جسم کو ڈھک لے۔

جوائنر نے 9 نیوز کو بتایا 'اس کے پورے جسم پر خراشیں تھیں۔ اس کے جسم پر ہر جگہ مچھر کے کاٹنے کے نشانات موجود تھے۔ اور اس کے چہرے اور سینے پر کیچڑ لگا ہوا تھا۔'

ان دوستوں نے بتایا کہ وہ شخص خوش قسمت تھا کہ انھوں نے اسے دیکھ لیا، کیونکہ ایسٹ پوائنٹ میں مینگرووز کے علاقے میں اس طرح رہنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

آسٹریلیا کے شمالی علاقہ جات میں ڈارون کے آس پاس موجود دلدلوں میں مگرمچھ بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

ساحل پر پہنچنے کے بعد ماہی گیروں نے اس شخص کے ساتھ ایک بیئر شیئر کی اور ایمبولینس طلب کی۔ اس کے بعد ایمبولینس انھیں لینے آئی۔

پولیس نے آسٹریلین میڈیا کو بتایا کہ یہ شخص مفرور تھا جو کچھ دن قبل ہی حراست سے فرار ہوا تھا۔

اسے حراست میں لے لیا گیا ہے اور وہ رائل ڈارون ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

فاؤسٹ نے 9 نیوز کو بتایا 'وہ ہسپتال میں ہے۔ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔'