آسٹریلیا میں سیلاب: حکام نے 20 ہزار سے زائد گھروں کے زیرِ آب آنے کا خدشہ ظاہر کر دیا

آسٹریلیا میں ٹاؤنزوِل کے حکام نے علاقہ مکینوں کو سیلابی پانی میں مگرمچھوں اور سانپوں کی موجودگی سے خبردار کیا ہے۔

'صدی میں ایک بار آنے والے' اس سیلاب کے نتیجے میں متاثرہ قصبے سے 1100 سے زائد افراد کو نکالا جا چکا ہے۔

اتوار کو حکام نے ایک ڈیم کے بند کھول دیے جو کہ ایک ہفتے پر محیط ریکارڈ بارشوں کی وجہ سے اپنی گنجائش سے دوگنا بھر گیا تھا۔

حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید تیز بارشیں متوقع ہیں جبکہ 20 ہزار سے زائد گھروں کے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امدادی کارکنوں اور فوج کا کہنا ہے کہ انھیں ایک ہزار سے زائد مدد کے منتظر افراد کی کالز آئی ہیں۔

کوئنزلینڈ کے وزیرِ ماحولیات لیانی اینوچ کا کہنا ہے کہ 'مگرمچھ سڑک عبور کرتے ہوئے نظر آ سکتے ہیں اور جب سیلاب کم ہو گا تو یہ غیر متوقع جگہوں جیسا کہ زیرِ کاشت رقبوں، ڈیموں یا پانی کے گڑھوں میں بھی آ سکتے ہیں۔'

ان کے مطابق 'اسی طرح سانپ بہت اچھے تیراک ہوتے ہیں اور وہ بھی غیر متوقع جگہوں پر اچانک ظاہر ہو سکتے ہیں۔'

ایک مقامی شخص ایرن ہان نے ایک مگرمچھ کی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں وہ ان کے والد کے گھر کے صحن میں موجود کم گہرے پانی میں بیٹھا ہے۔

ایک اور مگرمچھ کی سیلابی پانی میں ایک درخت پر چڑھتے ہوئے تصاویر لی گئی تھیں۔

مقامی پولیس نے بھی لوگوں کو سیلابی پانی میں موجود دوسرے خطرات جیسا کہ گٹروں کے پانی کے رساؤ سے بھی متنبہ کیا ہے۔

گذشتۃ ہفتے ٹاؤنز ول میں ایک میٹر (یا 3.3 فٹ) بارش ہوئی جو کہ سال کے اس دورانیے میں ہونے والی بارشوں سے 20 گنا زیادہ ہے۔

کوئنزلینڈ کی وزیرِاعلیٰ اینسٹاکیا پیلا شے کہتی ہیں کہ 'ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، ہم نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔'

انھوں نے کہا: 'بنیادی طور پر یہ صرف دو دہائیوں میں نہیں بلکہ ایک صدی میں صرف ایک دفعہ رونما ہونے والا واقعہ ہے۔'

پانی کی سطح کم کرنے کے لیے اتوار کی شام حکام راس رِیور ڈیم کے بند کھولنے پر مجبور ہو گئے تھے جس سے 1900 مکعب میٹر پانی فی سیکنڈ خارج ہوا تھا۔

شمالی کوئنزلینڈ کی گرم مرطوب آب و ہوا ہے اور یہاں مون سون کی بارشیں دسمبر سے اپریل تک ہوتی ہیں۔ تاہم ٹاؤنزوِل میں موجودہ موسمی صورتحال انتہائی غیر معمولی ہے۔

آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کی بارشیں ریاست کے ان حصوں میں نہیں برسیں جو کہ سخت خشک سالی کا شکار ہیں۔

آسٹریلیا میں جنوری کا مہینہ سب سے گرم تھا۔ جنوبی شہر ایڈیلیڈ میں درجہ حرارت پہلے 47.7ٰٰ سیلسیس اور پھر 49.5 ریکارڈ ہوا جس سے اس شہر نے زیادہ درجہ حرارت کا اپنا ہی پرانا ریکارڈ ایک ماہ میں دو مرتبہ توڑا۔

گرمی کی وجہ سے جھاڑیوں میں آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ جزیرہ نما ریاست تسمانیا جو کہ گذشتہ دو ہفتوں سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے میں آتش زدگی کے ایسے 40 واقعات رونما ہوئے۔

شدید موسمی حالات کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخلے، بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ اور بڑے پیمانے پر جنگلی جانوروں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔