آسٹریلیا: چمگادڑ کے سینڈوچ والے اشتہار پر شکایات، نگران ادارہ تحقیقات کرے گا

ایڈ

،تصویر کا ذریعہBCF

آسٹریلیا کی اشتہاری صنعت کا نگراں ادارہ ایک ایسے اشتہار کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں ایک شخص کو چمگادڑ کا سینڈوچ کھاتے دکھایا گیا ہے۔

سیاحت کی صنعت سے وابستہ بوٹنگ کیمپنگ فشنگ سٹور نامی فرم کا یہ اشتہار یوٹیوب پر ڈھائی لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ اس میں ایک شخص اس بات کا مذاق اڑا رہا ہوتا ہے کہ کسی شخص کے چمگادڑ کھانے سے کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہے۔

اگرچہ کورونا وائرس کی ابتدا چین کے شہر ووہان کی ایک مویشی منڈی سے ہوئی تاہم ابھی تک اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا کہ یہ وائرس کیسے پیدا ہوا اور پھر اس کا پھیلاؤ کس طریقے سے ہوا۔

آسٹریلیا میں اشتہارات کے نگران ادارے ’ایڈورٹائزنگ سٹینڈرڈز بیورو‘ کو اس کمپنی کے اشتہار کے خلاف متعدد شکایات موصول ہوئیں۔ اس ادارے کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ شکایات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس سے کوئی مسئلہ تو نہیں پیدا ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

بی سی ایف کمپنی کے ایک ترجمان نے اس سے قبل مقامی میڈیا کو بتایا تھا کہ اس مہم کے دوران اس بات کو فروغ دیا گیا ہے کہ لوگ وبا کے دنوں میں ان گرمیوں میں زیادہ وقت گھر پر رہ کر ہی گزاریں اور وہ صرف اپنے علاقوں میں سیر تفریح کے مقامات کی کھوج لگائیں۔

ان کے مطابق ’یقیناً ہم اس وبا کی شدت کو سمجھتے ہیں اور اس کے پھیلاؤ سے بھی بخوبی آگاہ ہیں مگر یہ بات واضح ہے کہ یہ اشتہار اسی جذبے کے تحت بنایا گیا ہے‘۔

لمبے کانوں والی چمگادڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images/BBC

بی ایس ایف کا معاملہ آسٹریلیا میں اشتہارات کے ادارے کے لیے کوئی نیا نہیں ہے۔ اس ادارے کی فہرست کے مطابق اس کمپنی کے خلاف 2016 اور 2018 میں بھی شکایات موصول ہوئی تھیں۔

بی ایس ایف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’سالہا سال سے بی ایس ایف نے ایسے اچھے جذبے والی مہمات چلانے کی روایت ڈالی ہے۔ ان کے مطابق اس دوران اس معاملے کو کسی اور پہلو کی طرف لے جانے والے بھی سامنے آ جاتے ہیں اور ہمیں اس کا ادراک ہے۔‘

آسٹریلیاچین تعلقات میں سرد مہری

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں کے بعد گذشتہ سال آسٹریلیا اور چین کے تعلقات شدید سرد مہری کا شکار رہے۔

اس اشتہار سے ان تعلقات میں مزید سرد مہری کا اندیہ ملتا ہے۔

آسٹریلیا نے اپریل میں اس خیال کی جس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے عالمی سطح پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، حمایت کی تھی۔ اس پر ایک چینی سفارتکار نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ اس کا مقصد چین کو ہدف بنانا ہے۔

اس کے بعد سے آسٹریلیا کی درآمدات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ چین کے طلبا اور سیاحوں کو آسٹریلیا سفر کرنے کی صورت میں نسلی امتیاز جیسے خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔

نومبر میں چین نے آسٹریلیا کی وائن پر 212 فیصد ٹیکس عائد کیا۔ چین نے ساتھ یہ وضاحت بھی کہ یہ 'ڈمپنگ‘ (باہر سے سستی اشیا کو مقامی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرنا) کے خلاف عارضی نوعیت کے اقدامات ہیں، جن کے تحت رعایتی نرخوں پر آسٹریلین وائن کی درآمد کو روکنا ہے۔