مذبح خانے میں نوکری کا تجربہ: ’رات کو آنکھیں بند کرتی ہوں تو ہزاروں آنکھیں مجھے گھورتی ہیں‘

مذبح خانوں میں کام کرنے والے لوگوں کی زندگی کے بارے میں عام دنیا کو بہت کم معلومات حاصل ہیں۔ وہی ذبح خانہ جہاں گوشت کے لیے جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور وہی گوشت جسے ہم کھاتے ہیں۔
مذبح خانے یا سلاٹر ہاؤس میں کام کرنے والی ایک خاتون نے بی بی سی کو اپنے کام اور اس سے پیدا ہونے والے ذہنی اثرات کے بارے میں بتایا۔
انتباہ: یہ کہانی بعض قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہے۔

میں بچپن میں جانوروں کی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا کرتی تھی۔ میں یہ تصور کرتی تھی کہ میں کتے کے شرارتی بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہوں، بلی کے خوفزدہ بچوں کو پرسکون کر رہی ہوں اور مقامی فارم ہاؤسز میں بیمار جانوروں کی جانچ کر رہی ہوں۔
یہ ایسی خیالی اور مثالی زندگی تھی جس کے میں خواب دیکھا کرتی تھی۔ لیکن اصل زندگی ایسی نہیں ہو سکی اور مجھے ایک مذبح خانے میں کام کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے
میں نے وہاں چھ سال کام کیا جو جانوروں کی دیکھ بھال کرنے کے میرے خوابوں کے بالکل برعکس تھا۔ میرا کام روزانہ تقریباً ڈھائی سو جانوروں کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھنا تھا۔
خواہ کوئی سبزی خور ہو یا گوشت خور بہت سے لوگوں نے کبھی بھی کوئی مذبح خانہ نہیں دیکھا ہوگا۔

ایک گندی اور گھناؤنی جگہ
یہ ایک انتہائی گندی جگہ ہوتی ہے اور یہاں کی بو تو مت ہی پوچھیے۔۔۔ آپ مردہ جانوروں کی بدبو سے گھرے رہتے ہیں۔
جیسے آپ بھاپ والے ایک کمرے میں ہیں اور وہ بھاپ کمرے سے باہر نہیں جارہی ہے۔
کیوں کوئی ایسی جگہ پر آنا چاہے گا بلکہ وہاں کام ہی کیوں کرنا چاہے گا؟
میں یہاں اس لیے آئی تھی کہ میں نے کئی برسوں تک فوڈ انڈسٹری میں کام کیا تھا۔
میں پکے ہوئے کھانے کی فیکٹری میں کام کر چکی تھی۔ چنانچہ جب مجھے سلاٹر ہاؤس میں 'کوالٹی کنٹرول مینیجر' یا معیار کی جانچ کرنے والی مینیجر کی نوکری کی پیشکش ہوئی تو مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ اس وقت میں 40 سال کی تھی۔
ملازمت کے پہلے دن انھوں نے مجھے پوری جگہ کا دورہ کرایا اور یہ بتایا گیا کہ وہاں کیا کام ہوتا ہے۔
وہ مجھ سے بار بار یہ بھی پوچھتے رہے کہ کیا میں ٹھیک ہوں۔
انھوں نے بتایا کہ یہاں آنے والے لوگوں اور نئے ملازمین کی حفاظت ان کے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔
وہاں سب کچھ ٹھیک تھا۔ وہاں کام کو دیکھ کر مجھے تھوڑی ہچکچاہٹ ہوئی لیکن میں نے سوچا کہ مجھے اس کی عادت ہو جائے گی۔
لیکن کچھ ہی دنوں میں مجھے احساس ہو گیا کہ ایسا ہونے والا نہیں ہے۔

'دن کے واقعات اور رات کو ڈراؤنے خواب'
مجھے یقین ہے کہ تمام مذبح خانے ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں، لیکن جہاں میں کام کرتی تھی وہ انتہائی سفاک اور خطرناک جگہ تھی۔
کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ جانوروں کو بے ہوش کرنے کے تمام طریقہ کار کے باوجود طاقتور گائے کو ذبح کرنے کے لیے مشین میں ڈالے جانے سے قبل وہ بپھر پڑیں اور قصائیوں پر حملہ کر دیا۔
مجھے کبھی کوئی چوٹ نہیں پہنچی لیکن اس جگہ نے میرے دماغ پر گہرا اثر ڈالا۔
اس بڑے بکس نما بغیر کھڑکی والے سلاٹر ہاؤس میں جیسے جیسے دن گزرتے گئے میرے سینے پر بوجھ بڑھتا گیا اور میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔
دن میں رونما ہونے والے واقعات رات کو خوابوں میں آنے لگے۔
مذبح خانے میں آپ میں ایک بے حسی پیدا ہو جاتی ہے اور موت کا خوف یا درد کا احساس جاتا رہتا ہے۔
گائے کو ایک پوری زندہ مخلوق کے طور پر دیکھنے کے بجائے آپ اسے بیچنے اور کھانے والے جسم اور مختلف حصوں کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔
اس سے نہ صرف کام آسان ہوجاتا ہے بلکہ زندہ رہنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

'مجھے گھورتی آنکھیں'
بہرحال وہاں ایسی چیزیں بھی تھیں جو اس بے حسی میں شگاف ڈالے کی طاقت رکھتی ہیں۔ میرے لیے وہ ان کے سر تھے۔
وہاں ایک بڑا سا گڑھا تھا جس میں سینکڑوں سر پڑے ہوتے تھے۔ ان کی کھالیں نکال لی جاتی تھیں اور جو حصے بیچے جا سکتے تھے وہ بھی کاٹ کر نکال لیے جاتے تھے۔
تاہم ان کی آنکھیں وہیں موجود ہوتی تھیں۔
میں جب بھی وہاں سے گزرتی تو مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سینکڑوں آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔
کچھ مجھے اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہراتی ہوئی لگتی تھیں کیونکہ میں بھی اس جگہ کا ایک حصہ تھی۔
کچھ مجھ سے التجا کرتی نظر آتی تھیں کہ آیا کچھ وقت پہلے واپس جا کر انھیں بچایا جاسکتا تھا۔
یہ بہت خوفناک اور تکلیف دہ تھا۔ میں خود کو مجرم ماننے لگی تھی۔
جب میں نے پہلی بار ان سروں کو دیکھا تو یوں لگا کہ جیسے میری ساری طاقت ختم ہو گئی ہو۔
مجھے معلوم ہے کہ دوسرے ملازموں کو بھی اسی طرح کی چیزیں پریشان کرتی تھیں۔

حاملہ گائے کا قتل
میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکتی۔ ابھی مجھے وہاں کام کرتے ہوئے کچھ ہی مہینے گزرے تھے اور ایک لڑکے نے تازہ تازہ ذبح کی جانے والی ایک گائے کی آنتیں نکالنے کے لیے اس کے پیٹ کو چاک کیا تھا۔
جیسے ہی اس نے گائے کے پیٹ کو چاک کیا تو اچانک اس کے پیٹ سے جنین گرا۔ وہ گائے حاملہ تھی۔
وہ نوجوان لڑکا چیخنے لگا اور ہمیں اسے پرسکون کرنے کے لیے ایک میٹنگ روم میں لے جانا پڑا۔
وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ 'یہ صحیح نہیں ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔'
وہاں ایسے مرد بھی تھے جو اپنے جذبات کا اظہار بہت کم ہی کیا کرتے تھے، لیکن میں نے ان کی آنکھوں میں بھی آنسو دیکھے۔
ویسے مذبح خانوں میں جذبات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ کوئی بھی اپنے احساس و جذبات کے بارے میں بات نہیں کرتا تھا۔ جس جذبے کا عام طور پر ذکر کیا جاتا تھا وہ 'کمزوری نہ دکھاؤ' کا جذبہ تھا۔
مشرقی یورپ سے آنے والے مزدوروں کو زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ وہ انگریزی میں اپنی باتیں کہنے کے قابل نہیں تھے۔ ناقص انگریزی کی وجہ سے وہ مدد بھی نہیں مانگ سکتے تھے۔
وہاں کے زیادہ تر ملازمین مقررہ وقت سے زیادہ کام کر رہے تھے۔ کچھ لوگوں کو شراب سے پریشانی ہونے لگی، کیونکہ کام پر آتے ہی انھیں شراب کی بدبو ستانے لگتی تھی۔
جبکہ باقی افراد کو 'انرجی ڈرنکس' کی عادت پڑ گئی اور ایک یا دو افراد کو اس کی وجہ سے بھی دل کا دورہ پڑا۔
یہ انرجی ڈرنک سلاٹر ہاؤسز میں وینڈنگ مشینوں سے بھی خریدی جاتی تھیں لیکن لوگ انھیں گھر سے لاتے اور گاڑیوں میں چھپا کر پیتے تھے۔

صدمے سے پیدا ہونے والا تناؤ اور افسردگی
مذبح خانے کے کام کو بہت ساری ذہنی پریشانیوں کا سبب بھی دیکھا گیا ہے۔
کچھ محققین اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ کو پی ٹی ایس ڈی بھی کہتے ہیں۔
اگر میں اپنے بارے میں بات کروں تو میں بھی افسردگی کا شکار ہوئی جس کی وجہ زیادہ دیر تک کام کرنے اور موت کے ماحول میں رہنا تھا۔
ایک وقت تھا جب میں نے اپنی جان لینے کے بارے میں سوچنا شروع کردیا تھا۔
میں واضح طور پر یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ سب کچھ مذبح خانے میں کام کرنے کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔ لیکن یہ یقینی ہے کہ یہ تنہائی میں دھکیلنے والی نوکری ہے جس میں کسی سے مدد مانگنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
جب میں نے لوگوں کو اپنے کام کے بارے میں بتایا تو کچھ لوگوں نے اس کی مکمل مخالفت کی، لیکن کچھ لوگوں نے کام کے بارے میں تجسس ظاہر کیا اور اس کے بارے میں پوچھا۔
بہر حال میں لوگوں سے اس کے متعلق بہت کم ہی باتیں کرتی لیکن پھر بھی میں انھیں یہ نہیں بتا پائی کہ اس کے مجھ پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اپنے ایک ساتھی کی مدد کے دوران میں نے محسوس کیا کہ مجھے بھی اس سلسلے میں مدد کی ضرورت ہے۔
میں نے محسوس کیا کہ جن ہولناک چیزوں کو میں دیکھ رہی ہوں اس نے میری سوچنے کی صلاحیت کو کم کردیا ہے۔ مجھے عجیب و غریب خیالات آتے ہیں اور افسردگی بہت زیادہ ہے۔
مذبح خانے کی نوکری چھوڑنے کے بعد حالات بہتر ہونے لگے۔
میں نے اپنی ملازمت کو تبدیل کیا اور ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی کچھ تنظیموں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔
لوگوں سے ان کے احساسات کے بارے میں بات کرنا شروع کیا۔ لوگوں کو سمجھایا کہ افسردگی کی صورت میں کسی پیشہ ور سے مدد لینا کتنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو محسوس کرتے تھے کہ انھیں علاج کی ضرورت نہیں ہے۔
ملازمت چھوڑنے کے چند ماہ بعد مذبح خانے میں ساتھ کام کرنے والے میرے ایک ساتھی نے مجھ سے رابطہ کیا۔
اس نے بتایا کہ ہمارا ایک سابق ساتھی جو جانوروں کی کھال اتارنے کا کام کرتا تھا، اس نے خودکشی کرلی ہے۔
مجھے وہ دن اب بھی یاد ہیں۔ مجھے وہ ساتھی بھی یاد ہیں جو گھنٹوں تھکان کے باوجود کام کرتے تھے، گویا وہ کسی بڑے سمندر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ مجھے وہ لوگ بھی یاد ہیں جو زندہ نہیں رہ سکے۔
اور رات کو جب میں آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتی ہوں تو کبھی کبھی ہزاروں آنکھوں کا ایک جھرمٹ مجھے گھورتا ہوا نظر آتا ہے۔







