کینیا کی بلیک مارکیٹ میں بچوں کی فروخت : غربت سے تنگ آ کر بچے فروخت کرنے والی ماؤں پر کیا گزرتی ہے؟

- مصنف, جوئیل گنٹر
- عہدہ, بی بی سی افریقہ آئی

گذشتہ ماہ بی بی سی افریقہ آئی نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں بچوں کی بلیک مارکیٹ میں فروخت سے پردہ اٹھایا تھا۔ پولیس نے اس خبر کے بعد بچوں کی ٹریفکنگ کے الزام میں سات لوگوں کو گرفتار کیا، مگر خرید و فروخت کے ان معاہدوں کی دوسری جانب موجود ماؤں کی کیا کہانی ہے؟ کوئی ماں آخر اپنے بچے کو 70 پاؤنڈ (تقریباً 15 ہزار روپے) کی خاطر کیوں فروخت کرے گی؟

ایڈاما کہتی ہیں کہ والدین کے موجود ہوتے ہوئے ان کی زندگی آسان تھی۔ ان کے پاس مواقع کم تھے اس کے ساتھ پیسے کی بھی کمی تھی، لیکن پھر بھی زندگی میں کچھ نہ کچھ اچھا ضرور تھا۔ وہ سکول جایا کرتی تھیں اور انھیں یہ اچھا لگتا تھا۔ ان کی فکریں کم تھیں۔ پھر 12 سال کی عمر میں ان کے والد ہلاک ہوگئے اور چند برسوں بعد ان کی والدہ بھی چل بسیں۔
مغربی کینیا میں اپنے گاؤں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا 'تب زندگی اتنی مشکل ہوگئی تھی۔ مجھے سکول چھوڑ کر خود کو پالنا پڑا۔'
22 سال کی عمر میں ایڈاما کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی اور وہ حاملہ ہوگئیں، مگر وہ شخص ان کی بیٹی کی پیدائش کے تین دن بعد ہی وفات پا گیا۔
ان کی تنہائی بڑھتی گئی۔ انھوں نے نوزائیدہ بچوں کی ایک بیماری کی شکار اپنی بچی کی دیکھ بھال کی یہاں تک کہ بچی صحتیاب ہوگئی۔ اس میں 18 ماہ صرف ہوئے۔ اب ان دونوں کو زندہ رکھنے کے لیے ایک باقاعدہ آمدنی کی ضرورت تھی سو ایڈاما نے بیٹی کو اپنی عمر رسیدہ نانی کے پاس چھوڑا اور کام کی تلاش میں نیروبی چلی گئیں۔
نانی نے اُن سے کہا کہ 'یاد رکھنا کہ تم اپنی بچی کے لیے روزگار کمانے جا رہی ہو۔'
یہ بھی پڑھیے
ایڈاما نیروبی پہنچیں اور انھوں نے سڑک پر تربوز بیچنے شروع کر دیے، مگر اس سے انھیں خاطر خواہ آمدنی نہیں ہوتی تھی اور جس کے ساتھ وہ ایک گھر میں رہتی تھیں، وہ خاتون ایڈاما کے گھر پر رکھے پیسے بھی چرا لیتی۔ شہر میں زندگی بھی بہت مشکل تھی۔ ان کی پیشانی پر بالوں سے تھوڑا نیچے ایک زخم کا نشان ہے جو انھیں خود کو بچاتے ہوئے لگا تھا۔ 'کچھ مرد میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ مجھے جوابی حملہ کرنا پڑا۔'
اس کے بعد وہ ایک تعمیراتی سائٹ پر کام کرنے لگیں جہاں انھیں بالکل بھی ادائیگی نہیں کی گئی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک نائٹ کلب میں کام شروع کیا جہاں انھوں نے اپنے باس سے کہا کہ وہ پیسوں کی ادائیگی براہِ راست گاؤں میں ان کی نانی کو کر دیا کریں۔
کچھ عرصے بعد ایڈاما نے نیروبی میں اپنی کمائی کا کچھ حصہ خود لینا شروع کیا تاکہ وہ کرائے پر جگہ لے کر رہ سکیں۔ انھیں پھر ایک تعمیراتی سائٹ پر نسبتاً بہتر دیہاڑی پر کام ملا۔ وہاں ان کی ملاقات ایک اور شخص سے ہوئی۔ دونوں نے کچھ عرصہ ساتھ گزارا جس کے بعد اس شخص نے ایڈاما سے بچے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ایڈاما نے اس کے سامنے پیشکش رکھی کہ اگر وہ اپنی بچی کو نیروبی لا کر اپنے ساتھ رکھ سکتی ہیں تو وہ ایک بچہ پیدا کر سکتے ہیں۔ وہ شخص مان گیا اور ایڈاما کے حمل کے پانچ ماہ کے دوران وہ گھر کا کرایہ اور بل ادا کرتا رہا اور کھانے پینے کا سامان بھی لاتا رہا۔ ایڈاما اس دوران اپنی بچی کو اپنے پاس شہر لانے کے لیے صحیح وقت کا انتظار کرتی رہیں۔
پھر ایک دن وہ شخص گھر سے گیا اور کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔


،تصویر کا ذریعہGetty Images

کئی خواتین اس پریشانی سے بخوبی واقف ہوں گی کہ ایک بچے کو دنیا میں لانے کی تیاری کی جا رہی ہے مگر دو لوگ تو چھوڑیں، ایک کے بھی کھانے کے پیسے نہیں ہیں۔ زیادہ تر خواتین کبھی بھی کسی اجنبی کو اپنا بچہ فروخت کرنے کے بارے میں سوچیں گی بھی نہیں۔ مگر کینیا میں چند غریب حاملہ خواتین کے لیے انسانی تجارت میں ملوث لوگوں کو اپنا بچہ فروخت کرنا زندہ رہنے کے لیے دستیاب آخری چند آپشنز میں سے ایک ہے۔
یہ انسانی تاجر انتہائی کم پیسے دیتے ہیں۔ سارہ جب اپنے دوسرے بچے سے حاملہ تھیں تو وہ اس وقت 17 سال کی تھیں۔ ان کے پاس اس بچے کا خیال رکھنے کے لیے بالکل بھی پیسے نہیں تھے۔ انھوں نے اپنا بچہ تین ہزار کینیائی شلنگ (20 پاؤنڈ) کی پیشکش دینے والی ایک عورت کو فروخت کر دیا۔
'اس وقت میں چھوٹی تھی۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں جو کر رہی ہوں وہ غلط ہے۔ پانچ سال بعد مجھے احساس ہوا اور میں اسے یہ پیسے واپس کرنا چاہتی تھی۔'
وہ کہتی ہیں کہ وہ انہی قیمتوں پر اپنے بچے فروخت کرنے والی دیگر خواتین کو بھی جانتی ہیں۔
'کئی لڑکیاں مشکلات کے باعث اپنے بچے فروخت کرتی ہیں۔ شاید کسی لڑکی کو اس کی والدہ نے گھر سے نکال دیا ہو اور ان کے پاس کچھ نہ ہو، یا شاید وہ جب حملہ ہوئیں تو سکول میں ہوں۔ یہ 15 یا 16 سال عمر کی کسی لڑکی کے لیے بہت بڑے مسائل ہیں۔
'آپ کو ایسی بہت سی لڑکیاں مل جائیں گی جو اپنا بچہ اور اپنے پاس موجود ہر چیز گنوا بیٹھتی ہیں کیونکہ ان کا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہیں ہوتا۔'



کینیا میں نابالغ لڑکیوں کے حاملہ ہونے کی شرح افریقہ بھر میں سب سے زیادہ ہے اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران مزید بگڑ گیا ہے اور کئی خواتین کو زندہ رہنے کے لیے جسم فروشی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے اور لڑکیاں سکول سے گھر بیٹھ گئیں ہیں۔
بچوں کے تحفظ اور تولیدی حقوق میں مہارت رکھنے والی کینیا کی انسانی حقوق کی وکیل پروڈینس موتیسو کہتی ہیں کہ 'میں نے اس صورتحال میں موجود کئی خواتین اور لڑکیوں کی کہانیاں سنی ہیں۔ نوجوان خواتین کام کی تلاش میں شہر آتی ہیں، کسی شخص سے تعلقات قائم کر بیٹھتی ہیں، بچے کو جنم دیتی ہیں اور پھر باپ ماں اور بچے دونوں کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔'
وہ کہتی ہیں 'اگر باپ پیسے نہیں دے گا تو ان خواتین اور لڑکیوں کو اس آمدنی کے متبادل کے طور پر دوسرے راستے تلاش کرنے پڑیں گے۔ اور اسی وجہ سے وہ بچے فروخت کرنے پر مجبور ہوتی ہیں تاکہ وہ خود کی دیکھ بھال کرنے یا پہلے سے موجود بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے کچھ پیسے تو حاصل کر سکیں۔ لوگ اس بارے میں عام طور پر بات نہیں کرتے مگر یہ مسئلہ موجود ہے‘۔
تعیمراتی سائٹ پر ایڈاما سے جہاں تک ممکن ہو سکا انھوں نے اپنا حمل چھپائے رکھا، اس وقت تک کہ جب وہ سیمنٹ کے بھاری تھیلے اٹھانے کے قابل نہ رہیں اور ان کا پیٹ نمایاں ہونے لگا۔ اس کے بعد ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ اپنی رہائش کا کرایہ ادا کر سکیں۔ تین ماہ تک ان کے مالک مکان نے انھیں کچھ نہیں کہا لیکن بالآخر انھیں گھر سے باہر نکال دیا۔
آٹھ ماہ کی حاملہ ایڈاما رات دیر سے چوری چھپے گھر میں گھستیں تاکہ تھوڑی دیر سو سکیں اور صبح ہوتے ہی وہاں سے نکل جاتیں۔
'کسی دن میں خوش قسمت ہوتی تو مجھے کھانا مل جاتا۔ کسی دن میں صرف پانی پیتی، دعا مانگتی اور سو جاتی۔'


،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگر کینیا میں کوئی خاتون خود کو ایڈاما کی صورتحال میں پائے تو کئی عوامل انھیں انسانی تجارت میں ملوث افراد تک پہنچا سکتے ہیں۔ اسقاطِ حمل تب تک غیر قانونی ہے جب تک کہ بچے یا ماں کی زندگی کو خطرہ نہ ہو، جس کے باعث صرف غیر قانونی اور خطرناک متبادل ہی بچتے ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکپن کی عمر میں موجود افراد کے لیے سیکس اور تولیدی صحت کی تعلیم کی بھی کمی ہے، خاص طور پر اگر وہ دیہی علاقوں میں رہتے ہوں۔ بچے گود لینے کے قانونی طریقوں کے بارے میں بھی آگہی کی کمی ہے۔
خیراتی ادارے ’ہیلتھ پاورٹی ایکشن‘ کے کینیا میں آرگنائزر ابراہیم علی کہتے ہیں کہ 'وہ خواتین اور لڑکیاں جو خواہش کیے بغیر حاملہ ہوجاتی ہیں، انھیں حکومت سے مدد نہیں ملتی۔ ان خواتین کو اکثر بدنامی اور ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بالخصوص دیہی علاقوں میں یہ عام ہے۔ چنانچہ انھیں گھروں سے بھاگنا پڑتا ہے اور یوں وہ شہروں میں خطرناک صورتحال میں پھنس جاتی ہیں۔'
ایڈاما کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ انھیں اپنے بچے سے محفوظ طور پر دستبردار ہونے کے حوالے سے کیا قانونی آپشن دستیاب ہیں اور نہ ہی وہ بچہ گود لینے کے کسی قانونی مرحلے سے واقف تھیں۔ وہ کہتی ہیں 'مجھے اس کے بارے میں بالکل بھی معلوم نہیں تھا۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا۔'
انھوں نے غیر قانونی اسقاطِ حمل کے بارے میں سوچا مگر پھر انھیں یہ اپنے عقیدے کے خلاف لگا۔ پھر انھوں نے خودکشی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔
'میں اتنی زیادہ تناؤ کا شکار تھی کہ میں نے سوچا میں خود کو ڈبو لوں، اپنی زندگی ختم کر لوں، تاکہ لوگ بس میرے بارے میں بھول جائیں۔'
مگر بچے کی متوقع پیدائش سے چند ہفتے قبل کسی نے ایڈاما کو میری اوما نامی ایک خاتون سے ملوایا جنھوں نے ایڈاما کو مشورہ دیا کہ نہ وہ اسقاطِ حمل کروائیں نہ ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کریں۔ میری اوما نیروبی کے ایک پسماندہ علاقے کایولے میں ایک غیر قانونی کلینک چلاتی ہیں۔ انھوں نے ایڈاما کو 100 شلنگ دیے اور انھیں اگلے روز کلینک آنے کے لیے کہا۔



میری اوما کا کلینک کایولے سٹریٹ پر ایک عام سی نظر آنے والی دکان کے پیچھے چھپے دو کمرے ہیں۔ دکان میں کئی شیلف ہیں جو زیادہ تر خالی ہیں اور ان میں کچھ پرانی دوائیں رکھی ہیں۔ ان کے پیچھے بچوں کو جنم دینے کے لیے کمرے موجود ہیں۔ اوما اپنی اسسٹنٹ کے ساتھ اندر بیٹھتی ہیں اور کچھ منافع کے لیے بچوں کی خرید و فروخت کرتی ہیں، اور خود کو یہ پتا کرنے کی مشکل میں نہیں ڈالتیں کہ کون ان سے بچے خرید رہا ہے اور کیوں۔
انھوں نے ایڈاما سے کہا کہ اُن سے بچہ خریدنے والے نہایت محبت کرنے والے والدین ہوتے ہیں جو خود بچہ پیدا نہیں کر سکتے لیکن بچے کا اچھی طرح خیال رکھتے ہیں۔ مگر حقیقت میں اوما کسی بھی ایسے شخص کو بچہ فروخت کر دیتی ہیں جو ان کی دکان پر آ کر انھیں مناسب قیمت ادا کر دے۔
اوما حاملہ خواتین کو یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ سابق نرس ہیں مگر ان کے پاس پیدائش کے دوران پیش آنے والی کسی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے طبی سامان، ہنر اور یہاں تک کہ صفائی کا انتظام بھی نہیں ہے۔
ایڈاما کہتی ہیں 'ان کی جگہ بہت گندی تھی، وہ خون کے لیے ایک چھوٹا سا برتن استعمال کرتی تھیں۔ ان کے پاس واش بیسن تک نہیں تھا اور بستر بھی صاف نہیں تھا۔ مگر میں مجبور تھی، میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔'
ایڈاما بتاتی ہیں کہ جب وہ کلینک پہنچیں تو میری اوما نے انھیں بچے کی پیدائش کا عمل شروع کروانے کے لیے خبردار کیے بغیر دو گولیاں کھانے کو دیں۔ اوما کے پاس ایک خریدار پہلے سے کھڑا تھا اور بچہ خریدنے کے لیے بے تاب تھا۔ مگر جب ایڈاما نے بچے کو جنم دیا تو بچے کے سینے میں مسائل پیدا ہوگئے اور اسی فوری طبی نگہداشت کی ضرورت تھی۔
اوما نے ایڈاما سے بچے کو ہسپتال لے جانے کے لیے کہا۔
ایک ہفتہ ہسپتال میں گزارنے کے بعد ایڈاما ایک صحتمند بچے کے ساتھ گھر لوٹ آئیں۔ جس مالک مکان نے انھیں دورانِ حمل گھر سے نکال دیا تھا اس نے انھیں گھر میں آنے اور بچے کی نگہداشت کرنے کی اجازت دے دی۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ ایک مرتبہ پھر میری اوما سے بازار میں ملیں جنھوں نے ایک مرتبہ پھر انھیں 100 شلنگ دیے اور کہا کہ اگلے روز ان کے کلینک آ جائیں۔
اوما نے اپنے خریدار کو ٹیکسٹ پیغام بھیجا: 'نیا پیکج پیدا ہوا ہے۔ 45 ہزار۔'



میری اوما ایڈاما کو 45 ہزار شلنگ (300 پاؤنڈ) کی پیشکش نہیں کر رہی تھیں بلکہ وہ خریدار کو قیمت بتا رہی تھیں۔ انھوں نے ایڈاما کو 10 ہزار شلنگ (70 پاؤنڈ) کی پیشکش کی۔ مگر میری اوما نہیں جانتی تھیں کہ جس خریدار سے وہ سودا طے کر رہی ہیں وہ بی بی سی کے لیے کام کرنے والا ایک خفیہ رپورٹر تھا جنھوں نے یہ بچوں کی تجارت کی ایک سال طویل تحقیقاتی رپورٹنگ کے دوران کیا تھا۔
جب ایڈاما اگلے روز اس کلینک گئیں تو وہ پچھلے کمرے میں بیٹھ گئیں اور بچے کو اپنی بانہوں میں لے کر جھلانے لگیں۔ سرگوشیوں میں اس مبینہ خریدار نے ایڈاما کو بتایا کہ ان کے پاس دیگر آپشن بھی موجود ہیں اور ایڈاما کا دل بدل گیا۔ وہ اپنا بچہ اٹھائے کلینک سے نکل گئیں اور اسے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ایک ادارے میں لے گئیں جہاں قانونی طور پر گود لیے جانے تک اس کی نگہداشت ہو سکے گی۔
بی بی سی نے میری اوما سے اپنے خلاف الزامات پر ردِعمل دینے کے لیے کہا پر انھوں نے انکار کر دیا۔
ایڈاما 29 سال کی ہیں اور ایک مرتبہ پھر اسی گاؤں میں رہ رہی ہیں جہاں وہ پلی بڑھی تھیں۔ اب بھی وہ کبھی کبھی بھوکی سوتی ہیں۔ زندگی اب بھی مشکل ہے۔ انھیں کبھی کبھار قریبی ہوٹل پر کام مل جاتا ہے مگر یہ کافی نہیں ہوتا۔ وہ بہت کوشش کرتی ہیں کہ شراب نہ پیئیں۔ ان کا خواب ہے کہ وہ گاؤں میں جوتوں کی دکان کھولیں اور نیروبی سے جوتے لا کر فروخت کریں، مگر یہ ایک خواب لگتا ہے۔ ان کا اب اپنے بیٹے سے کوئی رابطہ نہیں ہے مگر انھیں کوئی افسوس نہیں۔
وہ کہتی ہیں 'میں اپنا بچہ فروخت کرنے سے خوش نہیں تھی۔ میں اس پیسے کو چھونا بھی نہیں چاہتی تھی۔ جب بچے سے دستبردار ہونے میں پیسہ شامل نہیں رہا تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔'
جس ادارے میں انھوں نے اپنے بچے کو چھوڑا تھا، وہ اس کے قریبی علاقے کو اچھی طرح جانتی ہیں۔ وہ اس گھر کے قریب ہے جہاں سے انھیں بچے کو جنم دینے کے دنوں میں نکال دیا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ 'میں جانتی ہوں وہ علاقہ محفوظ ہے اور اس بچے کا خیال رکھنے والے لوگ اچھے ہیں۔'

اضافی رپورٹنگ: نجیری موانگی
بی بی سی کے لیے فوٹوگرافی: ٹونی اومونڈی




