ماریئلا سیفونتیس کی کہانی: ’دو دن کی تھی جب اغوا کیا گیا اور 11 ماہ تہہ خانے میں رکھنے کے بعد بیچ دیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہMARIELA SIFONTES
’ہیلو، میری پیاری، مجھے لگتا ہے کہ میں تمہاری ماں ہوں۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ تم مر چکی ہو۔‘ تین سال قبل ماریئلا سیفونتیس کو فیس بک پر یہ پیغام ملا تھا۔
ان چند لفظوں نے 34 برس کی ایک خاتون کی ایک طویل کھوج کو ختم کر کے ان کی زندگی میں نئے باب کا آغاز کیا جو اب بیلجیئم میں اپنے شوہر اور دو بچوں ایوا اور ہیوگو کے ساتھ رہتی ہیں۔
ماریئلا کا تعلق لاطینی امریکی ملک گوئٹے مالا سے ہے۔ جب وہ 11 ماہ کی تھیں تو انھیں ایک پیار کرنے والے بیلجیئن جوڑے نے گود لے لیا تھا۔ ان کا نیا نام کولین رکھا گیا۔
انھیں ہمیشہ سے معلوم تھا کہ وہ گود لی گئی تھیں مگر جو بات انھیں معلوم نہیں تھی وہ یہ کہ انھیں کن حالات میں گود لیا گیا تھا۔
یہ ان کی کہانی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1۔ گوئٹے مالائی یورپ میں
میرا بچپن بہت اچھا تھا۔ مجھے گود لینے والا خاندان بہت زبردست ہے۔ میرے والدین نے مجھے پیانو بجانا سیکھنے اور دوسری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ ہم ہر سال چھٹی پر بھی جایا کرتے تھے۔
مجھے گود لینے والا خاندان بہت بڑا ہے (ایک بھائی، کزنز، آنٹیاں اور انکلز) اور میں اپنی نانی اور دادی سے بہت قریب تھی۔ مجھے مختلف محسوس ہوتا تھا کیونکہ میرے گھر والوں نے مجھے ہمیشہ محفوظ رکھا اور محبت دی۔

،تصویر کا ذریعہMARIELA SIFONTES
مگر جسمانی طور پر یہ مختف بھی تھا۔ میرے والدین ہمیشہ مجھے بتاتے تھے کہ مجھے گود لیا گیا۔
میری والدہ اسے بہت پیارے انداز میں کہتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ ’میں نے تمہیں اپنے پیٹ میں تو نہیں رکھا لیکن اپنے دل میں ہمیشہ رکھا ہے۔‘
مجھے گود لینے والی ماں چاہتی تھیں کہ میں اپنی جڑوں سے منسلک رہوں مگر وہ اس بارے میں میری بلوغت سے پہلے بہت زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
جب میں اپنے لڑکپن میں تھی تو میں نے سوال پوچھنے شروع کر دیے۔ عورت بننے والی کسی بھی لڑکی کی طرح میں بھی جاننا چاہتی تھی کہ میں کون ہوں۔ میں شیشے میں خود کو دیکھتی اور یہ معلوم کرنا چاہتی کہ میں آخر کس جیسی دکھتی ہوں۔
یہی سوالات تھے جن کی وجہ سے میری تلاش شروع ہوئی۔
میں جب 18 سال کی ہوئی تو میں نے اس حوالے سے پوچھ گچھ شروع کر دی مگر یہ کافی ’بے ترتیب سے انداز میں تھا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ مجھے تلاش کیسے اور کہاں کرنی ہے۔
میں اسے وہ دور قرار دوں گی جب میں بھٹک رہی تھی کیونکہ ایسا کوئی بھی نہیں تھا جو کسی لے پالک کو اس کے اصل والدین کو ڈھونڈنے میں مدد دیتا۔
میری ہر سالگرہ پر میں سوچا کرتی کہ میری حقیقی والدہ شاید میرے بارے میں سوچ کر ہنسا کرتی ہوں گی۔
ویسے اب میں جانتی ہوں کہ جو سالگرہ میں مناتی رہی ہوں وہ کچھ دن کے فرق سے غلط ہے۔
میں اپنے دل میں اپنی حقیقی والدہ کی سالگرہ مناتی جو میرے شناختی دستاویزات پر لکھی تھی مگر وہ بھی غلط نکلی۔
مگر جب میں خود ماں بنی تو میں نے سنجیدگی سے اُن کی تلاش شروع کر دی۔

،تصویر کا ذریعہMARIELA SIFONTES
2۔ واپسی کا راستہ
مجھے ’باضابطہ طور پر‘ یہ بتایا گیا تھا کہ میری والدہ معاشی زبوں حالی کی شکار تھیں، وہ خوراک کا بندوبست نہیں کر سکتی تھیں اس لیے انھوں نے رضاکارانہ طور پر مجھے گود لیے جانے کے لیے دے دیا۔
میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ گوئٹے مالا میں میرا خاندان غریب نہیں ہے، اس لیے مجھے ’بچائی گئی لڑکی‘ کہا جانا اور بھی بدتر ہے۔
وہ سماجی و اقتصادی سیاق و سباق جس میں لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ’گود لیے جانے پر خود کو خوش قسمت تصور کریں‘، میرے معاملے میں بالکل غلط ہے۔
جب میں 18 برس کی تھی تو مجھے گود لینے والے ماں باپ نے مجھے گود لینے کا ریکارڈ دیا۔ مجھے پہلے بھی اس تک رسائی حاصل تھی لیکن میں نے کبھی اسے مکمل طور پر نہیں پڑھا تھا کیونکہ میں اپنے ماضی کے بارے میں زیادہ جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔
میرے والدین نے یہ دستاویزات مجھے دیے کیونکہ انھوں نے محسوس کیا کہ یہ میری کہانی تھی اور میرے پاس ان دستاویز کو ہونا چاہیے تھا۔
ان دستاویزات میں موجود کچھ تاریخوں کے ساتھ مسائل تھے اور مجھے شک ہونے لگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میں ایک انقلاب کی طرح تھی اور اس شدت میں اس وقت اضافہ آیا جب میری پانچ برس کی بیٹی نے بھی مجھ سے سوال کرنا شروع کر دیے۔
میں نے گوئٹے مالا میں چوری کیے جانے والے بچوں، غیر قانونی طور پر گود لینے اور بچوں کی سمگلنگ کے سانحے سے متعلق رپورٹس پڑھیں۔
گوئٹے مالا میں غیر قانونی طریقے سے گود لینے کا سکینڈل انسانی حقوق کی بین الامریکی عدالت تک پہنچا۔
میں نے ایک صحافی سیباستی ایسکلان سے مدد طلب کی۔ میں نے اس موضوع پر ان کے ایک آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد ان سے رابطہ کیا۔
ایسکلان نے مجھے مدد کی پیشکش کی۔ میں یہاں ان کا تذکرہ کرنا چاہتی ہوں کیونکہ ان کے بغیر کچھ ممکن نہیں تھا۔
3۔ گود لینے کا عمل
مجھے گود لینے والے والدین بہت اچھے لوگ ہیں۔ وہ ہمیشہ سے کسی بچے کو گود لینا چاہتے تھے اور اسی کی دہائی میں انھوں نے بچے گود لینے میں مدد کرنے والی ایجنسی میک برج سے رابطہ کیا۔
ماریئلا کو گود لینے والے والدین نے ان کی اپنے حقیقی خاندان کی تلاش کو سپورٹ کیا۔
جس سال میں مجھے گود لیا گیا، ایجنسی نے گود لینے والے والدین کو گوئٹے مالا جانے کا کہا۔
میرے والدین مجھے لینے آئے، ہر چیز ترتیب سے ہوئی کیونکہ ان کے پاس ایک ایسے ادارے کی گارنٹی تھی جسے بیلجیئیم حکومت نے تسلیم کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہMARIELA SIFONTES
میرے اغوا میں ملوث خاتون جو اب مر چکی ہیں، اس وقت کے گوئٹے مالا کے صدر آسکر میجیا وکٹورس کی سالی تھیں اور سنہ 1980 میں انھیں بچوں کی سمگلنگ کے لیے ایک شخص ایڈمونڈ مولیٹ کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
لیکن اس وقت انٹرنیٹ نہیں تھا اور مجھے گود لینے والے والدین کو اس بارے میں علم نہیں تھا۔
گوئٹے مالا سپاٹ لائٹ میں
بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے گوئٹے مالا کو اکثر دنیا بھر میں بے ضابطہ گود لینے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
وسطی امریکہ کے اس ملک کو (1960-1996) ایک وحشیانہ مسلح تصادم کا سامنا تھا، جس نے ایک غریب قوم، نازک ادارے، 10 لاکھ بے گھر افراد اور ہزاروں گمشدہ بچے چھوڑے۔
اس مسلح تصادم کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے جن میں بہت سے نابالغ بھی شامل تھے۔
سنہ 1980، 1990 اور 2000 کی دہائی کے دوران گوئٹے مالا کے ہوٹل امریکی اور یورپی شہریوں سے بھرے ہوتے تھے جو بچوں کو لینے آتے تھے۔
گود لینے کا یہ عمل زیادہ تر قانونی تھا لیکن نابالغوں کی سمگلنگ ایک بڑا کاروبار بن گیا تھا جس کی وجہ سے درست اعدادوشمار رکھنا بہت مشکل ہے۔
اقوام متحدہ میں بچوں کے تحفظ کے ادارے یونیسیف کے مطابق سنہ 1997 سے 2007 تک 30 ہزار سے زیادہ گوئٹے مالائی بچوں کو ایک ایسے نظام کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر گود لیا گیا، جس میں گود لینے والے خاندان کے بارے میں کوئی گارنٹی نہیں دی جاتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
4۔ محبت اور تنہائی
مجھے گود لینے والے والدین نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا اور حوصلہ افزائی کی۔ میری والدہ نے مجھے بتایا کہ اگر میں ضرورت محسوس کروں تو وہ میری مدد کے لیے گوئٹے مالا آ سکتی ہیں۔
جب میں نے بچوں کی سمگلنگ کی بات کی تو میرے والدین بہت حیران ہوئے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ میرے لیے موجود رہنے لگے۔
وہ میرے لیے خوفزدہ تھے۔ میرے دوستوں اور والدین نے میرا بہت ساتھ دیا۔ میں ہر چیز کے لیے جس شخص کی مقروض ہوں وہ میرے شوہر ہیں۔
انھوں نے مجھے گرتے دیکھا، انھوں نے مجھے سنبھالا، جب میں سمگلروں کا سراغ لگانے میں دن رات لگی تھی تو انھوں نے ہمارے خاندان کا اور روز مرہ کی بہت سی چیزوں کا خیال رکھا۔
لیکن اپنے پیاروں سے اتنا پیار اور سپورٹ ملنے کے باوجود میں خود کو تنہا محسوس کرتی تھی۔ اپنے خاندان سے دوبارہ ملنا 30 برس کی جدائی اور جھوٹوں کی تلافی نہیں کر سکتا۔
اپنی تلاش کے دوران میں نے حقیقی زندگی سے لا تعلقی محسوس کی۔ میں صرف اپنے بچوں کے لیے خود کو حال میں محسوس کرتی۔ مجھے بہترین ماں بنے رہنا جاری رکھنا پڑا تاکہ میری صورتحال انھیں کسی طرح سے اثر انداز نہ کرے۔
سب سے پہلے مجھے اپنی حقیقی والدہ جیسا نام رکھنے والی 200 سے زائد خواتین ملی۔ دوسرا گوئٹے مالا میں آپ کو ڈپارٹمنٹ اور شہر سے تلاش کرنا ہوتا ہے۔
دنوں اور راتوں کی محنت کے بعد میں نے ایک تصویر دریافت کی اور مجھے فوراً پتا چل گیا کہ یہ ’میری ماں‘ ہے۔

،تصویر کا ذریعہMARIELA SIFONTES
5۔ ایک بھوت کی طرح
میں اپنی ماں کی طرح نظر آتی ہوں۔ میں اپنی بہنوں کی ہم شکل لگتی ہوں۔ جب میں نے فیس بک پر ان کی پروفائلز اور تصویروں کو دیکھا تو میں نے سوچا کہ میرا دل پھٹ جائے گا۔
’میری بڑی بہن نے پہلے سوچا کہ یہ جھوٹ ہے۔ میری چھوٹی بہنوں میں سے ایک نے کہا: ’تم ماریئلا نہیں ہو سکتی، وہ مر چکی ہیں۔‘
پھر میری والدہ لورینا نے مجھے لکھا: ’ہیلو، میری پیاری، مجھے لگتا ہے کہ میں تمہاری ماں ہوں۔ میرا دل رک جائے گا، انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ تم مر چکی ہو۔‘
میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اس سے بالکل مختلف تھا جو میں جانتی تھی۔
ماریئلا کو گود دینے سے پہلے 11 ماہ تک تہہ خانے میں قید رکھا گیا۔ میں گوئٹے مالا شہر کے روزویلٹ ہسپتال میں پیدا ہوئی تھی۔ میں دو دن کی تھی جب مجھے چوری کیا گیا۔
میری والدہ جو بہت جوان تھیں، انھیں بتایا گیا کہ مجھے ایک اور ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ جب میری والد مجھے وہاں دیکھنے گئیں تو انھیں بتایا گیا کہ مجھے روزویلٹ ہسپتال واپس بھیج دیا گیا ہے۔
روزویلٹ ہسپتال میں انھیں بتایا گیا کہ میں مر چکی ہوں اور وہ میری لاش نہیں دیکھ سکتی کیونکہ مجھے ایک اجتماعی قبر میں دفنایا گیا ہے۔
ان سے ایک پیپر پر دستخط کرائے گئے لیکن وہ دستاویز وہ نہیں تھا جو میری فائل کا حصہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہMARIELA SIFONTES
ویڈیو کال کے ذریعے میری اپنی والدہ سے پہلی گفتگو بہت جذباتی تھی۔ وہ حالت اضطراب میں تھیں اور رو پڑیں۔ ہر سات نومبر وہ اپنی مری ہوئی بیٹی کے لیے دعا کرتی تھیں اور اب میں ان کے سامنے تھی۔ ان کے لیے یہ ایک بھوت دیکھنے کے برابر تھا۔
تکلیف کے بعد دباؤ کا شکار
میں جھوٹ نہیں بولوں گی لیکن میں اتنی تکلیف کے بعد اب بھی دباؤ کا شکار ہوں۔
میں جذباتی طور پر تباہ ہو چکی ہوں کیونکہ اپنے خاندان سے دوبارہ ملاپ 30 برس کی جدائی اور جھوٹوں کی تلافی نہیں کر سکتا۔ میرے 13 بہن بھائی ہیں جن سے میری ابھی ابھی ملاقات ہوئی ہے۔
میں ایک زندگی میں دو زندگیاں جینے کی کوشش کر رہی ہوں۔
آج میں یہ سوچ سکتی ہوں کہ میں صرف دو دن کی تھی جب مجھے اغوا کیا گیا، مجھے 11 ماہ حراست میں رکھا گیا اور پھر مجھے بین الاقوامی سطح پر گود لینے کے تناظر میں بیچ دیا گیا۔
مجھے اپنے اور دیگر بچوں کی ایک تصویر بھی ملی جس میں ہم سب کو تہہ خانے میں رسیوں سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔
میں ٹراما کے شکار افراد کے علاج کے سینٹر میں ہوں۔ مجھے بہت زیادہ بے چینی ہے لیکن یہ مجھے بات کرنے سے نہیں روک سکتی۔
مجھے گود لینے والے والدین نے اس خوف کا سامنا کرنے کے لیے مجھے تعلیم اور وسائل مہیا کیے۔ وہ بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ انھوں نے وکیلوں کے ساتھ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ وہ بھی میری طرح ظلم کا شکار ہوئے ہیں۔
آج میں ایک زندگی میں دو زندگیاں گزارنے سے تھک چکی ہوں۔
جن لوگوں نے ایسا کیا انھوں نے مجھہ ہمیشہ کے لیے اپنے والدین سے جدا کر دیا۔ انھوں نے میری زندگی چرائی۔

،تصویر کا ذریعہMARIELA SIFONTES
ایک مربوط کاروبار
سنہ 2007 میں گوئٹے مالا کانگریس نے بین الاقوامی اختیارات میں بچوں کے تحفظ اور تعاون سے متعلق کنونشن کی توثیق کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق گود لینے سے متعلق ایک نیا قانون بھی منظور کیا گیا جس سے ’شدید مثبت پیشرفت‘ ہوئی۔
گوئٹے مالا میں ہونے والی ان بے ضابطگیوں کی جانچ کے لیے بنائے گئے بین الاقوامی کمیشن (سی آئی سی آئی جی) نے اس وقت ایک رپورٹ مرتب کی تھی جس میں گود لینے کے عمل میں ہونے والی ان بے ضابطگیوں میں مختلف سطح پر حکومت کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
سی آئی سی آئی جی کی دستاویزات کے مطابق ’یہ غیر قانونی نیٹ ورک بچوں کو ان کی ماوؤں سے چراتے ہیں یا انھیں دھمکا یا ڈرا کر گود دینے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔‘
2018 میں انسانی حقوق کی بین الامریکی عدالت نے غیرقانونی طور پر گود دینے کے معاملے پر گوئٹے مالا کی مذمت کی اور متاثرہ افراد کے خاندانی تعلقات کو بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی جانچ کا حکم دیا۔
اسمین توبر، جنھیں بچپن میں اغوا کر کے امریکہ منتقل کیا گیا، اپنا مقدمہ انسانی حقوق کی بین الامریکی عدالت میں لے گئے جہاں سنہ 2018 میں ان کے حق میں فیصلہ دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اوفیلیا دی گیمس کا سنہ 2010 میں انتقال ہو گیا۔ ایڈمونڈ مولیٹ جن کے خلاف کبھی بھی قانونی کارروائی نہیں کی گئی اور وہ کسی جرم کا ارتکاب نہیں کرتے تھے، اقوام متحدہ کے امن قائم کرنے والے آپریشنز کے نائب سیکرٹری جنرل بن گئے اور گوئٹے مالا میں سنہ 2019 کے صدارتی انتخابات میں حصہ بھی لیا۔
بیلجیئم میں اس سکینڈل نے یونیسیف کو متاثر کیا۔ بیلجیئم میں یونیسیف کے ڈائریکٹر برنارڈ سنتوبن کو سنہ 2019 میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا کیونکہ وہ میک برج سے وابستہ رہ چکے تھے۔
ماریئلا اب دوسرے لوگوں کو ان کے خاندان تلاش کرنے میں مدد کرتی ہیں تاکہ انھیں انصاف مل سکے۔ ان کی اس جدوجہد پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی ہے جسے امریکہ میں ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
مستقبل پر نظر
ہم نے بیلجیئم میں گود لیے گئے افراد کی تلاش کے لیے ایک ادارے ’روٹس لوسٹ‘ یعنی’ کھوئی ہویی جڑیں‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ تنظیم 20 ممالک میں گود لیے گئے گوئٹے مالائی افراد کی نمائندگی کرتی ہے۔
ہم انتظامی تلاش کرتے ہیں اور پھر فائل ’لیگا دی ہیجینی مینٹل‘ نامی تنظیم کو بھیج دیتے ہیں، اس تنظیم کا ایک پروگرام گوئٹے مالا سے لاپتہ پونے والے افراد کی تلاش کرتا ہے۔
یہ ایمی ایوارڈ صرف میری کہانی نہیں، یہ ان تمام لوگوں کی پہچان ہے جو اس ملک میں بے ضابطگی سے گود لیے گئے ہیں۔
لوگوں کو بولنے میں خوف محسوس نہیں کرنا چاہیے لیکن گوئٹے مالا میں آپ ہر بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ ابھی بھی خطرناک ہے۔
میں نے ایک کتاب لکھی ہے جو سنہ 2021 میں شائع ہو گی۔ جس میں، میں نے اپنی کہانی اور وہ تحقیق شامل کی ہے جو میں نے گوئٹے مالا میں کی تھی۔ اس تحقیق میں یورپ جانے والے سمگلروں کے علاوہ کینیڈا اور امریکہ کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات بھی شامل ہیں۔
گوئٹے مالا کے تمام گمشدہ بچوں کی طرف سے، یہ فرض ہے کہ جو ہوا اسے یاد رکھا جائے۔
ہمیں تجارتی مال سمجھا گیا جسے دنیا کے چاروں کونوں میں برآمد کیا گیا۔ ہم بچوں کی اس سمگلنگ کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں، جس نے لاکھوں ڈالر کمائے اور حکومت، سفارتکاری اور نام نہاد انسان دوست تنظیموں کے اندر ہر سطح پر دراندازی کی۔
جیسا کہ ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم میں میرے دوست اسمین ریکارڈو توبر رمریز نے کہا: ’ہم اب بچے نہیں رہے، اب ہم بڑے ہو گئے ہیں جن کے انسانی حقوق ہیں: اپنی ماوؤں اور اپنی اصل شناخت کو جاننے کا حق۔‘
مجھے پیدا کرنے والے والدین سے میرا خون کا رشتہ ہے جبکہ مجھے گود لینے والے والدین سے میرا تعلق دل کا ہے۔ ان چاروں کے لیے میرے دل میں شدید پیار ہے اور انھیں انصاف دلانے اور سمگلنگ میں ملوث افراد کو سامنے لانے کے لیے میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی۔
یہ جدوجہد میری زندگی کا مقصد ہے اور میں اسے مرتے دم تک جاری رکھوں گی۔
میں اپنی بات کا اختتام اس بات پر کروں گی کہ ہم جیسے ہزاروں لوگ ہیں اور جب حقیقت افسانے سے بھی زیادہ چونکا دینے والی ہو تو ہم چپ کر کے بیٹھ نہیں سکتے۔








