کرائسٹ چرچ انکوائری رپورٹ: ’حکام اسلام پسند دہشتگردی کو ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے تھے‘

جاسنڈا آرڈرن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجاسنڈا آرڈرن

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں سنہ 2019 میں دو مساجد پر ہونے والے حملے کی انکوائری رپورٹ میں حملے سے قبل ہونے والی غفلتوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاہم یہ بھی کہا گیا ہے اس واقعے کو روکنا ناممکن تھا۔

یہ انکوائری مارچ 2019 میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملے کے بعد شروع کی گئی تھی جس میں حملہ آور برینٹن ٹارنٹ نے 51 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

انکوائری کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ حکام اسلحہ لائسنس کی بہتر نگرانی کرنے میں ناکام رہے جس کے باعث ٹارنٹ اسلحہ اکھٹا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس انکوائری میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ’حکام اسلام پسند دہشتگردی کو ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

تاہم اس رپورٹ میں یہ بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ ان ناکامیوں کو درست کرنے کے باوجود آسٹریلوی شہری برینٹن ٹارنٹ کو نہیں روکا جا سکتا تھا۔ خیال رہے کہ ٹرینٹ کو رواں برس نیوزی لینڈ کی ایک عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے دوران انھیں معافی کا حق بھی نہیں مل پائے گا۔

نیوزی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحکام اسلحہ لائسنس کی بہتر نگرانی کرنے میں ناکام رہے جس کے باعث ٹارنٹ اسلحہ اکھٹا کرنے میں کامیاب ہو گیا

کمیشن کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جسنڈا آرڈرن نے رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’کمیشن کی جانب سے کسی حکومتی ایجنسی میں کوئی ایسا نقص نہیں نکالا گیا جس کے ذریعے دہشت گرد کی منصوبہ بندی اور تیاری کا قبل از وقت پتا چلایا جا سکتا۔‘

’تاہم ان کی جانب سے مختلف ایسے پہلوؤں پر روشنی ضرور ڈالی گئی ہے جن میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور کچھ ایسی غلطیاں جن کی تصحیح کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے ان میں سے کچھ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ’جیسے اسلحہ لائسنس کے طریقہ کار میں نقائص ہیں‘ اور ایک پہلے سے تصور شدہ اسلام پسند خطرے کے حوالے سے ’وسائل کا نامناسب ارتکاز‘ کیا گیا ہے۔

’تاہم کمیشن نے یہ کہیں نہیں کہا کہ ان پر قابو پا لینے سے حملے کو روکا جا سکتا تھا، پھر یہ ناکامیاں ضرور ہیں اور ان کے لیے میں حکومت میں ہونے کی حیثیت سے معذرت خواہ ہوں۔‘

اس رپورٹ میں سفارشات کی ایک فہرست بھی شامل ہے جن کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام سفارشات کو منظور کرے گی۔ ان سفارشات میں ایک نئی خفیہ اور سکیورٹی ایجنسی قائم کرنے کے علاوہ پولیس کو نفرت کی بنیاد پر کیے جانے والے جرائم کی نشاندہی کرنے اور ان پر مؤثر ردِ عمل دینے کی کوشش کی ہے۔

حکومت کی جانب سے نسلی برادریوں کی وزارت کے قیام کے علاوہ ان برادریوں کے لیے گریجویٹ پروگرام بھی متعارف کروایا جائے گا۔

نیوزی

،تصویر کا ذریعہReuters

نیوزی لینڈ کی مسلمان کمیونٹی نے اس رپورٹ پر کیا ردِ عمل دیا؟

النور مسجد جو اس حملے میں نشانہ بننے والی دو مساجد میں سے ایک ہے، کے امام نے کہا ہے کہ حکام مسلمان کمیونٹی سے متعلق کچھ زیادہ ہی شکوک و شبہات رکھتے ہیں بجائے اس کے کہ ان کی حفاظت کے لیے کام کریں۔

’ہمیں ایک عرصے سے معلوم ہے کہ مسلمان کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز زبان کا استعمال بھی ہوتا ہے اور ہمارے خلاف نفرت کی بنیاد پر جرائم بھی کیے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم صحیح ہیں۔‘

’اس رپورٹ میں حکومتی اداروں میں مسلمانوں کے حوالے سے تعصب پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور اس میں تبدیلی لانا ہو گی۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والی سفارشات پر عمل درآمد کر کے مسلمان کمیونٹی کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔

آیا ال عمری جن کے بھائی اس حملے میں ہلاک ہوئے تھے، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا رپورٹ کی سفارشات میں ’تمام صحیح باتیں کی گئی ہیں۔‘

آیا ال عمری کا کہنا تھا ’ان سفارشات میں نیوزی لینڈ کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو بہتر بنانا، اسلحے کی لائسنسنگ، معاشرتی رویے اور متنوع آبادی کے بارے میں بات کی گئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ نیوزی لینڈ کے تجربے سے دیگر ممالک بھی سیکھ سکتے ہیں اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اب انفرادی سطح پر بھی کام کرنا ہو گا۔

’ہم سب کو ہی نفرت کی بنیاد پر کیے جانے والے جرائم کو کم کرنے اور تعصب ختم کرنے کے لیے کام کرنا ہو گا۔ ایسی چیزیں بڑھ کر مارچ 15 کے واقعے تک پہنچ جاتی ہیں۔‘

تاہم نیوزی لینڈ کی اسلامک ویمن کونسل نے اس رپورٹ پر تنقید کی اور کہا کہ اس رپورٹ میں شفافیت کی کمی دیکھی گئی ہے۔

گروپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ایسے متعدد شواہد ہیں کہ جن پر تفتیش نہیں کی گئی اور گروپ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔‘

کرائسٹ چرچ میں کیا ہوا تھا؟

گذشتہ برس 15 مارچ کو آسٹریلوی حملہ آور نے النور مسجد میں نمازیوں پر فائرنگ کر دی جسے انھوں نے اپنے سر پر نصب کیمرے کے ذریعے فیس بک پر لائیو براڈ کاسٹ کیا۔ جس کے بعد وہ لنوڈ اسلامک سینٹر گئے جہاں انھوں نے باہر موجود لوگوں پر فائرنگ کی اور پھر کھڑکیوں کو نشانہ بنایا۔

مرکز کے اندر سے ایک شخص باہر کی جانب بھاگا اور اس نے حملہ آور کا اسلحہ اٹھا کر اس کا پیچھا کیا اور اسے وہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا۔

پولیس افسران نے حملہ آور کا پیچھا کیا اور اسے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد حملہ آور نے پولیس کو بتایا کہ ان کا منصوبہ تھا کہ ’وہ ابتدائی حملے کے بعد مساجد کو جلا دیں گے اور کاش وہ ایسا کر سکتے۔‘

اس سال ایک عدالت کی جانب سے ان کو دی جانے والی سزا سے قبل ہونے والی سماعت میں اپنے بیان میں برینٹن ٹرینٹ نے بتایا تھا کہ وہ ایک اور مسجد کو نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن انھیں پولیس افسران نے راستے میں پکڑ لیا۔

کرائسٹ چرچ حملے کے متاثرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکرائسٹ چرچ حملے کے متاثرین

نیوزی لینڈ نے اس پر کیا ردِ عمل دیا؟

ٹرینٹ کو رواں برس نیوزی لینڈ کی ایک عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے دوران انھیں معافی کا حق بھی نہیں مل پائے گا۔ جج کی جانب سے ان کے عمل کو ’غیر انسانی‘ قرار دیا گیا اور انھوں نے کہا کہ میں نے اس معاملے میں ’کوئی رعایت نہیں برتی۔‘

اس سانحے کی وجہ سے نیوزی لینڈ اسلحے سے متعلق قوانین میں ترمیم لانے پر بھی مجبور ہوا تھا۔

اس واقعے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد حکومت نے قانون میں ترمیم لاتے ہوئے ہر قسم کے نیم خود کار ہتھیاروں، خود کار رائفلز اور زیادہ گنجائش والے میگزینز پر پابندی عائد کر دی تھی۔

جہاں نیوزی لینڈ کی جانب سے اس حملے کے بعد سامنے آنے والے ردِ عمل کی بڑے پیمانے پر تعریف کی گئی تھی وہیں یہ تنقید بھی کی گئی تھی کہ شاید حکام نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر کیے جانے والے جرائم کی بڑھتی تعداد کو نظر انداز کیا ہے۔

اس کے ردِ عمل میں حکومت کی جانب سے رائل کیمشن آف انکوائری لانچ کی گئی۔ یہ نیوزی لینڈ کے قانون میں سب سے اعلیٰ درجے کی انکوائری سمجھی جاتی ہے۔

اس رپورٹ کو حتمی شکل دینے میں 18 ماہ لگ گئے اور اس دوران سینکڑوں افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جن میں سکیورٹی ایجنسیز، مسلمان کمیونٹی کے رہنما اور بین الاقوامی ماہرین شامل تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا ’اس 800 صفحوں کی رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے مسلمان کی حفاظت ضروری ہے۔ جو بھی نیوزی لینڈ کو اپنا گھر کہتا ہے چاہے وہ کسی بھی نسل، مذہب، جنس کا ہو اس کی حفاظت ضروری ہے۔‘