امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج: جو بائیڈن امریکہ کے 46ویں صدر منتخب، اب آگے کیا ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جو بائیڈن کے بارے میں یہ پیشگوئی کی جا رہی ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ اب کیا ہو گا؟
صدر ٹرمپ کو فوری طور پر اپنا سامان 1600 پینسلوینیا ایونیو میں منتقل نہیں کرنا ہو گا کیونکہ اس سے پہلے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا ہونا ابھی باقی ہے۔
یہ عموماً ایک سادہ عمل ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ کچھ اضافی پیچیدگیاں ہیں اور ممکنہ طور پر اس انتخاب کو قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

جو بائیڈن کب صدر بنیں گے؟
یہ امریکی قانون میں لکھا ہوا ہے کہ نئے صدارتی دور کا آغاز 20 جنوری کی دوپہر کو ہوتا ہے۔
یہ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب میں ہوتا ہے۔ نئے صدر اور نائب صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہیں۔ ان سے یہ حلف سپریم کورٹ کا چیف جسٹس لیتا ہے۔
تو یہ توقع کی جا رہی ہے کہ جو بائیڈن اور کملا ہیرس 20 جنوری کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس طریقہ کار میں کچھ چیزوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔ اگر صدر کی موت ہو جائے یا وہ مستعفی ہو جائیں تو جلد از جلد نائب صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

صدارتی منتقلی کیا ہے؟
یہ الیکشن کے نتائج اور 20 جنوری کو نئے صدارتی دور کے آغاز کے درمیان کا عرصہ ہوتا ہے۔
آنے والا صدر ایک گروپ بناتا ہے، جسے ٹرانزیشن ٹیم کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ٹیم صدر کی حلف برداری کے بعد فوری بعد اقتدار حاصل کرنے کی تیاری کرتی ہے اور جو بائیڈن پہلے ہی ٹرانزیشن ویب سائٹ بنا چکے ہیں۔
وہ لوگوں کو کابینہ میں کام کرنے کے لیے منتخب کرتے ہیں، ترجیحی پالیسیوں پر بات چیت ہوتی ہے اور حکومت چلانے کی تیاری کی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ٹیم کے ممبران وفاقی ایجنسیوں میں جاتے ہیں تاکہ وہ بجٹ کی ڈیڈ لائن، سٹاف کیریئر اور اس جیسے دیگر امور کے بارے میں بریفنگ حاصل کریں۔
وہ آنے والے سٹاف کے لیے تمام معلومات حاصل کرتے ہیں اور حلف برداری کے بعد بھی مدد کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔
سنہ 2016 میں اس وقت کے صدر براک اوباما نے اپنے بعد آنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور اوول آفس سے جاری ہونے والی تصاویر بتاتی ہیں کہ ان کے درمیان گرمجوشی کس قدر کم تھی اور بعد میں بھی ایسا ہی رہا۔
جو بائیڈن نے اپنی ٹرانزیشن ٹیم بنانے میں کئی ہفتے لگائے ہیں، اس کے لیے فنڈ اکھٹا کیا اور گذشتہ ہفتے انھوں نے ویب سائٹ بھی لانچ کی ہے۔

ہم کیا لفظ بہت زیادہ سنیں گے؟
نو منتخب صدر: جب کوئی امیدوار جیت جاتا ہے اور ابھی اس نے بطور نئے صدر کے عہدے کا حلف نہیں اٹھایا ہوتا تو انھیں نو منتخب صدر کہا جاتا ہے۔
کابینہ: جو بائیڈن جلد ہی یہ اعلان کریں گے کہ انھیں اپنی کابینہ میں کون کون چاہیے اور اعلیٰ حکومتی سطح پر کونسی ٹیم ہو گی۔ اس میں تمام اہم اداروں کے سربراہان اور ایجنسیاں شامل ہوں گی۔
تصدیقی سماعت: حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر بہت سی پوسٹس کے لیے صدر کے چناؤ کو سینیٹ کی توثیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو بائیڈن جن لوگوں کو منتخب کریں گے، سینیٹ کی کمیٹیاں ان کا انٹرویو کریں گی اور پھر ووٹ کے ذریعے ان کو توثیق ملے گی یا انھیں مسترد کیا جائے گا۔
سیلٹک: صدر منتخب ہونے کے بعد جو بائیڈن کو خفیہ سروس کی جانب سے اضافی سکیورٹی دی جائے گی اور ان کا کوڈ نام سیلٹک ہو گا۔ یہ نام امیدوار کی جانب سے چنا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام موگل تھا جبکہ اطلاعات کے مطابق کملا ہیرس نے اپنے لیے ’پاینیئر‘ کے نام کا انتخاب کیا ہے۔

کیا قانونی دشواریاں ہوں گی؟
لازمی طور پر کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ان تمام ریاستوں، جن کو جیتنے کا ’بائیڈن دعوی کرتے ہیں‘ کو چیلنج کریں گے۔ ٹرمپ ان ریاستوں میں بغیر کوئی ثبوت پیش کیے دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں۔
اور ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کی مہم کی قیادت اعلیٰ وکلا کر رہے ہیں۔
ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے کچھ ووٹوں کو مسترد کرنے کی ان کی یہ کوششیں ریاستی عدالتوں میں شروع ہوں گی لیکن یہ ختم سپریم کورٹ میں ہو سکتی ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کے خیال میں قانونی چارہ جوئی سے نتائج تبدیل ہونے کا امکان نہیں۔
ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے دائر درخواستوں سے چند ریاستوں میں دوبارہ گنتی بھی متوقع ہے لیکن اس سے نتائج میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جارہی۔

اگر صدر ٹرمپ نتائج تسلیم نہ کریں تو کیا ہو گا؟
انتھونی زورچر، نامہ نگار شمالی امریکہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ وہ نتائج کو چیلنج کریں گے۔ اگر ان کی ایسا کرنے کی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو ان پر عوامی سطح پر اس شکست کو تسلیم کرنے کا دباؤ بڑھ جائے گا لیکن کیا انھیں تسلیم کرنا ہے؟
ہارنے والے امیدوار کی جانب سے جیتنے والے امیدوار کو خیرسگالی ٹیلیفون کال کرنا امریکی سیاست کی ایک باعزت روایت ہے۔لیکن یہ کسی صورت میں لازمی نہیں۔
مثال کے طور پر سنہ 2018 میں گورنر کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار سٹیسی ابرامز نے ووٹوں کی دھوکہ دہی اور دھمکیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی حریف امیدوار برائن کیم سے شکست تسلیم نہیں کی تھی۔
تاہم نئے دور کے صدارتی انتخاب میں ایسا کبھی نہیں ہوا مگر امریکی ریاست جورجیا میں جب تک قانونی طور پر تنائج مرتب نہیں ہو جاتے حکومتی مشینری اپنا کام جاری رکھے گی چاہے صدر ٹرمپ کچھ بھی کر لیں۔
البتہ صدر ٹرمپ کے لیے ضروری نہیں کہ وہ شکست تسلیم کریں اور چہرے پر مسکان سجائے جو بائیڈن کی صدارتی تقریب میں شرکت کریں تاہم ان کی چند قانونی ذمہ داریاں ضرور ہیں۔
ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ کو حکم دیں کہ وہ جو بائیڈن کی ٹیم کو کام سونپنے کی تیاری مکمل کریں، ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے مطابق یہ کام وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کے عہدے پر ایک غیر روائیتی امیدوار کے طور پر براجمان ہوئے تھے جنھیں قدیم سیاسی اقدار اور روایات کو توڑنے کا کوئی خوف نہیں۔ اگر وہ ایسا چاہتے ہیں تو وہ یہاں سے اسی انداز سے رخصت بھی ہو سکتے ہیں۔

اقتدار کی منتقلی کے دورانیے میں کملا ہیرس کیا کریں گی؟
نائب صدر منتخب ہونے والی کملا ہیرس اس دوران اپنے عملے کی تعیناتی کریں گی اور سابقہ انتظامیہ سے اپنی ذمہ داریوں کے متعلق معلومات لیں گی۔
امریکی نائب صدر کا دفتر وائٹ ہاؤس کے مغربی حصے میں ہوتا ہے لیکن وہ وہاں رہائش پذیر نہیں ہوتے۔
یہ روایت ہے کہ وہ یو ایس نیول آبزرورٹی کے علاقے میں رہتے ہیں جو شہر کے شمال مغربی حصے میں ہے اور اس کا فاصلہ وائٹ ہاوس سے دس منٹ کی مسافت پر ہے۔
کملا ہیرس کے شوہر ڈاؤگ ایم ہوف ایک وکیل ہیں جو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے مقدمات دیکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے شوہر کے پہلی شادی سے دو بچے، کولی اور ایلا ہیں جن کے ساتھ تعلق کو کملا پیار سے ’مومالا‘ کے لقب سے پکارتی ہیں۔
واضح رہے کہ ’مومالا‘ کی اصطلاح ایسی خاتون کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو اپنے سوتیلے بچوں کا خیال رکھے۔

وائٹ ہاؤس میں رہنا کیسا ہے؟
یہ اب تو اس وقت سے بہت اچھا ہے جب سنہ 1800 میں پہلا صدارتی جوڑا جان اور ابیگیل ایڈمز وائٹ ہاؤس کی عمارت میں منتقل ہوئے تھے۔ تب یہ عمارت زیر تعمیر اور نامکمل تھی۔
آج کل یہ توقع کی جاتی ہے کہ نئے صدر اور ان کے خاندان کو وائٹ ہاؤس کے لیے نئے فرنیچر اور تزئین و آرائش کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے کا فرنیچر استعمال سے خراب ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے کانگریس ان کے لیے ایک خاص رقم پہلے ہی مختص کر دیتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے رہائشی حصے میں 132 کمرے اور 35 باتھ روم ہیں۔
خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا تعلق فیشن انڈسٹری سے تھا لہذا وائٹ ہاوس کی شاندار تزئین و آرائش انھوں نے کی تھی اور وہ کرسمس کے موقع پر شاندار سجاوٹ کی انچارج بھی ہوا کرتی تھیں۔












