امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج: کیا نتائج سے متعلق ڈراؤنا خواب اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے؟

صدر ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ بدھ کی الصج یہ دعوی کر چکے ہیں کہ انہوں نے انتخابات جیت لیے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان پر ان کے حریفوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے بلکہ ان کی جماعت کے بھی بعض ارکان نے ان کے اس بیان کی مذمت کی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ انتخابات کے نتائج جو بھی ہوں لیکن کیا صدر ٹرمپ کے بیان سے جو نقصان ہونا تھا وہ چکا ہے؟

صدر ٹرمپ کئی ہفتوں سے اس طرح کی باتیں کر رہے تھے کہ اگر انتخابی نتائج میں مقابلہ ٹکر کا ہوا تو ڈیموکریٹک پارٹی کے انکے سیاسی حریف انتخابات میں دھاندلی اور ووٹوں کی چوری کے ملزم ہونگیں۔

منگل کو رات گئے انہوں نے بالکل ایسا ہی کیا۔ ابھی جبکہ لاکھوں قانونی ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے انہوں نے پہلے ہی خود فاتح قرار دے دیا ہے۔

انہوں نے دعوی کیا ’ہم یہ انتخابات جیتنے کی تیاری کررہے ہیں۔ میں اگر صاف گوئی سے کام لوں تو ہم انتخابات جیت چکے ہیں‘۔

اس دعوی سے متعلق کوئی بھی شواہد دیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں ’دھاندلی ہوئی ہے۔ یہ ہمارے ملک کے ساتھ بڑی بے ایمانی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس بارے میں قانون کا صحیح استعمال ہوا۔ اس لیے ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ووٹوں کی گنتی کو روک دیا جائے‘۔

یہ بھی پڑھیے

نتائج

انتخاب کے نتائج آنے سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان پر کہ وہ الیکشن جیت گئے ہیں فیس بک نے اپنے ردعمل میں تنبیہ جاری کی ہے۔

فیس بک کے ایک نمائندے نے این بی سی نیوز کو بتایا: 'جیسے ہی صدر نے قبل از وقت فتح کے دعوے کرنا شروع کیے، ہم نے فیس بک اور انسٹاگرام کے صارفین کو نوٹیفیکیشن جاری کیے تاکہ سب جان سکیں کہ ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور فاتح کی پیشگوئی نہیں کی گئی۔'

’اشتعال انگیز، غلط اور جو پہلے کبھی نہیں ہوا‘

جاں بائیڈین

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجوبائیڈین کا کہنا ہے کہ انتخابات اس تک ختم نہیں ہونگے جب تک ایک ایک ووٹ کی گنتی نہیں ہوجاتی ہے۔

اس بیان پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان اور یہاں تک کہ خود صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے فورا ردعمل سامنے آیا۔

صدر ٹرمپ کے حریف جوبائیڈین کا کہنا تھا کہ انتخاب تب تک ختم نہیں ہوگا 'جب تک ہر ایک ووٹ کی گنتی نہ ہوجائے‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہم جیت کے راستے پر ہیں‘۔

'بائیڈین فار پریزیڈینٹ' نامی مہم کے مینیجر جین او میلی ڈیلون کا کہنا تھا کہ یہ بیان ' اشتعال انگیز، غلط ہے اور اس کی مثال نہیں ملتی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اس لیے اشتعال انگیز ہے کیونکہ یہ بیان امریکیوں سے ان کے جمہوری حق کو چھین لینے کے مترادف ہے۔ یہ بے مثال ہے کیونکہ امریکہ کی تاریخ میں کبھی بھی کسی بھی صدر نے امریکیوں کو ایک قومی الیکشن میں اپنے حق کےاستعمال کی آزادی سے محروم کرنے کی کوشش نہیں کی ہے‘۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن ایلیکسزینڈریا کورٹز نے ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’غیرقانوی خطرناک اور آمرنہ‘ بیان ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے ’ووٹوں کی گنتی ہونے دو اور نتائج کا احترام کرو‘۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

یہاں تک کہ رپبلکن پارٹی کے بعض ارکان نے صدر ٹرمپ کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ریاست پنسلوینیا کے سابق رپبلکن سینیٹر رک سینٹورم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بیان سے وہ کافی 'پریشان ہیں'۔ انہوں نے سی این این کو بتایا کہ ’دھاندلی کے لفظ کا استعمال۔۔ ۔۔میرے خیال سے غلط ہے‘۔

ٹی وی میزبان، کنزرویٹو پارٹی کے کمنٹیٹراور صدر ٹرمپ کے ناقد بین شاپیرو نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان ’بے حد غیر ذمہ دارانہ ہے‘۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد نائب صدر مائیک پینس نے بظاہر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتح کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات زور دیا کہ قانونی طور پر ہر ایک ووٹ کی گنتی کی جائے گی۔

’نقصان ہوچکا ہے‘

ووٹوں کی گنتی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنووٹروں کی تعداد کے اعتبار سے امریکی کی اہم ریاستوں میں سے ایک پینسلوینا میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے رپورٹر اینتھونی زرکر کا کہنا ہے کہ جو نقصان ہونا تھا وہ ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا ’آخر میں چاہے صدر ٹرمپ فاتح ہوں یا شکست کا سامنا کریں، انہوں نے انتخابات پر شک اور شبہات کا سایا ڈال دیا ہے اور امریکہ کی جمہوریت کے پورے نظام پر سوال کھڑا کردیا ہے‘۔

کورونا کی وبا کے دوران متعدد امریکیوں نے باقاعدہ ووٹنگ کے آغاز سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ووٹوں کی گنتی میں معمول سے زیادہ وقت لگے گا۔

بعض ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

اینتھونی زرکر کا کہنا ہے کہ امریکی انتخاب 'ایک ایسے مرحلے میں جا پہنچا ہے جس کا متعدد امریکیوں نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا۔ ایک ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے جہاں امریکہ کے صدر وائٹ ہاؤس میں رہتے ہوئے ووٹوں کی گنتی پر سوالیہ نشان کھڑا کررہے ہیں‘۔

واضح رہے کہ میڈیا کی جانب سے متعدد بار یہ سوال پوچھے جانے پر کہ اگر صدر ٹرمپ انتخاب میں شکست کھاتے ہیں تو وہ شکست کا اعتراف کریں گے یا نہیں، صدر ٹرمپ اس بارے میں کوئی بھی واضح جواب دینے سے انکار کرتے آئے ہیں۔

گزشتہ ہفتوں میں یہ غیر معمولی بحث بھی زور پر ہے کہ اگر وہ ہار جاتے ہیں تو کیا وائٹ ہاؤس سے زبردستی صدر کو ہٹانے کے لیے فوج، خفیہ ادارے اور پولیس کو بلانا پڑے گا۔

مقابلہ اپنی انتہا پر

وائٹ ہاؤس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس کے باہر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے

صدارتی عہدے کا مقابلہ ایک ایسے نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں اب صرف چند ریاستوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جن کے نتائج کسی بھی امیدوار کے لیے وائٹ ہاؤس تک کی راہ ہموار کرنے میں بے حد اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان میں ریاست ایریزونا، وسکونسن، مشیگن، پنسلوینیا اور جارجیا شامل ہیں۔

نتائج

ووٹوں کی گنتی سے متعلق کسی بھی قانونی کارروائی کے لیے سپریم کورٹ جانے سے پہلے ریاستی عدالتوں کا دروازوں پر دستک دینی ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو حالیہ صدارتی انتخاب کے نتائج میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

اس دوران یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے غیر یقینی کی اس صورت حال میں مظاہرے اور جھڑپیں نہ شروع ہوجائیں۔

انتخاب کے قریب بھی ملک کے مختلف حصوں میں مظاہریں اور چھوٹی موٹی چھڑپیں ہوئی تھیں۔ یہاں تک کے وائٹ ہاؤس کے باہر بھی مظاہرہ ہوا تھا۔

نامہ نگار زرکر کا کہنا ہے کہ 'جس کو کبھی ایک ڈراؤنا خواب تصور کیا جاتا تھا اب وہ حقیقت کا روپ اختیار کر رہا ہے۔ بائیڈین دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ جیت کی راہ پر ہیں اور ٹرمپ فراڈ اور ووٹ چوری کے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔

’ایسے میں تلخ اور طویل عدالتی جنگ کی دوسری جانب ہارنے والے کے حامیوں کے پاس غصے کے علاوہ کچھ نہیں رہ جاتا اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔‘