امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج: اب تک کوئی فیصلہ کیوں نہیں ہو سکا؟

Trump and Biden supporters

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شاید آپ کو توقع ہو گی کہ اب تک امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے بارے میں کسی قسم کا کوئی حتمی اشارہ مل جائے گا، یعنی انتخاب میں فتح کون سا امیدوار سمیٹنے جا رہا ہے۔

فی الحال ہم یہ نہیں جانتے کہ امریکہ کا اگلا صدر کون بننے جا رہا ہے کیونکہ ابھی تک بہت سے ووٹوں کی گنتی نہیں ہو پائی ہے جس سے اس بات کا واضح تعین ہو سکے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یا جو بائیڈن میں سے کون جیتے گا۔

درحقیقت اس وبائی مرض کے دوران ہونے والے انتخاب کے دوران پوسٹل ووٹوں کی بڑی تعداد کو گننے کے لیے جتنا وقت درکار ہے، اس کی وجہ سے حتمی نتائج آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

اور اگر نتائج کو کسی امیدوار کی جانب سے قانونی طور پر چیلنج کیا جاتا ہے تو اس صورت میں فیصلہ ہونے میں ہفتوں بھی لگ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تو کیا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا؟

امریک میں صدر بننے کے لیے آپ کو اصل میں پاپولر ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے یعنی جو زیادہ تعداد میں ووٹ حاصل کرے گا وہی جیتے گا۔ اس کے بجائے الیکٹورل کالج کہلائے جانے والے نظام میں کسی امیدوار کو اکثریت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ الیکٹورل کالج کے نظام کے تحت ہر امریکی ریاست کو اپنی آبادی کے تناسب کے حساب سے تقریباً ایک خاص تعداد میں ووٹ یا ’الیکٹورل‘ حاصل ہوتے ہیں۔

لہذا اگر آپ اس ریاست کو جیتتے ہیں تو آپ کو مختص تعداد میں اس ریاست کے ووٹ مل جاتے ہیں۔ امریکہ بھر میں الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی مجموعی تعداد 538 ہے اور جو صدارتی امیدوار ان میں سے 270 ووٹ حاصل کرے گا وہ جیت جائے گا۔

تاہم کچھ ریاستیں انتہائی اہم ہیں جن کے رائے دہندگان انتخاب کا حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ سوئنگ سٹیٹس ہیں یعنی وہ ریاستیں جو کسی ایک مخصوص جماعت کا گڑھ نہیں ہوتی ہیں۔

Donald Trump, left, and Joe Biden, right

،تصویر کا ذریعہReuters

اب تک یہ صورتحال ہے:

  • اُن ریاستوں سے بائیڈن اور ٹرمپ کے جیتنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے جہاں سے انھیں آسانی سے کامیابی کی توقع تھی
  • کچھ اہم مسابقتی ریاستوں میں ابھی بھی بہت کانٹے کا مقابلہ چل رہا ہے
  • ان سخت مقابلے والی ریاستوں میں سے کچھ میں تو اب تک عہدیداروں نے پوسٹل ووٹوں کی گنتی بھی شروع نہیں کی، اور یہ پوسٹل ووٹ سب کچھ بدل سکتے ہیں

آئیے ان میں سے کچھ ریاستوں پر نظر ڈالتے ہیں

فلوریڈا: فلوریڈا سے ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی پیش گوئی کی جا رہی تھی، یہاں میامی ڈیڈ کاؤنٹی میں انھیں کیوبن امریکی ووٹ ملنے کی توقع ہے۔

ایریزونا: اس ریاست نے سنہ 1996 سے رپبلکنز کو ووٹ نہیں دیا لیکن اب یہ بائیڈن کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ انھوں نے وہاں رہنے والے نوجوان ترقی پسند لاطینیوں کے ساتھ انتخابی مہم میں خاصا وقت گزارا ہے۔

وسکونسن اور پنسلوینیا: ان ریاستوں نے پوسٹل ووٹوں کی گنتی بھی شروع نہیں کی ہے اور اس میں کچھ دن لگ سکتے ہیں۔

ایک لائن میں رات کی کہانی؟

ڈونلڈ ٹرمپ توقع سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور جو بائیڈن ان ریاستوں کو جیتنے میں ناکام ہو گئے ہیں جہاں تیزی سے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا گیا، جس کا مطلب ہے مزید غیر یقینی صورتحال، کیونکہ ابھی کچھ اہم ریاستوں سے نتائج کا انتظار ہے۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا مجھے رات کو جاگنا چاہیے تھا؟

  • ٹرمپ کے اتحادی سینیٹر لنڈسے گراہم کو جنوبی کیرولائنا میں اپنے ڈیموکریٹک مقابل جیم ہیریسن کے مقابلے میں جیتنے کا امکان ہے، ایسا مقابلہ جس میں ایک موقع پر ایسا لگتا تھا جیسے وہ ہار جائیں گے
  • ریپبلکن مارجوری ٹیلر گرین، جو QAon سازشی تھیوری کی کھلے عام اتحادی ہیں، کانگریس میں ایک نشست جیت گئی ہیں، وہ بلا مقابلہ کھڑی تھیں
  • سینیٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کی دوڑ میں بھی، ڈیموکریٹس نے اپنی سب سے کمزور نشست الاباما کو کھو دیا، لیکن کولوراڈو رپبلکنز کے حصے میں آیا
  • ڈیلاور سے سارہ میک برائیڈ کے منتخب ہونے کے بعد امریکہ کے پاس ایک ایسی ٹرانس جینڈر منتخب عہدیدار ہیں جنھیں سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں

تو اب کیا ہو گا؟

ہم شاید کئی دنوں تک نہیں جان پائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ مقابلہ پوسٹل ووٹوں کی گنتی میں تبدیل ہونے والا ہے، جن کی گنتی ابھی مشیگن، وسکونسن اور پنسلوانیا جیسے مقامات میں نہیں کی جا سکی ہے۔

اس معاملے میں عدالت کو ملوث کیا جا سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ کم ووٹوں سے ہارنے کی صورت میں وہ قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ ممکنہ طور پر حتمی فیصلے میں ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

کیا غیر یقینی صورتحال بدامنی کا باعث بنے گی؟ یقینی طور پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے والی ہے، اگرچہ بہت سارے امریکیوں نے اپنے خدشات کے بارے میں بات کی ہے، لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آیا وہاں کوئی خاص بدامنی ہو گی یا نہیں۔