کورونا وائرس: پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک وبا کی دوسری لہر کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی سطح پر کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشات کے تحت ضروری اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض یورپی ممالک میں لاک ڈاؤن جبکہ بیشتر ممالک میں حفاظتی ہدایات پر عملدرآمد پر دوبارہ زور دیا جا رہا ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 46,312,467 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ کووڈ 19 سے ہونے والی اموات کی تعداد 1,198,000 ہے اور 30,917,946 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
پاکستان میں دوسری لہر کا خدشہ
پاکستان میں حکومتی سطح پر پہلی نومبر کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ نئے متاثرین (1123) کی تصدیق کی گئی جبکہ پہلی نومبر کو ملک بھر میں 12 اموات بھی ہوئیں اور تین ماہ بعد یومیہ متاثرین میں اچانک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس وقت پاکستان میں کل متاثرین کی تعداد 335093 ہے جن میں سے 315016 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ 13242 فعال مریض ہیں۔ ملک میں ہونے والی کل اموات 6835 ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ کے ساتھ تمام عوامی مقامات (عمارت کے اندر اور باہر) ماسک پہننا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کے تحت صرف اپنے گھر، کار اور پارکس میں ماسک اتارنے کی اجازت ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ شہر میں کووڈ 19 تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بعض مقامات کو سیل کر کے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں سب سے زیادہ نئے کیسز سندھ اور پنجاب میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ سندھ میں متاثرین کی مجموعی تعداد 145,851 ہے جو کہ ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد پنجاب میں 145,851 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت فیصل سلطان نے کہا تھا کہ ’ہم پاکستان میں دوسری لہر کا آغاز دیکھ رہے ہیں جو لوگوں کو زندگیوں اور روزگار کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔۔۔ اس سے نظامِ صحت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔‘
انڈیا میں چار ماہ میں سب سے کم ہلاکتیں
انڈیا میں کورونا وائرس کے وار جاری ہیں تاہم وہاں کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ وبا کے عروج کا دورانیہ گزر چکے ہیں۔ اتوار کو انڈیا میں 470 اموات کی تصدیق ہوئی جو کہ گذشتہ چار ماہ میں کورونا سے سب سے کم ہلاکتیں ہیں۔
انڈیا میں اتوار کو 46,964 نئے متاثرین کی تصدیق کی گئی۔ ملک میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 8,184,082 ہے جبکہ 122,111 اموات ہوئی ہیں۔
سعودی عرب میں غیر ملکی مسلمانوں کو عمرہ کی اجازت مل گئی
سعودی عرب میں کورونا وائرس کے حوالے سے عائد کی گئی پابندیوں میں کمی آ رہی ہے اور ملک میں سات ماہ بعد غیر ملکی مسلمانوں کو عمرہ ادائیگی کی اجازت مل گئی ہے۔
سعودی عرب میں اب تک کورونا کے 347282 متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ ملک میں اس وائرس کے باعث پانچ ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انگلینڈ میں لاک ڈاؤن کے اعلان پر ملا جلا ردعمل
کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشات کے پیشِ نظر انگلینڈ میں ایک ماہ کے لیے ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے جس کا اطلاق 5 نومبر سے ہو گا۔
انگلینڈ کے نئے لاک ڈاؤن میں گھر سے بلا ضرورت باہر نکلنے اور گھر میں دعوت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ مے خانے، بارز اور ریسٹورینٹس بند رہے گے۔ تاہم سکول اور یونیورسٹیاں کھلیں رہے گیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس کے ردعمل میں مذہبی گروہوں کی طرف سے اجتماعی عبادت پر پابندی کی مخالفت کی گئی ہے۔
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی رائے اس اعلان پر منقسم ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ وہ اس مرتبہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار ہوں گے، بعض اس حوالے سے کوشاں ہیں کہ روزگار کے لیے وہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں گے اور کئی لوگ مالی معاونت کے لیے حکومت کے منتظر ہیں۔
برطانیہ میں اب تک 10 لاکھ 14800 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور 46,645 اموات ہوئی ہیں۔
چند یورپی ممالک میں لاک ڈاؤن
یورپ میں برطانیہ کے علاوہ فرانس، جرمنی، بیلجیئم اور یونان میں رواں سال کے دوسرے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔ جبکہ سپین اور اٹلی میں حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
سپین اور فرانس کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں 1,412,709 متاثرین اور 123,095 اموات ہوئی ہیں جبکہ سپین میں 1,185,678 متاثرین اور اموات کی تعداد 150,376 ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سپین میں دوسری لہر کے خدشات میں اس وقت اضافہ ہوا جب متاثرین میں تازہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک کے بعض علاقوں میں کورونا کی روک تھام کے لیے حال ہی میں نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور صحت کی ہنگامی صورتحال میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں کرفیو لگایا گیا ہے جس کے مطابق رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک گھر سے باہر نکلنے پر پابندی ہو گی۔
ان پابندیوں کے خلاف مختلف شہروں میں ایسے نوکری پیشہ افراد کی جانب سے مظاہرے کیے گئے جن کے مطابق ان اقدامات سے ان کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری طرف فرانس میں صرف سات ماہ میں دوسرا ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ چار ہفتوں کا یہ لاک ڈاؤن 29 اکتوبر سے شروع ہوا ہے اور اس سے چھ کروڑ 70 لاکھ شہری متاثر ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس کے حکام کے مطابق پہلے لاک ڈاؤن سے موصول ہونے والے مثبت نتائج کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
فرانس کے اس دوسرے لاک ڈاؤن میں سکول کھلے رہیں گے۔ طبی و دیگر ضروری شعبوں سے وابستہ افراد کے علاوہ باقی لوگوں سے 1 دستمبر تک گھروں تک محدود رہنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ غیر ضروری کاروبار بند رکھنے کا کہا گیا ہے۔
ویکسین بنانے کی دوڑ
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا کا کہنا ہے کہ برطانوی صحت عامہ کے نگراں ادارے نے ان کی ممکنہ ویکسین، جسے آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے بنایا گیا تھا، کی منظوری کے لیے جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی ویکسین نوجوان اور عمر رسیدہ دونوں طرح کے لوگوں میں وائرس کے خلاف مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ویکسین بنانے کی اس دوڑ میں ان کے علاوہ فائزر، جانسن اینڈ جانسن اور ماڈرنا بھی ہیں جن کی ممکنہ ویکسینز اختتامی مراحل میں ہیں۔
لیکن حکومتی نگراں اداروں سے منظوری کے بعد ہی ان میں سے کسی ویکسین کی پیداوار وسیع پیمانے پر شروع ہو سکے گی۔
آسٹریلیا: پانچ ماہ میں پہلی بار کورونا کے صفر نئے متاثرین
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو آسٹریلیا میں صحت عامہ کے حکام نے کہا ہے کہ پانچ ماہ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ملک میں ایک بھی نئے شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔
اس کے ساتھ ملک میں کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی زیرِ غور ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہاں اب تک 907 اموات اس عالمی وبا کے باعث ہوئی ہیں۔ ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ ہلاکتیں وکٹوریا میں ہوئی ہیں۔
وکٹوریا کے چیف ہیلتھ آفیسر نے عندیہ دیا کہ وہاں عوامی نقل و حرکت پر عائد سختیوں کو کم کیا جاسکتا ہے تاہم انھوں نے لوگوں سے سماجی دوری سمیت دیگر حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ میں صدارتی انتخاب سے قبل ریکارڈ نئے متاثرین
امریکہ اب تک عالمی سطح پر کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ صدارتی انتخاب سے چند روز قبل یہاں ریکارڈ 94 ہزار نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر یہاں متاثرین کی تعداد 9,140,734 ہے جبکہ کورونا سے 1,198,000 اموات ہو چکی ہیں۔
منگل کو نئے امریکی صدر کے لیے ووٹنگ ہو گی اور فی الحال ملک میں ایسی 21 ریاستوں میں وبا پھیلی ہوئی ہے جو صدارتی انتخاب میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔













