سعودی عرب: کورونا کی وبا کے باعث عائد عارضی پابندی ختم، غیر ملکی مسلمانوں کی جانب سے عمرے کی ادائیگی، تصاویر میں

سعودی عرب، غیر ملکی، عمرہ

،تصویر کا ذریعہReuters

باقی دنیا کی طرح سعودی عرب بھی کورونا وائرس کی عالمی وبا سے متاثر ہوا اور اس دوران مسلمانوں کے لیے مقدس شہر مکہ میں غیر ملکی شہریوں کے لیے عمرے کی ادائیگی پر پابندی رہی۔ لیکن اب سات ماہ بعد سعودی حکام نے غیر ملکی مسلمانوں کو بھی مسجد الحرام میں عمرہ ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اتوار کو 10 ہزار غیر ملکی عازمین عمرہ کرنے کے لیے یہاں پہنچے۔ مذہبی عقائد کے مطابق مسلمان کسی بھی وقت عمرہ کر سکتے ہیں تاہم حج سال میں صرف ایک مرتبہ حج کے مہینے، یعنی ذولحج، میں ممکن ہوتا ہے۔

سعودی عرب، غیر ملکی، عمرہ

،تصویر کا ذریعہReuters

ان غیر ملکی مسلمانوں کو سعودی عرب آمد پر تین روز کے لیے خود ساختہ آئسولیشن (تنہائی) میں رہنا پڑا تاکہ کورونا وائرس کی روک تھام ممکن ہوسکے۔

تین روز کی آئسولیشن کے بعد انھوں نے مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ اس دوران بعض مسلمان عام طور پر خانہ کعبہ کو چھوتے ہیں اور حجرہ اسود کو بوسہ دیتے ہیں لیکن کووڈ 19 کی حفاظتی تدابیر میں اس پر پابندی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب، غیر ملکی، عمرہ

،تصویر کا ذریعہReuters

کووڈ 19 سے بچنے کے لیے سعودی عرب میں بعض مقامات میں لاک ڈاؤن اور سختیاں عائد تھیں۔ لیکن اب انھیں آہستہ آہستہ بحال کیا جا رہا ہے۔ مساجد کو کھول دیا گیا ہے اور کئی مساجد میں عبادت کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔

سعودی عرب، غیر ملکی، عمرہ

،تصویر کا ذریعہReuters

اکتوبر میں لوگوں کو عمرہ کرنے کی اجازت دے دی گئی لیکن اس کے ساتھ عازمین کی تعداد مقرر کی گئی تھی۔ اور اسے اب بتدریج بڑھا کر غیر ملکیوں کو بھی عمرے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

سماجی دوری، حج

،تصویر کا ذریعہReuters

رواں سال جولائی میں صرف 10 ہزار سعودی مسلمانوں کو حج ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

عام حالات میں سالانہ لاکھوں افراد حج کرتے ہیں۔ نیچے دی گئی یہ تصویر 2016 کی ہے اور اس میں عازمین کی ایک بڑی تعداد کو دیکھا جاسکتا ہے۔

سعودی عرب، غیر ملکی، عمرہ، حج، 2016

،تصویر کا ذریعہEPA

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سعودی حکام نے عمرے کی ادائیگی کے لیے حفاظتی ہدایات اور سماجی فاصلے پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔