کورونا وائرس: سماجی دوری کے ضابطوں کے ساتھ عمرہ بحال، پہلے مرحلے میں روزانہ 6000 افراد کو عمرہ کرنے کی اجازت

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب کی جانب سے عمرے پر عائد کردہ پابندی اٹھائے جانے کے بعد عبادت گزاروں نے اتوار کو مکہ میں عمرہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ سات ماہ سے کورونا وائرس کے باعث عمرہ تعطل کا شکار تھا۔
تاہم اب حکومت نے سعودی شہریوں اور وہاں مقیم افراد کو عمرہ کی ادائیگی کی اجازت دے دی ہے۔
غیر ملکی افراد کے لیے تاحال یہ پابندی برقرار ہے۔
عرب نیوز نے سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 27 ستمبر سے ایک اکتوبر کے درمیان عمرے کے لیے ایک لاکھ آٹھ ہزار 41 اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں جن میں سے 42 ہزار 873 اجازت نامے سعودی شہریوں جبکہ 65 ہزار 168 اجازت نامے غیر ملکی باشندوں کو دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا بھر سے سعودی عرب آنے والے مسلمان زائرین عمرہ سال کے کسی بھی حصے میں ادا کر سکتے ہیں جبکہ فریضہ حج صرف اسلامی کلینڈر کے مہینے ذی الحج میں ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔
ہر سال اسی لاکھ کے قریب افراد عمرہ کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں۔
سعودی حکومت کے مطابق عمرے کی بحالی تین مرحلوں میں کی جا رہی ہے اور پہلے مرحلے میں روزانہ 6000 افراد کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
دوسرے مرحلے میں یومیہ 15 ہزار زائرین عمرہ جبکہ 40 ہزار افراد نماز ادا کر سکیں گے جبکہ انھیں صرف ایپ کے ذریعے بُک کروائے گئے وقت پر ہی مسجد میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔
تیسرا مرحلہ نومبر میں شروع ہوگا جس کے تحت ہر روز 20 ہزار افراد بشمول بیرونِ ملک سے آنے والے افراد عمرہ ادا کر سکیں گے۔
ہر سال 20 لاکھ کے قریب افراد حج ادا کرتے ہیں۔
ابتدا میں یہ خبریں عام ہوئی تھیں کہ رواں سال حج موقوف کر دیا جائے گا تاہم رواں سال کورونا وائرس کے پیشِ نظر صرف ایک ہزار لوگوں کو حج ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters










