کورونا وائرس: برطانیہ میں متاثرین کی بڑھتی تعداد کے باعث ملک میں دوبارہ ایک ماہ کے لاک ڈاؤن کا اعلان

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خدشے کے پیش نظر اور متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے بڑھنے کے باعث برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے انگلینڈ میں دوبارہ ایک ماہ کا طویل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث قومی صحت کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروسز پر پڑنے والے بوجھ کی وجہ سے 'طبی اور اخلاقی تباہی' سے بچنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعرات سے غیر ضروری دکانیں اور ریسٹورینٹس اور بارز بند رہے گے، تاہم موسم بہار کے برعکس سکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں کھلی رہے گیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ لاک ڈاؤن کے تحت عائد پابندیاں دو دسمبر سے نرم ہونا شروع ہو گی اور علاقوں میں مرحلہ وار نظام کے تحت معمولات زندگی دوبارہ بحال کیے جائیں گے۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانس کا کہنا تھا ' ملک میں اس برس کرسمس تہوار کچھ مختلف ہو گا، شاید بہت زیادہ مختلف ہو، لیکن میں یہ دلی خواہش اور امید ہے کہ سخت اقدامات اپناتے ہوئے ہم کرسمس کے موقع پر ملک بھر میں خاندانوں کو ایک ساتھ اکٹھا ہونے کی اجازت دے سکیں گے۔'

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

برطانوی وزیر اعظم نے اپنے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان اقدامات کے باعث کاروبار پر پڑنے والے اثرات کے لیے 'انتہائی معذرت خواہ اور افسردہ ہیں'۔ لیکن انھوں نے کہا کہ حکومت نے ملازمین کی 80 فیصد تنخواہیں ادا کرنے کے نظام میں نومبر تک توسیع کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے جنوب مغربی حصے میں جہاں کورونا متاثرین کی تعداد سب سے کم ہے، وہاں کے ہسپتالوں بھی ہفتوں میں بھر جائیں گے۔
بورس جانسن کا کہنا تھا کہ 'ڈاکٹر اور نرسیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گی کہ کس مریض کا علاج کیا جائے، کس کو آکسیجن مہیا کی جائے اور کسے نہیں، کسے بچایا جائے اور کسے نہیں۔'
حالیہ لاک ڈاؤن پابندیوں کے تحت ریسٹورینٹس سے کھانا ٹیک آوے کی اجازت ہو گی جبکہ مے خانے، بارز اور ریستورانٹس گاہکوں کے لیے بند رہیں گے، اور عوام کو اپنے گھروں کے باہر صرف ایک شخص سے ملنے کی اجازت ہو گی۔
ملک میں لاک ڈاؤن کے دوران نافذ کی گئیں نئی پابندیوں کے تحت:
- عوام سے گھروں میں رہنے کو کہا گیا ہے اور انھیں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی تاحال وہ گھر سے دفتر یا کام یا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکیں۔
- شہریوں کو گھروں سے باہر صرف اکیلے ورزش کرنے کی اجازت ہو گی۔
- گھروں کے اندر یا گھروں کے باغیچے میں پارٹی منعقد کرنے کی یا کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
- مے خانے، بارز اور ریسٹورینٹس بند رہے گے تاہم ریسٹورینٹس سے کھانے لیجانے کی اجازت ہو گی۔
- تعمیراتی شعبے سے منسلک ادارے کھلے رہے گے۔
- عوام کو بائیو سکیور ببل بنانے کی اجازت ہو گی۔
- والدین میں علیحدگی کی صورت میں بچوں کو والدین کے پاس جانے کی اجازت ہو گی۔
- صحت کے مسائل سے دوچار افراد یا بزرگ شہریوں کو جنھیں وائرس سے زیادہ خطرہ ہے انھیں 'انتہائی احتیاط' برتنے کا کہا گیا ہے تاہم انھیں حفاظتی اقدامات کے تحت الگ نہیں کیا گیا۔
وزیر اعظم بورس جانسن جنھوں نے سنیچر کو کابینہ اجلاس کی صدارت کی وہ سوموار کو پارلیمان میں اس متعلق بیان دیں گے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں سنیچر کو مزید 21915 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد دس لاکھ 11 ہزار 660 ہو چکی ہے۔
جبکہ 326 افراد میں وائرس کے تصدیق ہونے کے 28 دنوں کے اندر ہلاک ہو چکے ہیں۔
برطانیہ دنیا میں امریکہ، انڈیا، برازیل، فرانس، روس، سپین، ارجنٹینا اور کولمبیا کے بعد نواں ملک ہیں جہاں کورونا متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم ملک میں وبا کے آغاز میں ٹیسٹنگ کی کمی کے باعث خیال کیا جاتا ہے کہ ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
پروفیسر نیل فرگسن، جن کی ماڈلنگ پہلے لاک ڈاؤن کو نافذ کرنے کے فیصلے کے لیے اہم تھی ، کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں اور سکولوں کو کھلا رکھنے کا مطلب ہے کہ اس بار انفیکشن مزید آہستہ آہستہ کم ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ نئی پابندیوں سے متاثرین کی تعداد میں 20 فیصد سے 80 فیصد کے درمیان کمی واقع ہوسکتی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ 'چاہے چند دن کے لیے ہی سہی' لیکن لوگ بڑے گروہوں میں کرسمس کے موقع پر اکھٹا ہو جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانوی وزیر اعظم جانسن نے پہلے بھی ملک گیر پابندیوں کو متعارف کرانے کے دباؤ کی مزاحمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ برطانیہ کی معیشت کے لیے 'تباہ کن' ہوں گے اور اس کے بجائے انگلینڈ میں مقامی متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کر کے تین سطحی نظام کا انتخاب کریں گے۔
نیوز کانفرنس سے قبل سکول اور یونیورسٹی یونینز نے تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں قومی سطح کے لاک ڈاؤن کے دوران بند کر کے تدریسی عمل کو آن لان منقتل کر دیا جائے
نیشنل ایجوکیشن یونین کا کہنا تھا کہ 'یہ خود سے جھوٹ' ہو گا اگر ہم اس بات کو جھٹلائیں کہ سکولوں نے اس وائرس کے پھیلاؤ میں کیسے کردار ادا کیا ہے۔
کالج اورسکول یونین کا مزید کہنا تھا کہ طلبا کو مسلسل کمپیس بلا کر تدریسی عمل کی صدر سے 'ملک کی صحت اور تحفظ کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔'
اس سے قبل اس بارے میں بی بی سی کو چند سرکاری دستاویزات حاصل ہوئیں تھی جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ملک میں سخت اقدامات نہ کیے گئے تو ہلاکتوں کی تعداد وباء کی پہلی لہر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ بی بی سی نے جو دستاویزات دیکھی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر مزید پابندیاں عائد نہ کی گئیں تو برطانیہ میں پہلی لہر کے مقابلے میں زیادہ اموات ہو سکتی ہیں۔
ایک ماڈل کے مطابق یومیہ اموات چار ہزار سے زیادہ تک پہنچ سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ موسم بہار کے دوران اس وبا کے عروج پر برطانیہ میں یومیہ اموات ایک ہزار سے زیادہ تک پہنچ گئی تھیں۔
یہ دستاویزات جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کا جائزہ لینے اور ان کی ماڈلنگ کرنے والے ایک گورپ ایس پی آئی ایم کی جانب سے وزیرِ اعظم بورس جانسن کو ایک بریفنگ کے دوران دکھائے گئے، جن میں بیماری کے پھیلاؤ سے متعلق مختلف پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔
تمام ماڈلز نے پیشگوئی کی ہے کہ دسمبر کے وسط میں انگلینڈ میں ہسپتالوں میں میں داخل ہونے والے مریضوں کی شرح عروج پر ہو گی اور جنوری کے شروع ہونے سے پہلے یعنی دسمبر کے آخر تک اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
حکومت میں گردش کرتی ایک الگ دستاویز میں خبردار کیا گیا ہے یہاں تک کہ اگر نائٹنگیل ہسپتالوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور ایسے طبعی معائنے جن کی فوری ضرورت نہ ہو، کو منسوخ کر دیا جاتا ہے، این ایچ ایس کرسمس تک مزید مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرنے سے قاصر ہو سکتا ہے۔
دستاویز میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر پندرہ دن کے اندر اندر جنوب مغربی انگلینڈ اور مڈلینڈز میں گنجائش ختم ہو جائے گی۔
یہ تازہ ترین مقالے سائنٹفک ایڈوائزری گروپ فار ایمرجنسیز (سیج) کی سرکاری دستاویزات کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کوویڈ انگلینڈ میں پیش گوئی کی گئی ’بدترین صورتحال‘ کے منظر نامے سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ان منظرنامے سے اندازہ لگایا گیا کہ سردیوں کے دوران کوویڈ سے 85 ہزار اموات ہو سکتی ہیں۔
لیکن 14 اکتوبر کی سیج دستاویز کے مطابق، جو جمعے کے روز شائع ہوئی ہے، سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق اکتوبر کے وسط تک انگلینڈ میں ہر روز کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 43 سے 74 ہزار تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’یہ نمایاں طور پر بدترین صورتحال سے بھی زیادہ ہے، جہاں انگلینڈ میں اکتوبر کے دوران یومیہ انفیکشن کی تعداد بارہ سے سے 13 ہزار کے درمیان رہی۔‘
21 ستمبر سے، جب یومیہ کیسز کی تعداد پانچ ہزار کے ارد گرد تھی، حکومت کو مشورہ دینے والے سائنسدان ایک مختصر اور منصوبے کے تحت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے لیے زور ڈالتے رہے ہیں۔
اس ماہ کے شروع میں عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن ’مستقل حل نہیں‘ اور ’شدید معاشی ، معاشرتی اور وسیع تر صحت کے اثرات‘ کی وجہ سے انھیں ’ایک محدود مدت‘ تک ہونا چاہیے۔
اگرچہ ڈبلیو ایچ او نے اعتراف کیا ہے کہ اس وبا کے دوران ’ایسے وقت بھی آئے جب پابندیوں کی ضرورت تھی اور مستبقل میں بھی ایسا ہو سکتا ہے‘ تاہم یہ کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن ’صحت عامہ کے طویل المیعاد اقدامات کی تیاری کے لیے سب سے بہتر استعمال ہوتے ہیں۔‘











