کورونا وائرس: لندن اور ایسیکس میں پابندیاں مزید سخت، پاکستان میں دوسری لہر کا خدشہ اور فرانس کے کئی شہروں میں کرفیو نافذ

،تصویر کا ذریعہEPA
برطانوی حکومت کی جانب سے لندن اور ایسیکس میں لاکھوں افراد میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشے کے باعث پابندیوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکاک نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ شراب خانوں اور ریستورانوں میں دیگر افراد سے گھلنے ملنے پر بھی پابندی ہو گی اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کم کرنے کی بھی ہدایت کی جائے گی۔
وزیرِ صحت نے کہا کہ ان پابندیوں کا اطلاق سنیچر سے ہو گا۔
یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت مقامی رہنماؤں کے ساتھ مل کر انگلینڈ کے دیگر حصوں میں سخت پابندیوں کے نفاذ کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ ساتھ گریٹر مانچسٹر کو بھی سب سے کڑی پابندی یعنی تیسرے درجے میں شامل کر لیا گیا ہے۔
لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ 'کوئی بھی مزید پابندیاں نہیں چاہتا لیکن لندن میں رہنے والوں کی حفاظت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPA Media
انھوں نے کہا کہ 'ہمارے پاس کوئی اور طریقہ موجود نہیں ہے'۔ انھوں نے لندن میں رہنے والوں کے لیے یہ پیغام دیا: 'آنے والا موسمِ سرما ہمارے لیے انتہائی مشکل ہو گا۔' لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’ہم مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔‘
اس نئے تین درجوں پر مشتمل نظام کو انگلینڈ کے ہر علاقے کے لیے درمیانے، زیادہ اور بہت زیادہ سطحوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
لیورپول سٹی ریجن کے علاوہ گریٹر مانچسٹر اور لنکاشائر بھی تیسرے درجے یعنی 'بہت زیادہ' میں آئیں گے۔ جمعرات کی صبح گریٹر مانچسٹر اور لندن میں اراکینِ پارلیمان کو وزرا کو دی جانے والی ان بریفنگز میں مدعو کیا گیا تھا۔
سیکریٹری صحت میٹ ہینکاک اراکین پارلیمان کے لیے تازہ ترین اقدامات سے متعلق اعلامیہ جاری کر رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران پورے انگلینڈ میں مانچسٹر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح دوسرے نمبر پر رہی ہے۔
اسی طرح نیوکاسل، ناٹنگھم، لیڈز اور شیفیلڈ میں لیورپول کے اکثر علاقوں سے زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں تاہم یہ ابھی تیسرے درجے میں نہیں ہیں۔
لندن میں 'ہائی الرٹ' کا مطلب کیا ہے؟
لندن کو کورونا وائرس کی پابندیوں کے دوسرے درجے میں رکھا جا رہا ہے اور چار دیواری میں گھر والوں کے علاوہ دیگر افراد سے ملنے پر پابندی ہو گی۔
اول سے درجہ دوئم میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے گھروں والوں کے علاوہ دیگر افراد سے گھلنے ملنے پر پابندی ہو گی۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں نافذ ہونے والی پابندیاں اپنی جگہ موجود ہیں جن میں چھ لوگوں سے زیادہ کے مجمع پر پابندی اور دس بجے سیاحتی صنعت سے منسلک جگہوں کو بند کرنا شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہمیں قومی سطح پر پابندیوں کی ضرورت ہے: لندن میئر
لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ وزرا لندن کے ہائی الرٹ میں جانے سے متعلق جلد کوئی اعلان ضرور کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے حکومت پر یہ واضح کیا ہے کہ ان نئی پابندیوں کے بعد لندن میں کاروباروں، ملازمین اور پبلک سروسز کو مزید تعاون کی ضرورت ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ حکومتی ناکامی ہے کہ وہ ٹیسٹ اینڈ ٹریس نظام نہیں چلا سکی جس کا مطلب یہ ہے کہ اب برطانیہ کو قومی سطح پر اقدامات کرنا ہوں گے۔‘
ساجد خان نے مختصر دورانیے کے لاک ڈاؤن کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اور وائرس کے پھیلاؤ کو قابلِ قبول درجے پر لایا جا سکتا ہے۔
'ہم بہار میں کووڈ 19 سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ ہزاروں افراد نے اپنی زندگیاں کھو دی تھیں اور ہماری معیشت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ ہم یہ دوبارہ نہیں چاہتے کہ حکومت فیصلوں میں تاخیر سے کام لے۔'
انھوں نے کہا کہ معیشت کو محفوظ رکھنا اور زندگیاں بچانے میں سے ایک کا انتخاب کرنے کی بات 'جھوٹ' پر مبنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’وائرس کا پھیلاؤ روک کر ہی ہم زندگیاں اور معیشت دونوں بچا سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان میں دوسری لہر کا خدشہ
پاکستان میں کورونا وائرس سے متعلق آگاہی فراہم کرنے والے مرکزی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر (این سی او سی) کے مطابق پاکستان میں کووڈ 19 کی دوسری لہر کا خدشہ موجود ہے اور گذشتہ چند دنوں کے دوران متاثرین میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
چیئرمین این سی او سی اسد عمر نے کہا ہے کہ قومی سطح پر گذشتہ روز مثبت متاثرین کی شرح یعنی انفیکشن ریٹ 2.37 رہا۔ ’یہ تعداد 50 روز بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، پچھلی بار یہ سطح 23 اگست کو دیکھی گئی تھی۔۔۔ یہ کورونا کے پھیلاؤ میں اضافے کی واضح نشانی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں 14 اکتوبر کو 755 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص اور 13 اموات ہوئیں۔ متاثرین کی یہ تعداد 24 ستمبر کے بعد سے سب سے زیادہ رہی۔
اسد عمر کے مطابق ’مظفرآباد اور کراچی میں مثبت متاثرین کی شرح بہت زیادہ ہے۔ لاہور اور اسلام آباد میں بھی متاثرین بڑھ رہے ہیں۔
’وقت آگیا ہے کہ ہم کووڈ 19 کی احتیاطی تدابیر کو دوبارہ سنجیدگی سے دیکھنا شروع کر دیں، ورنہ ہمیں سختیاں کرنی پڑیں گی جس سے لوگوں کا روزگار متاثر ہوگا۔‘
فرانس کے نو شہروں میں کرفیو

،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس میں کورونا وائرس کی دوسری لہر سے بچنے کے لیے حکام نے پیرس سمیت نو شہروں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ امریکی خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے 14 سالہ بیٹے بیرن بھی کووڈ 19 سے متاثر ہوئے تھے مگر اب صحتیاب ہوچکے ہیں۔
فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ نیا کرفیو سنیچر سے نافذ کردیا جائے گا اور اس دوران رات نو بجے سے صبح چھ بجے تک گھر سے باہر نکلنے پر پابندی ہوگی۔
اس کے ساتھ فرانس میں صحت کی ہنگامی صورتحال کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔
دریں اثنا یورپ میں کئی ممالک کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
جرمنی نے ایسے علاقوں میں بار اور ریستوراں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے جہاں کووڈ 19 پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہے۔ بدھ کے روز یہاں اپریل کے بعد پہلی بار 5000 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نئے اقدامات کے مطابق اب نجی محفلوں میں زیادہ سے زیادہ 10 لوگوں کے اکٹھے ہونے کی اجازت ہوگی۔
نیدرلینڈز میں بھی جزوی لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جس میں کیفے اور ریستوراں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سپین کے علاقے کیتالونیا میں جمعرات سے 15 روز کے لیے بار اور ریستوراں بند رکھنے کا کہا گیا ہے۔ چیک ریپبلک میں سکول اور بار بند رہیں گے۔ یہاں گذشتہ دو ہفتوں میں ایک لاکھ افراد میں انفیکشن ریٹ 581.3 ہے جو سب سے زیادہ ہے۔
آئرلینڈ کی حکومت نے جمعرات سے دوسروں کے گھر آمد پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس دوران صرف تیمارداری اور بچوں سے ملاقات کی اجازت ہوگی۔
’ٹرمپ کے صاحبزادے بھی کورونا سے متاثر ہوئے تھے‘
میلانیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہمارا خدشہ اس وقت درست ثابت ہوا' جب بیرن کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’خوش قسمتی سے وہ صحت مند نوجوان ہیں اس لیے ان میں کورونا کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔‘
یاد رہے امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ سمیت صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کے عملے کے ارکان بھی کورونا سے متاثر ہوئے تھے مگر اب وہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔
امریکی ریاست آئیوا میں انتخابی مہم پر جانے سے قبل صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز کو بتایا کہ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے 'ٹھیک' ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
26 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ایمی بیرٹ کی امریکی سپریم کورٹ کے لیے جج کی نامزدگی کی تقریب کو صدر ٹرمپ اور دیگر افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کی وجہ خیال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ دو اکتوبر کو صدر ٹرمپ اور امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے کورونا سے متاثر ہونے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی میلانیا ٹرمپ کی چیف آف سٹاف نے میڈیا کو بتایا تھا کہ بیرن ٹرمپ کا کورونا ٹیسٹ نیگیٹو آیا ہے۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مرتب کردہ اعدادو شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک ریکارڈ 78 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ دو لاکھ 16 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
میلانیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'دو ہفتے قبل جب میں اور صدر ٹرمپ کورونا سے متاثر ہوئے تو اس وقت میرا دھیان فوراً قدرتی طور پر اپنے بیٹے کی جانب گیا۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں بیرن ٹرمپ کا کورونا ٹیسٹ منفی آنے پر 'بہت شکر ادا' کیا لیکن بعدازاں ان میں بھی وائرس کی تصدیق ہو گئی تھی۔
امریکی خاتون اول کا کہنا تھا 'ایک طرح سے یہ اچھا تھا کہ ہم تینوں کورونا سے ایک ساتھ متاثر ہوئے تھے اس طرح سے ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔' اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ جسم درد، کھانسی اور تھکاوٹ سمیت انھیں کورونا کی 'تمام علامات' برداشت کرنے کے تجربے سے گزرنا پڑا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ 'کورونا سے صحت یابی کے لیے میں نے قدرتی طریقہ علاج اختیار کیا اور صحت مند خوراک اور مخلتف وٹامنز کا استعمال کیا۔'
واضح رہے کہ امریکی خاتون اول نے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس میں ہی قرنطینہ اختیار کیا تھا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین دن کے لیے میری لینڈ کے والٹر ریڈ ملٹری ہپستال داخل ہوئے تھے۔
کورونا سے صحت یابی کے بعد انھوں نے گذشتہ پیر سے اپنی انتخابی مہم کا دوبارہ آغاز کیا تھا اور اپنے حمایتوں کو بتایا تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ 'طاقتور' محسوس کر رہے ہیں۔
ان کی ذاتی معالج نے اتوار کو کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اب کسی دوسرے کو کورونا سے متاثر نہیں کر سکتے۔
صدر ٹرمپ ان دنوں اپنی صدارتی انتخابی مہم میں مصروف ہیں کیونکہ تین نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں اب چند ہی ہفتے باقی ہیں۔













