دریائے نیل: ایک بند سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ایتھوپیا کیوں ناراض

،تصویر کا ذریعہReuters
ایتھوپیا کے وزیر اعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر کہ مصر دریائے نیل پر متنازع بند کو تباہ کر دے گا کے رد عمل میں کہا ہے کہ ان کا ملک ’کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔‘
افریقی ملکی ایتھوپیا میں ’گرینڈ ایتھوپین رینیساں‘ کے نام سے تعمیر ہونے والا بند، مصر اور سوڈان کے بیچ ایک طویل عرصے سے جاری تنازعہ کا سبب بنا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مصر بند کے ساتھ نہیں رہ سکے گا اور وہ شاید اسے ’اڑا دے۔‘
ایتھوپیا مانتا ہے کہ اس تنازع میں امریکہ مصر کا ساتھ دے رہا ہے۔
امریکہ نے ستمبر میں اس وقت ایتھوپیا کے لیے مالی مدد میں کٹوتی کا اعلان کیا تھا جب افریقی ملک نے جولائی میں اس بند کو بھرنا شروع کیا تھا۔
ہفتے کے روز ایتھوپیا کے وزیر خارجہ نے امریکی سفیر کو طلب کر کے صدر ٹرمپ کے تبصرے پر وضاحت مانگی۔
بند کیوں متنازع ہے؟
مصر اپنی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دریایے نیل پر انحصار کرتا ہے اور خدشہ یہ ہے کہ یہ ذریعہ منقطع ہوجائے گا جس سے اس کی معیشت کو نقصان پہنچے گا کیونکہ ایتھوپیا نے افریقہ کے سب سے طویل دریا کے بہاؤ کو اپنے اختیار میں لے لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چار ارب ڈالر کی لاگت کا سے تمعیر کیا جانے والا یہ بند مکمل ہونے کے بعد مغربی ایتھوپیا کے نیلے نیل پر افریقہ کا سب سے بڑا پن بجلی کا منصوبہ ہوگا۔
ایتھوپیا کتنی تیزی سے بند کو بھرتا ہے اس سے مصر پر پڑنے والے اثرات کی شدت کا اندازہ ہوے گا- جہاں تک قاہرہ کا تعلق ہے اس کے لیے اس بند کو پانی سے بھرنے کی رفتار جتنی سست ہو اتنا ہی اچھا ہے۔ اس عمل کی تکمیل میں کئی سال لگنے کی توقع ہے۔
سوڈان جو مصر سے پانی کے بہاؤ میں زیادہ اونچی سطح کی طرف ہے اس کو بھی پانی کی قلت کا خدشہ ہے۔
ایتھوپیا نے 2011 میں بند کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی معاشی ترقی کے لیے بند ضروری ہے۔
تینوں ممالک کے مابین مذاکرات کی سربراہی امریکہ کر رہا تھا لیکن یہ اب افریقی یونین کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔
ایتھوپیا کے وزیر اعظم نے کیا کہا؟
وزیر اعظم ابی احمد نے صدر ٹرمپ کے بیان پر براہ راست جواب نہیں دیا لیکن انہوں نے عزم کا اعادہ کیا کہ ایتھوپیا بند کی تعمیر کو مکمل کرے گا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "ایتھوپیا کسی بھی قسم کی جارحیت کا شکار نہیں ہوگا۔
"ایتھوپیا کے لوگوں نے اپنے دشمنوں کے آتے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے ہیں۔
اس معاملے پر کسی بھی قسم کی دھمکیاں ’گمراہ کن، غیر نتیجہ خیز اور بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہیں۔‘
ایک الگ بیان میں وزارت خارجہ نے کہا: ’ایک امریکی صدر کی طرف سے ایتھوپیا اور مصر کے مابین جنگ بھڑکانا نہ تو ایتھوپیا اور امریکہ کے مابین طویل عرصے تک شراکت داری اور حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین میں یہ قابل قبول ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ٹرمپ کیوں ملوث ہوئے؟
صدر نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سامنے سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک اور اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے فون پر بات کی۔
وہ امریکہ کی سربراہی میں اسرائیل اور سوڈان میں سفارتی تعلقات پر اتفاق ہونے کا اعلان کر رہے تھے۔
بند کا موضوع سامنے آیا اور ٹرمپ اور ہمدوک نے تنازعہ کے پرامن حل کی امید ظاہر کی۔
لیکن ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ "یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے کیونکہ مصر اس طرح سے زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہے گا"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اور میں نے یہ کہا اور میں اسے صاف اور شفاف طریقے سے کہتا ہوں کہ وہ اس بند کو اڑا دیں گے۔ انہیں کچھ تو کرنا ہوگا۔"

،تصویر کا ذریعہReuters
مذاکرات کی صورت فی الحال کیا ہے؟
وزیر اعظم ابی احمد کا خیال ہے کہ افریقی یونین کی مصالحت سے مذاکرات میں مزید پیشرفت ہوئی ہے۔











