’ہم نے وین میں رہنے کے لیے اپنا سب کچھ فروخت کر دیا‘

،تصویر کا ذریعہthis_mother_life
- مصنف, فرانسیسکا جیلیٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
29 سالہ میگ وارڈ کہتی ہیں ’ہم تقریباً باتھ روم میں ہی رہتے ہیں، یہ وہ سائز ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔‘
میگ کا تعلق برطانیہ کی کاؤنٹی ڈربی شائر کے علاقے بکسٹن سے ہے۔
چند ماہ قبل انھوں نے اور اُن کے شریکِ حیات جوش نے اپنا گھر اور فرنیچر فروخت کر دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ باقی سب کچھ ’13 برس کی خاندانی زندگی کو پیک کر کے سٹور میں رکھ دیا گیا۔‘
انھوں نے ایک وین خریدی جو کہ یہ جوڑا ایک طویل عرصے سے لینا چاہ رہا تھا۔ اب یہ لوگ اس میں رہتے ہیں اور اپنی چار سالہ بیٹی میرلوو کے ساتھ یورپ میں گھوم رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میگ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے اپنی نئی زندگی کی پہلی صبح فرانس جانے کے لیے فیری پکڑی تو ’ہم ظاہر ہے کہ بہت خوفزدہ تھے۔ اپنی ساری چیزیں بیچ دینا بہت ہمت کا کام ہے مگر یہ بہت ولولہ انگیز بھی ہوتا ہے، جو آزادی آپ کو اس سے ملتی ہے وہ حیران کُن ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہthis_mother_life
یہ خاندان اکیلا نہیں ہے۔ یہ رجحان پہلے ہی امریکہ اور آسٹریلیا میں کافی مقبول ہے اور کنورٹ کی گئی وینز میں رہنا اور سفر کرنا اب برطانیہ میں بھی رواج پا رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وبا سے اس کو فروغ ملا ہو۔
آٹو ٹریڈر کے مطابق کمرشل گاڑیوں کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس ایڈورٹائزنگ ویب سائٹ نے اپنے ایک حالیہ سروے میں پایا کہ نئے وین مالکان میں سے زیادہ تر نے کہا کہ انھیں وین ذاتی استعمال مثلاً شوق، سفر اور کنورٹ کرنے کے لیے چاہیے تھی۔
مگر یہ رجحان روایتی ملازمت پیشہ لوگوں کی کاروان گاڑیوں میں چھٹیوں سے بہت مختلف ہے۔ اگر انسٹاگرام پر #vanlife لکھ کر سرچ کیا جائے تو 80 لاکھ پوسٹس سامنے آ جاتی ہیں جن میں وینز میں لگژری سہولیات فٹ ہوئی نظر آتی ہیں یا ساحلِ سمندر پر ڈوبتے سورج کے ساتھ فریم بنانے کے لیے اُن کے دروازے کھلے نظر آتے ہیں۔
ایسیکس سے تعلق رکھنی والی ایمیلی کوٹ گروو اور اُن کے شریکِ حیات اولی وین لائف کنورژنز نامی کمپنی چلاتے ہیں۔ ایمیلی کہتی ہیں کہ ’بنیادی طور پر گاہکوں کی دو اقسام ہیں۔‘
اگر آپ ان دونوں کو ایک کمرشل وین دیں تو یہ آپ کو 28 ہزار پاؤنڈ میں یہ وین کنورٹ کر کے دے دیں گے۔
’ایک مارکیٹ تو 25 سے 35 سال عمر کے لوگوں کی ہے، شاید وہ بغیر دفتر کے کام کرتے ہیں اور کام کرتے کرتے سفر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اب وہ کہیں سے بھی کام کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری مارکیٹ وہ بڑی عمر کی نسل ہے جنھوں نے ماضی میں موٹرہومز دیکھ رکھے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہVanlife Conversions
ایمیلی کو لگتا ہے کہ کورونا وائرس نے وین کنورژن کی طلب میں اضافہ کیا ہے کیونکہ وبا کے باعث گھر سے کام کرنے کو کہیں زیادہ رواج ملا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’کووڈ سے قبل ہمارے پاس چھ سے آٹھ ماہ کی ویٹنگ لسٹ تھی اب ہم لوگ اگلے 18 ماہ تک کے لیے بُک ہو چکے ہیں۔‘
’لوگوں کو یہ احساس ہوا ہے کہ برطانیہ میں دیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے اور ایسا کرنے کے لیے بہت سی جگہیں ہیں اور یہ وہ سمجھوتہ نہی جو آپ کو کیمپنگ کرنے پر ملتا ہے بلکہ یہ درحقیقت ایک چلتا پھرتا اپارٹمنٹ ہے۔ آپ کو واقعی یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ سفر کرنے کا ایک لگژری طریقہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہVanlife Conversions
مگر کئی لوگوں کے لیے وین کو کنورٹ کروانا استطاعت سے باہر ہو سکتا ہے۔ کئی لوگ وین کو خود کنورٹ کرنے کا انتخاب کرتے ہیں جو کہ کافی سستا پڑ سکتا ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران ویسٹ یارکشائر سے تعلق رکھنے والی کلوئی نیش نے اپنی گاڑی بیچ کر ایک استعمال شدہ وین خرید لی۔
وہ کچھ برسوں سے ایسا کرنا چاہتی تھیں مگر ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ وہ کہتی ہیں ’میرے لیے کووڈ 19 کی واحد مثبت بات یہ ہے کہ میں اس سے پیسے بچانے میں کامیاب ہوئی۔‘

،تصویر کا ذریعہChloe Nash

کئی ہفتوں تک وہ اپنی شامیں اسے کنورٹ کرنے میں گزارتی رہیں۔ انھوں نے اسے انسولیٹ کیا، اس کے اطراف میں قالین اور فرش پر لینو لگایا۔
انھوں نے جو سب سے مہنگی چیز خریدی وہ ایک بیڈ تھا جو انھوں نے 575 پاؤنڈ میں اپنی ضروریات کے حساب سے بنوایا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس یہ بیڈ بنانے کے لیے ’مہارت، اوزار اور وقت‘ نہیں تھا۔
کلوئی نے ایک شاور بھی لگایا جو وین کے عقب میں موجود سگریٹ لائٹر میں لگ کر پچھلے دروازے سے لٹک سکتا ہے۔ یہ پہلے سے چولہے پر گرم کیے گئے پانی کو پمپ کر سکتا ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ وین کے علاوہ باقی پورے پراجیکٹ پر کوئی ایک ہزار پاؤنڈ کے قریب خرچہ آیا۔

،تصویر کا ذریعہChloe Nash

وہ کہتی ہیں ’کچھ لوگوں نے پوچھا تھا کہ یہ کیسا آئیڈیا ہے اور اب میں کہہ سکتی ہوں کہ یہ وہ بہترین آئیڈیا ہے جو مجھے آیا اور جس پر میں نے عمل کیا۔‘
کلوئی اب وین کے اپنے تجربات کی بلاگنگ کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پراجیکٹ نے انھیں کافی خود اعتمادی دی ہے۔ ’اپنی وین خریدنے سے میرے زندگی بہت تبدیل ہوئی ہے۔ اب مجھے اپنی آزادی حاصل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہChloe Nash

کلوئی کی طرح میگ بھی آزادی کے اس احساس سے متاثر ہوئیں جو وین کی زندگی فراہم کرتی ہے مگر وہ کہتی ہیں کہ اس سے انھیں اپنی بیٹی میرلوو کو نئے تجربات سے آشنا کروانے کا موقع بھی ملا ہے۔
اُن کا یہ سفر اپنے خاندان کی مرسیڈیز سپرنٹر وین میں جاری ہے جو انھوں نے 40 ہزار پاؤنڈ میں خریدی تھی۔
پرتگال سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا: ’مجھے برطانیہ میں اپنی زندگی پسند تھی۔ مجھے کبھی نہیں لگا کہ میں کسی چیز سے بھاگ رہی ہوں۔ ایسا نہیں کہ ہم اپنی ایسی زندگی سے بھاگ نکلنا چاہتے تھے جو ہمیں پسند نہیں۔‘
’برطانیہ میں ہم نے پایا کہ ہم اب بھی اُن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جن کا بہت سے والدین کو سامنا ہوتا ہے، جیسے کہ کیا ہم اسے مختلف جگہیں دکھا رہی ہیں یا نہیں، کیا وہ کافی تعداد میں مختلف چیزیں دیکھ رہی ہے یا نہیں، یا کہیں وہ سکرین کے سامنے بہت وقت تو نہیں گزار رہی۔ اس کے برعکس وین میں رہنے کا مطلب ہے کہ قدرتی جگہوں پر کھیلنا۔ وہ ایسے بچوں سے بات کرتی ہے جو دوسری زبانیں بولتے ہیں۔‘
’مجھے انسٹاگرام پر روزانہ پیغامات آتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ ان میں اتنی ہمت ہوتی کہ وہ یہ سب کچھ کر سکیں جو میں کر رہی ہوں، مجھے یہ سن کر افسوس ہوتا ہے۔ آپ یہ کر سکتے ہیں۔ آپ کو یہ کرنے کے لیے ہماری طرح چیزیں فروخت نہیں کرنی ہوں گی۔ ضروری نہیں کہ آپ اس کے لیے ویسے ہی خود کو وقف کر دیں جیسے ہم نے کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہthis_mother_life
اور ظاہر ہے کہ اس سے پوری کہانی پتا نہیں چلتی۔ کئی لوگوں کے لیے وین میں رہنا زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔
نارویچ میں رہنے والے برنی ایرڈمین سنہ 2014 سے کُل وقتی طور پر وین میں ہی رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میرے معاملے میں کچھ مجبوری بھی تھی۔ میرا تعلق ختم ہو گیا تھا اور میرے پاس ایک چھوٹی سی وین تھی جسے میں نے اِدھر اُدھر گھوم کر کیمپنگ کرنے کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ میں عارضی طور پر یہ وین لے کر نکل گیا اور اس دوران بچت کرنے کی کوشش کی۔‘

،تصویر کا ذریعہBarny Erdman
’میں چھوٹی جگہ کا عادی ہو گیا، میں اس بات کا عادی ہو گیا کہ یہی اب میرا گھر ہے۔ سو میں نے سوچا کہ میں یہ کام کروں گا۔‘
36 سالہ بارنی جو سینزبری کے لیے ڈیلیوری ڈرائیور کا کام کرتے ہیں، اب اپنی تیسری وین لے چکے ہیں جو کہ ایک پرانی پولیس ویگن ہے۔ کسی وقت میں وہ ایک پرانی موبائل لائبریری میں تھے لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ ’بہت بڑی تھی۔ اسے کچھ جگہوں پر پارک کرنا عذاب بن جاتا تھا۔ کوئی بھی فاصلہ طے کرنا بہت مشکل ہو جاتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہBarny Erdman
وین کی زندگی سے جو آزادی کا احساس ملتا ہے وہ اس کا خوب مزہ لیتے ہیں۔ اور ویسے تو وین لائف کے رجحان میں حالیہ اضافے سے اُنھیں کوئی غصہ نہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ ’وین کی زندگی کو امیرانہ انداز میں ڈھالنے جیسا ہے۔‘
وہ اس شعبے میں نئے آنے والے لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہر کسی کا اپنا انداز ہے۔ اگر کسی کو یہ کرنا ہے تو وہ یہ کر سکتے ہیں تب تک جب تک کہ وہ قواعد کی پاسداری کریں اور دوسرے لوگوں کی عزت کریں۔‘
’گھر سے کام کے اس پورے معاملے نے میرے نزدیک بہت مشکلات پیدا کی ہیں۔ یہ ان لوگوں کو بھی اس میں لے آیا ہے جو اس کا ذہن نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے میں نے بہت سے لوگوں کو کچرا پھینکتے ہوئے اور کسی جھاڑی میں اپنا ٹوائلٹ خالی کرتے ہوئے دیکھا ہے جس سے ظاہر ہے کہ مقامی لوگوں کو غصہ آتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBarny Erdman
اور وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نوٹ کیا ہے کہ اس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ’کئی برسوں تک یہ اُن لوگوں کا طرزِ زندگی رہا ہے جو مالی طور پر بہت مستحکم نہیں تھے۔ جیسے کہ لوگ رہنے کے لیے پرانی وینز اور چیزیں خریدتے تھے جن میں کچھ سو پاؤنڈ تک خرچ ہوتے تھے۔‘
آٹوٹریڈر کے تجزیے سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے۔ رواں ستمبر میں گذشتہ ستمبر کے مقابلے میں استعمال شدہ کمرشل گاڑی کی قیمت 20 فیصد زیادہ تھی۔
اور جب برطانیہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں سردیاں گھروں میں گزارنے کی تیاری کر رہا ہے تو اس سے بھی کسی چھوٹی جگہ میں وقت گزارنے کا خیال اتنا زیادہ پُرکشش محسوس نہیں ہو گا۔
مگر دوسری جانب شاید وین کا طرزِ زندگی اس سادہ زندگی کی جانب منتقلی سے ملتا جلتا ہے جس کے ہم سب قومی لاک ڈاؤن میں عادی ہوگئے تھے؟
میگ کہتی ہیں: ’وین میں رہنا اور کم چیزوں کے ساتھ رہنا ایک اچھی زندگی ہے۔ میں ضرور اس کا مشورہ دوں گی۔‘










