یورپی یونین کی جانب سے ترکی کی ‘اشتعال انگیزی‘ کے خلاف پابندیوں کی دھمکی

ترکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنترکی کا بھیجا گیا تحقیقی جہاز جس کے ذریعے ترکی بحیرہ روم میں توانائی کے نئے ذخائر تلاش کر رہا ہے

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کی جانب سے یونان کے ساتھ توانائی کے وسائل اور سمندری سرحدوں کے تنازعے کے حوالے سے ’اشتعال انگیزی اور دباؤ‘ کی وجہ سے وہ ترکی پر پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان ڈرلائن نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ مشرقی بحیرہِ روم میں یک طرفہ اقدامات سے اجتناب کریں۔

انھوں نے یہ بات جمعے کے روز برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں کی ایک ملاقات کے دوران کی۔

اس سے قبل ترکی اور یونان نے ہاٹ لائن تشکیل دی ہے تاکہ خطے میں ممکنہ جھڑپوں سے بچا جا سکے۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب ترکی نے تیل اور گیس کے ممکنہ ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک متنازع علاقے میں اپنے بحری جہاز بھیجے۔

یہ بھی پڑھیے

یورپی یونین نے کیا کیا ہے؟

ارسلہ وان ڈرلائن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین ترکی کے ساتھ ایک مثبت اور تعمیری رشتہ چاہتا ہے اور یہ ترکی کے مفاد میں ہی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا تبھی ہو سکتا ہے جب دباؤ اور اشتعال انگیزی روکی جائے۔ ’اسی لیے ہم توقع کرتے ہیں کہ ترکی اب یک طرفہ اقدامات نہیں کرے گا۔ اگر ترکی نے ایسا دوبارہ کیا تو یورپی یونین اپنے پاس موجود تمام آلات اور طریقوں کو استعمال کر سکتا ہے۔ ہمارے پاس ایک ٹول باکس ہے جسے ہم فوراً استعمال کر سکتے ہیں۔‘

یورپی یونین

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان ڈر لائن اور یورپی کونسل کے صدر چارلز میکل

یورپی یونین کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ دسمبر میں ترکی کے رویے کا جائزہ لیں گے اور اگر اشتعال انگیزی نہیں رکی تو یونین کی جانب سے ملک پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

آسٹریا کے چانسلر سبیسٹیئن کرز نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ’اگر ترکی نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں روکی تو یورپی یونین کی طرف سے پابندیوں کی واضح دھمکی ہے۔‘

یورپی کونسل کے صدر چارلز میکل نے کہا ہے کہ یورپی یونین ترکی کو تجارت اور دیگر معاملات میں قریب تر روابط کی پیشکش کر رہا ہے مگر اس کے لیے بحیرہِ روم میں کشیدگی کم ہونی ضروری ہے۔

معاملہ ہے کیا؟

یورپی یونین اور ترکی کا رشتہ بہت عرصے سے کشیدہ رہا ہے۔

ترکی کافی عرصے سے یورپی یونین کا رکن بننے کا امیدوار ہے مگر اس سلسلے میں کوششیں تاخیر کی شکار رہی ہیں۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے ترکی میں انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ریکارڈ پر تنقید کی ہے خصوصاً 2016 میں ایک فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے تناظر میں۔

مگر تناؤ کے باوجود ترکی یورپی یونین کے لیے ایک اہم پارٹنر ہے۔ ترکی میں لاکھوں پناہ گزین موجود ہیں اور انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ اس سلسلے میں ایک محدود معاہدہ بھی کیا ہے۔

ترکی اور یونان دونوں نیٹو کے رکن ہیں مگر ان کے درمیان سمندری حدود پر تنازع کی ایک تاریخ بھی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اگست میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ترکی نے یونان کے ایک جزیرے کاسٹیلوریزو کے جنوب میں ایک ریسرچ جہاز بھیجا۔ اس علاقے پر ترکی، یونان، اور قبرص تینوں ہی دعوے دار ہیں۔

ترکی
،تصویر کا کیپشنمشرقی بحیرہ روم میں کون کون کس حصے پر ملکیت کا دعوے دار ہے
1px transparent line

یونان نے اس اقدام کو ’سنگین اشتعال انگیزی‘ کہا اور یورپی یونین نے اپنے اراکین یونان اور قبرص کی حمایت کی۔

تاہم گذشتہ ماہ کشیدگی میں کمی اس وقت ہوئی جب یہ جہاز ترک حدود میں لوٹ آیا اور دونوں جانب سے کہا گیا کہ وہ مذاکرات پر راضی ہیں۔

ملٹری ہاٹ لائن کیوں بنائی گئی؟

جمعرات کے روز برسلز میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے بعد فوجی ہاٹ لائن کا اعلان کیا گیا۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جنز سٹولٹنبرگ کا کہنا تھا کہ ’میں عسکری کشیدگی کو کم کرنے کے اس نظام کا خیر مقدم کرتا ہوں جو کہ دونوں نیٹو اتحادیوں ترکی اور یونان کے درمیان تعمیری بات چیت کے بعد بنی ہے۔‘

’اس حفاظتی نظام سے سفارتی کوششوں کو جگہ ملے گی تاکہ بنیادی تنازع کو حل کیا جا سکے اور ہم اس سلسلے میں مدد کے لیے تیار ہیں۔‘

ایسے نظام کا مقصد دونوں کے درمیان بات چیت کا چینل کھلا رہنا اہم ہوتا ہے۔ روس اور امریکہ نے سرد جنگ کے دوران بھی ایک ہاٹ لائن بنائی تھی جو آج بھی چل رہی ہے۔

گذشتہ ماہ فرانس جو کہ خود بھی ترکی کے ساتھ لیبیا میں بحران کی وجہ سے کشیدگی میں پھنسا ہوا ہے، اس نے بھی مشرقی بحیرہِ روم میں ترکی اور یونان کے درمیان تناؤ کے باعث دو لڑاکا رفال طیارے اور ایک چھوٹا بحری جہاز بھیج دیا تھا۔