ترکی یونان کشیدگی: فرانس کا مشرقی بحیرہ روم میں رفال طیارے اور بحری جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان

رافیل

،تصویر کا ذریعہReuters

ترکی اور یونان میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پس منظر میں فرانس مشرقی بحیرہ روم میں ایک بحری جنگی جہاز اور دو رفال طیارے بھیج رہا ہے۔

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرہ روم کے متنازع حصوں میں تیل اور گیس دریافت کرنے کی کارروائی بند کرے۔ ترکی کے بحری جہاز نے پیر کو اس علاقے کا سروے کرنا شروع کیا تھا جس پر یونان کی طرف سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے یونان کے وزیر اعظم کریاکوس میٹسوتاکس سے کہا کہ فرانس کی فوج صورت حال کی نگرانی کرے گی۔

اس علاقے میں قابل قدر مقدار میں معدانیات اور قدرت وسائل موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ بات چیت ہی بحیرہ روم میں مسئلہ کا حل ہے اور ان کا ملک کسی مہم جوئی کا متلاشی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سمجھداری اور عقل سے کام لیا جائے تو ایک ایسا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے جو سب کے مفاد میں ہو اور سب کے لیے قابل قبول ہو۔

قبرص میں بھی قدرتی اور معدنی وسائل دریافت کرنے کے حقوق کے معاملے پر تنازع ہے۔ جمہوریہ قبرص اور یونان، ترکی کے کنٹرول والے شمالی قبرص کے لیے علاقے میں قدرتی وسائل کی دریافت کے حقوق تسلیم نہیں کرتے۔

فرانس اور ترکی کے درمیان لیبیا کی صورت حال پر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ترکی نے ٹرپولی میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کی مدد کے لیے فوج لیبیا بھیجی ہے جبکہ فرانس، روس، مصر اور محتدہ عرب امارات جنرل خلیفہ ہفتر کی فورسز کی حمایت کر رہے ہیں۔ روس اور متحدہ عرب امارات جنرل ہفتر کی فوجوں کو ہتھیار فراہم کرنے والے بڑے ملک ہیں۔

فرانس نے بیروت میں اگست کی چار تاریخ کو ہونے والے تباہ کن دھماکے کے بعد ایک ہیلی کاپٹر بردار بحری جہاز لبنان روانہ کر دیا ہے۔

ترکی کا بحری جہاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فرانسیسی بحریہ کا جہاز لا فایت یونان کی بحریہ کے ساتھ پہلے ہیں خطے میں مشترکہ مشقیں کر رہا ہے اور اب اسے علاقے ہی میں رہنے کا کہا گیا ہے۔ رافیل جنگی طیارے جو قبرص میں مشقیں کر رہے تھے اب یونان کے جزیرے کریٹ پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔

فرانس کے صدر نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ 'میں نے بحیرہ روم میں فرانس کی بحریہ کی تعداد میں عارضی طور پر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بحریہ روم میں صورت حال کافی تشویش ناک ہے۔ ترکی کے تیل اور گیس دریافت کرنے کے یک طرفہ فیصلے سے کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ یہ کشیدگی اب ختم ہونی چاہیے تاکہ ان ملکوں کے درمیان جو ہمسائے بھی ہیں اور نیٹو کے اتحادی بھی ہیں پر سکون ماحول میں مذاکرات ہو سکیں۔