ترکی اور یونان: کیا قدرتی وسائل کا یہ تنازع روس اور فرانس سمیت دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان جنگ میں بدل سکتا ہے؟

ترکی نے کہا ہے کہ وہ یونان کے سمندری حدور کی جھگڑے میں کوئی رعایت نہیں دے گا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنترکی نے کہا ہے کہ وہ یونان کے سمندری حدور کی جھگڑے میں کوئی رعایت نہیں دے گا
    • مصنف, جو آنا صبا
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

حالیہ ہفتوں میں مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی اور یونان میں کشیدگی میں اس قدر بڑھ گئی ہے کہ نیٹو کے دو ارکان کے مابین سمندری حدود اور وہاں قدرتی وسائل کو حاصل کرنے کے تنازعے کے جنگ میں بدلنے کے خطرات پیدا ہو گئے۔

حالیہ دنوں میں ترکی کے ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں شائع و نشر ہوئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ یونان نے ترکی کی سرحد کے قریب اپنے جزیرے کاسٹلریزو میں اپنی فوجیں روانہ کی ہیں۔

ترکی کے نائب صدر فواد اوکتائے نے کل ٹوئٹر پر لکھا کہ ترکی نے شمالی قبرص میں موجود فورسز کے ساتھ پانچ روزہ عسکری مشقیں شروع کی ہیں جنھیں طوفانِ روم کا نام دیا گیا ہے۔ قبرص یونان اور ترکی کے درمیان تقسیم ہے اور صرف ترکی ہی ترک جمہوریہ شمالی قبرص (ٹی آر این سی) کو تسلیم کرتا ہے۔

نائب صدر اوکتائے نے کہا: 'مشرقی بحیرہ روم میں سفارتی طریقوں کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک اور ٹی آر این سی کی سیکیورٹی ترجیحات بھی ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔'

ترکی نے کہا ہے کہ یونان اس خطے کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کر رہا ہے جو عالمی معاہدوں کے تحت غیر فوجی علاقے ہیں۔ یونان نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گارڈز کو تبدیل کرنے کی معمول کی کارروائی تھی۔

یونان کا یہ جھوٹا جزیرہ کاسٹلریزو ترکی کے ساحل سے صرف دو کلومیٹر دوری پر ہے۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی ایک بنیاد ہے۔

اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے مطابق کسی ملک کا اپنی حدود کے اندر دو سو ناٹیکل میل تک کا علاقہ اس کا خصوصی اکنامک زون تصور کیا جاتا ہے۔ ترکی اقوام متحدہ کے اس کنونشن کا حصہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیے

ترکی سمندری حدود کی اس نئی تشریح کی سختی سے مخالفت کرتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم کا بڑا حصہ یونان کا تصور ہو گا۔

ترکی کا مؤقف ہے کہ سمندری حدود کو انصاف کی بنیاد پر تقسیم ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ اس نے اپنے فوجی جہازوں کو اس متنازع علاقے میں بھیجا ہے۔

چھ اگست کو یونان اور مصر نے سمندری حدود کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس پر ترکی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور علاقے میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے جہاز ان پانیوں میں بھیجا جو اب بھی قبرص کے قریبی علاقوں میں سروے کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے علاقے میں فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔

یونان اور مصر نے گذشتہ ماہ سمندری حدود سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ جھگڑا اب یونان ترکی اور یونان کی سمندری حدود سے باہر تک پھیل چکا ہے جس میں خطے کے کئی فوجی اتحاد اور ممالک شریک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیونان اور مصر نے گذشتہ ماہ سمندری حدود سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ جھگڑا اب یونان ترکی اور یونان کی سمندری حدود سے باہر تک پھیل چکا ہے جس میں خطے کے کئی فوجی اتحاد اور ممالک شریک ہو چکے ہیں۔

کیا ترکی کی دھمکیاں حقیقت کا روپ دھار سکتی ہیں؟

ترکی اور یونان کے مابین سمندری حدود پر پہلی بار کشیدگی 2019 میں پیدا ہوئی جب ترکی اور لیبیا کی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت نے سمندری حدود کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ ترکی اور لیبیا کے معاہدے میں ایسی سمندری حدود کو شامل کیا گیا جن کو یونان اپنا سمجھتا ہے۔

اس پر کئی یورپی ممالک کے علاوہ مصر اور متحدہ عرب امارات نے اس پر اعتراض کیا۔

ترکی کا کہنا ہے اس نے 'بلیو ہوم لینڈ' کا نظریہ اپنا لیا ہے جس کا مقصد اپنے ساحلوں کے ارد گرد سمندری حدود کو محفوظ بنانا ہے۔

ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی ملک کو اسے جنوبی ساحلوں پر محصور بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔

ترکی کے نائب صدر فواد اوکتائے نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ انقرہ ان تمام نقشوں کو پھاڑ دے گا جو ان کے ملک کو محصور کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

ترکی کے صدر اور دوسرے اہلکار جارحانہ بیان بازی کے ساتھ ساتھ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

صدر اردوغان نے 26اگست کو ایک تقریر میں کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی دیکھ لے کہ ترکی ایسا ملک نہیں رہا جس کے عزم، حوصلے اور صبر کو آزمایا جا سکتا ہے۔ ہم سیاسی، فوجی اور معاشی طور پر سب کچھ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم کوئی رعایت دینے پر تیار نہیں۔‘

جب ترکی اور یونان کے مابین کشیدگی بڑھی تو نیٹو اتحاد کے ان ارکان نے اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے خطے کے اتحادوں سے مدد کے لیے رابطہ کیا۔

یونان اور قبرص نے یورپی یونین سے مدد مانگی

ترکی کو ڈر ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم کی بانٹ ہو رہی ہے جس میں سے اسے دور رکھا جا رہا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینز سٹولٹنبرگ نے تین ستمبر کو اعلان کیا کہ دونوں ممالک، یونان اور ترکی 'تکنیکی بات چیت' پر رضامند ہو گئے تاکہ کشیدگی کو کم کرنے کا طریقہ ڈھونڈا جا سکے۔

ترکی نے کہا کہ وہ یونان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن یونان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

فرانس کی طرف سے یونان کی حمایت کے اعلان پر ترکی نے ناراضی کا اظہار کیا۔ ترکی نے کہا کہ پیرس یونان کو اشتعال دلا رہا ہے تاکہ وہ سخت مؤقف اپنائے۔

اس کشیدگی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب امریکہ نے یونانی قبرص پر اسلحے کی خریداری کے حوالے سے عشروں سے عائد پابندیوں کو اٹھانےکا اعلان کیا۔

ترکی نے امریکہ سے کہا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ البتہ امریکہ نے کہا قبرص پر سے پابندیاں اٹھانے کا ترکی اور یونان کے جھگڑے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قبرص 1974 میں دو حصوں میں بٹ گیا تھا۔ صرف ترکی ترکش قبرص کو تسلیم کرتا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ترکی کے جارحانہ بیانات کی وجہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے پہلے اپنی پوزیشن کو بہتر بنانا ہے۔

ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک غلط قدم دونوں ملکوں کے مابین جنگ کا موجب بن سکتا ہے۔ ترک میڈیا نے حکومتی اشارے پر انتہائی قومی پرستی کا لب و لہجہ اپنا رکھا ہے۔

یونان کی ہچکچاہٹ

یونان نے متعدد بار ترکی کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحیرۂ روم میں سمندری حدود کے حوالے سے اٹلی اور مصر کے ساتھ معاہدے کر کے بحیرۂ روم پر اپنا حق جتایا ہے۔

یونان کے وزیر خارجہ نکولیس ڈینڈیاس نے حکومتی مؤقف کو ان الفاظ میں سمویا ہے۔ ’یونان مذاکرات چاہتا ہے لیکن میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ترکی کے ساتھ ہمارے اختلافات مشرقی بحیرۂ روم، بحیرۂ ایجین اور اس سے ملحقہ سمندری حدود پر ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور مسئلے کو مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔‘

ترکی کا جہاز ان علاقوں میں سروے کر رہا ہے جنھیں یونانی اپنی سمندری حدود سمجھتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنترکی کا جہاز ان علاقوں میں سروے کر رہا ہے جنھیں یونانی اپنی سمندری حدود سمجھتا ہے

یونان کی عشروں سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اس جھگڑے کو عالمی عدالت میں لے جائے بغیر اپنی پوزیشن کا دفاع کرے۔ یونان کی یہ کوششیں اب تک بے سود ثابت ہوئی ہیں۔

یونان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمنی اور فرانس کے اس تنازع میں شریک ہونے سے یہ بات واضح ہے کہ یونان کو آخر کار مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر دو طرفہ جھگڑوں کو حل کرنا ہو گا۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یونان کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنا ہو گا اور اسی لیے اس نے اپنا کیس تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ یونان اور مصر کے مابین سمندری حدود کے معاہدے کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں یونان نے اپنی حدود کا جو نقشہ پیش کیا ہے اس میں اس نے ترکی کی سرحد سے دو کلو میٹر دور کاسٹلریزو کو اپنا خصوصی اکنامک زون ظاہر کیا ہے۔

یونان کے مصر کے ساتھ سمندری حدود کے معاہدے کو یونان میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے سفارت کاروں نے کہا ہے کہ ان کے ممالک نے یہ معاہدہ جلد بازی میں کیا ہے۔

یونان کے سابق وزیر خارجہ نکوس کوٹزیاس جنھوں نے اٹلی کے ساتھ اسی طرح معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا تھا، کہا ہے کہ ان کی حکومت نے مصر کی تمام شرائط کو مان لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یونان کی حکومت نے اس لیے ایسا کیا ہے کہ وہ ترکی اور لیبیا کے مابین سمندری حدود کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کا توڑ کرنا چاہتے ہیں۔

فرانس اس تنازع میں کیوں شریک ہوا؟

یونان نے مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے دعوے کی حمایت کے لیے یورپی یونین سے مدد مانگی ہے۔ فرانس کے علاوہ یورپی یونین کا کوئی اور ملک یونان کی مدد کو نہیں آیا۔

فرانس نہ صرف مشرقی بحیرۂ روم بلکہ لیبیا میں ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توڑ کرنا چاہتا ہے۔ لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت ترکی کی فوجی مدد سے اپنی پوزیشن بحال کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

فرانس کے ذرائع ابلاغ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بحیرۂ روم میں معاملہ قدرتی وسائل کی تلاش سے بڑھ کر ہے۔

فرانس کے سرکاری ریڈیو چینل ’فرانس انٹر‘ نے کہا: ’جب ہمیں معلوم ہوا کہ متحدہ عرب امارات کے جنگی جہاز یونان کی فضائی مشقوں میں شریک ہیں تو ہم اسے صرف گیس و تیل کی تلاش کا معاملہ نہیں کہہ سکتے۔‘

ہفنگٹن پوسٹ کے فرانسیی ایڈیشن میں شائع ہونے والے ایک اداریے میں کہا ہے کہ جب امریکہ اس خطے کی حفاظت سے پیچھے ہٹ رہا ہے فرانس چاہتا ہے کہ اسے بحیرۂ روم کا محاذ تصور کیا جائے۔‘

فرانس نے یونان کے مؤقف کی حمایت میں خطے میں اپنے رفال جنگی جہاز اور بحری جہاز بھیجے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ کی خطے میں عدم دلچسپی کے بعد نیٹو اتحاد میں جو خلا پیدا ہوا ہے، ترکی اسے پر کرنا چاہتا ہے جو فرانس کو قابلِ قبول نہیں اور وہ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔

فرانس کے برعکس جرمنی ترکی اور یونان میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے گذشتہ ہفتے ایتھنز اور انقرہ کا دورہ کیا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ دونوں ملک آگ سے کھیل رہے ہیں۔ ڈوئچے ویلے کے مطابق جرمن وزیر خارجہ نے کہا : ’ایک چھوٹی سے چنگاری ایک بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔‘

جرمن زوئیڈوچے سائڈونگ نے 30 اپریل کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ جرمنی کی کوششوں سے نیٹو کے ان دو ممبران کے مابین سمجھوتہ طے پانے والا تھا لیکن یونان اور مصر کے سمندری حدود کے حوالے سے معاہدے نے ان ساری کوششوں پر پانی پھیر دیا۔

اٹلی بھی اس معاملے قدرے کم ملوث ہے اور اس حوالے سے یونان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر چکا ہے۔ اٹلی اس معاملے پر یونان کی بہت کم حمایت کر رہا ہے۔ اٹلی کی نظریں بھی مشرقی بحیرۂ روم پر ہیں۔

اٹلی کے وزیر خارجہ لویجی مائیو نے ترکی کے وزیر خارجہ مہولت چاؤشولو سے 14 اگست کو ٹیلیفون پر بات چیت میں واضح کیا کہ اٹلی کی ترکی کے ساتھ کشیدگی پیدا کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام فریقین کو اعتدال اور تعاون کی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔‘

البتہ اٹلی کی تیل و گیس کی کمپنی ای این آئی اس وقت یونان اور قبرص کی کمپنیوں کے ساتھ مل کر توانائی کی تلاش کر رہی ہے اور یورپی اتحادیوں کے مفادات اس کی اولین ترجیح ہیں۔ اٹلی کی اس پالیسی کی تصدیق مصر کو دو فریگیٹ فروخت کرنے کے سودے سے بھی ہوتی ہے۔

اٹلی کے میگزین سٹارٹمیگ کے مطابق مصر کو دو فریگیٹ کی فروخت ایک واضح اشارہ ہے کہ اٹلی بھی خطے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو روکنے کی کوششوں میں شریک ہے۔

ترکی کے ایک سینئر سفارت کار نے ان علاقوں کے نقشے کو ٹویٹر پر شیئر کیا ہے جہاں ترکی کا جہاز تیل و گیس کی تلاش کے لیے سروے کر رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنترکی کے ایک سینئر سفارت کار نے ان علاقوں کے نقشے کو ٹویٹر پر شیئر کیا ہے جہاں ترکی کا جہاز تیل و گیس کی تلاش کے لیے سروے کر رہا ہے۔

روس بھی اس معاملے میں کود پڑا ہے

حالیہ دنوں میں روس بھی نیوی کی مشقوں کے ساتھ اس جھگڑے میں کُود گیا ہے۔ سرکاری طور پر روس انکار کرتا ہے کہ وہ اس تنازعے میں کسی ایک فریق کی حمایت کر رہا ہے۔ ترکی خطے میں خصوصاً شام میں روس کا اتحادی ہے۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروا نے کہا کہ اگر جھگڑے کے دو فریقوں میں سے ایک آپ کا فوجی یا سیاسی اتحادی ہو، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

لیکن مشرقی بحیرۂ روم میں روس کی دو بحری مشقیں یہ پیغام واشگاف الفاظ میں دے رہی ہیں کہ وہ ایک علاقائی طاقت ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے۔

ترکی نے جو سخت مؤقف اپنایا اس کی بنیادی وجہ اسے ’ایسٹ میڈیٹرینئن گیس فورم‘ سے باہر رکھنا ہے۔ اس فورم کی بنیاد 2019 میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں رکھی گئی تھی جسے کچھ لوگوں نے بحیرۂ روم کی گیس کا اوپیک قرار دیا تھا۔ اس فورم کے ممبران میں اسرائیل، مصر، یونان، قبرص، اٹلی، اردن اور فلسطینی ہیں۔

اس فورم نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ وہ مشرقی بحیرۂ روم سے نکلنے والی گیس یورپ کو فراہم کرنے کے لیے پائپ لائن بچھائے گا تاکہ یورپ کا روس کی گیس کا انحصار ختم ہو۔

اس منصوبے کے تحت مشرقی بحیرۂ روم کی گیس پائپ لائن اسرائیل اور مصر سے گیس کو یورپ تک پہنچائے گی اور ترکی کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

ترکی کی امنگوں کا خوف

مصر کی ترکی کی مخالفت صرف بحیرۂ روم کے گیس کے ذخائر تک محدود نہیں ہے۔ اس میں لیبیا ایک وجہ ہے۔ مصر، متحدہ عرب امارت جنرل ہفتر کی لیبئن نیشنل آرمی (ایل این اے) کے حامی ہیں جبکہ ترکی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ جی این اے حکومت کا حامی ہے۔

مصر اور متحدہ عرب امارات بحیرۂ روم میں ترکی کے اقدامات کو اس کی مبینہ توسیع پسندانہ پالیسی کا حصہ تصور کرتے ہیں اور اسے روکنا چاہتے ہیں۔ وہ سیاسی اسلام سے خائف ہیں جس کا ترکی کو سپانسر سمجھا جاتا ہے۔

یونان اور مصر کے مابین سمندری حدود کے معاہدے کی وجہ بھی ترکی کی توسیع پسندانہ امنگوں کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔

مصر کی ایک آزاد ویب سائٹ 'میڈا مصر' نے ایک ایسے مصری اہلکار کے حوالے سے خبر دی ہے جو یونان کے ساتھ معاہدے کے لیے بات چیت کا حصہ تھا۔ اس اہلکار نے بتایا کہ مصر نے یونان کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے بہت ساری رعائیتیں اس لیے دی ہیں تاکہ ترکی کی توسیع پسندانہ پالیسوں کو روکا جا سکے۔

اس اہلکار نے کہا ترکی ہمیں آخری وقت تک یہ پیغامات بھیجتا رہا کہ مصر کو یونان کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بجائے لیبیا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہیے جس میں ہمارا فائدہ ہو گا۔

اس اہلکار نے مزید کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ لیبیا کے ساتھ معاہدے کی صورت میں مصر کی سمندری حدود میں اضافہ ہو سکتا تھا لیکن اس سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے تھے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں یعنی ہم بحیرۂ روم میں ترکی کے ساتھ کھڑے نظر آتے نہ کہ اس کی مخالفت میں، جو ہم کسی صورت میں بھی نہیں چاہتے۔

دوسری طرف لیبیا نے مصر اور یونان کے سمندری حدود سے متعلق معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لیبیا کی حکومت نے کہا کہ مصر اور یونان کے مابین طے پانے والے معاہدے کو نہیں مانتا اور وہ ترکی کے ساتھ سمندری حدود کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کو نافذ کرے گا۔

دوسری طرف مصر اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ لیبئن نیشنل آرمی (ایل این اے) نے مصر اور یونان کے مابین طے پانے والے معاہدے کی حمایت کی ہے۔

ترکی کی لیبیا کے معاملات میں مداخلت کو مشرقی بحیرۂ روم میں اس کے ارادوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور نہ مصر اور متحدہ عرب امارات کے ردعمل کو اس سے الگ کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔